کچھ باتیں انعاموں کی۔۔۔

کبھی ایک ہاتھ ایوارڈ دیتا تھا اور دوسرا قبول کرتا لیکن اب تیسرا ہاتھ ایوارڈ دلاتا ہے۔

کبھی ایک ہاتھ ایوارڈ دیتا تھا اور دوسرا قبول کرتا لیکن اب تیسرا ہاتھ ایوارڈ دلاتا ہے۔ فوٹو: فائل

جناب مجتبیٰ حسین بھارت میں قیام پذیر اردو کے ممتاز مزاح نگار ہیں۔مشہور ادیب و صحافی، ابراہیم جلیس مرحوم کے چھوٹے بھائی ہیں۔کچھ عرصہ پہلے انھیں دوحہ قطر کی تنظیم ''بزمِ صدف انٹرنیشنل'' نے پٹنہ میں منعقدہ اپنے جلسے میں عالمی انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔اس موقع پر کی گئی ان کی تقریر پیش خدمت ہے۔

٭٭

معزز خواتین وحضرات! جوں جوں میں اپنی تاریخ ِپیدائش سے بہت دور اور اپنی تاریخ ِوفات سے قریب ترہو رہا ہوں، مجھے شدت سے یہ احساس ہونے لگا ہے کہ میری عمر کی نقدی اب قریب الختم ہے اور مجھے ادھار کی حاجت ہے۔ یوں سمجھیے کہ اب میں ''ڈیلی ویج'' کے اصول پر زندہ رہ کر روز کی زندگی روز جیتا چلا جا رہا ہوں۔ بہت پہلے داغ دہلوی نے ایک شعر کہا تھا :

ہوش و حواس، تاب و تواں داغ جا چکے

اب ہم بھی جانے والے ہیں، سامان تو گیا

مگر میرا معاملہ یہ ہے کہ میرے تاب وتواں تو کب کے جا چکے البتہ میرے ہوش وحواس اب بھی صحیح و سالم ہیں۔یوں سمجھیے کہ میرا بڑھاپااپنے شباب پر ہے اور مجھ میں اس سے زیادہ بوڑھاہونے کی دوردور تک کوئی گنجائش نظرنہیں آتی۔ گوشہ نشینی کی زندگی گزارتا ہوں اور دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی ہے۔

اس خاکسارپرایک وقت ایسابھی بیت چکا جب انواع واقسام کے ایوارڈدینے والوںکے ہاتھوں انعام لیتے لیتے ناچیزکے دونوںہاتھ تھکنے لگے تھے۔ یہ بھی ستم ظریفی ہے کہ میری مزاح نگاری پر بائیس برسوں تک کاعرصہ بیت جانے کے باوجودکسی اردو تنظیم نے مجھے انعام دینے کے قابل نہیں سمجھاتھا۔ تاہم 1980ء میںاڑیازبان کے ادیبوںکی تنظیم، سرس ساہتیہ سمیتی نے مجھے ''ہاسیہ رتن''یعنی ''گوہرِمزاح''کے اعزاز سے نہ صرف نوازابلکہ کٹک میں دو روزہ جشن منعقد کر کے اڑیازبان میںمیرے مضامین کی ضخیم کتاب بھی شائع کی۔

میںنے اپنی زندگی میں اردو کاپہلاانعام جو پہلا غالب انعام برائے اردو طنز و مزح بھی تھا' وزیراعظم ہندوستان شریمتی اندراگاندھی کے ہاتھوںسے حاصل کیا۔ یہ 1984ء کی بات ہے۔ اس کے بعد یوںسمجھیے کہ مجھ پر اردو والوں کی طرف سے انعامات اور اعزازات کی بوچھاڑ سی لگ گئی۔ ملکی انعامات و اعزازات کے علاوہ مجھے سعودی عرب، مسقط، دوبئی، کینیڈا، برطانیہ، امریکا اور پاکستان سے بھی بیسیوں انعامات ملے۔

2000ء میںجب مجھے ہندوستانی نژاد امریکی مسلمانوں کی تنظیم (American Federation of Muslims of Indian Origin) (AFMI) کی جانب سے رات کے دوبجے فون پریہ اطلاع ملی کہ اس تنظیم نے مجھے اپنا میر تقی میرایوارڈدینے کافیصلہ کیا ہے۔ میںنے گہری نیندسے جاگ کر ہڑبڑاتے ہوئے پوچھا ''یہ میرتقی میرصاحب کون ہیں؟ گرین کارڈ ہولڈر ہیں یا باضابطہ امریکی شہری ہیں؟ انجینئر ہیں یا ڈاکٹر ہیں؟''

جواب آیا ''یہ وہی میرتقی میرہیںجنھیں ٹک روتے روتے سو جانے کی پرانی عادت تھی۔یہ الگ بات ہے کہ آپ ٹک ہنستے ہنستے سو جانے کے عادی ہیں''۔


یادش بخیر! ایسی ہی اتفاقی ہڑبڑاہٹ اور بوکھلاہٹ مجھ پراس وقت طاری ہوگئی تھی جب 2007ء میںحکومت ہندنے ناچیزکوپدم شری کے اعزاز سے نوازا تھا۔ یقین مانیے دنیا بھر سے مبارکبادیوں کے سینکڑوں فون وصول ہونے لگے اورناچیزکی زبان شکریہ اداکرتے کرتے سوکھ گئی۔ ایسے میںمیرے ایک بدخواہ اور حاسد نے جب فون پرمجھے گالیاںدینی شروع کیں توتب بھی میںیہی کہتا رہ گیا ''آپ کا بہت بہت شکریہ۔آپ کی عنایتوں اور ذرّہ نوازی کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہوں''۔

بہرحال فون اٹھاتے اٹھاتے جب میں عاجز آگیا تو میںنے اپنی اہلیہ سے کہاکہ اب فون آئے تو وہ اٹھا لیں تاکہ میںکچھ دیر آرام کر سکوں مگر پہلے ہی فون کال پرکسی نے ہماری بیگم سے پوچھ لیا ''کیا پدم شری گھرپرہیں؟''

محترمہ نے کہا ''جی ہیں تو سہی مگر ذرا آرام فرمارہے ہیں۔''

دوسری طرف سے آواز آئی: ''آپ کون بول رہی ہیں؟''

اس پرمیری اہلیہ نے بے ساختہ کہا ''میںشریمتی پدم شری بول رہی ہوں''۔

میںنے ان کے ہاتھ سے ریسیورکوچھینتے ہوئے کہا ''محترمہ! بوکھلاہٹ میںآپ بھی مزاح نگا ربنتی چلی جارہی ہیں''۔

آج جب میںپیچھے مڑکردیکھتاہوںتواحساس ہوتا ہے، انعامات دینے والوںنے ماضی میںمجھے انعام دینے کے معاملے میںاتنی عجلت اور جلدبازی دکھائی کہ انعامات کاحصول اب میرے حق میںگھاٹے کا سودا معلوم ہوتا ہے۔ 1984ء میںمجھے جو پہلا غالب انعام ملاتھا تواس کی مالیت ان دنوںدس ہزار روپے تھی۔ جب کہ آج اس کی مالیت پچھترہزارکی ہے۔ 1993ء میںجب مجھے آندھراپردیش اردو اکیڈمی کا ''کل ہند مخدوم محی الدین ایوارڈ''ملاتھاتواس کی مالیت ان دنوںپندرہ ہزارتھی جب کہ آج یہ انعام سوا لاکھ روپے کاہے۔

اسی طرح مدھیہ پردیش،کرناٹک، ہریانہ، مہاراشٹرا، پنجاب اوردہلی کی اردواکیڈیمیوںنے طنز و مزاح کے فروغ کے لیے جو انعامات مجھے دیئے تھے، ان کی مالیت تب فی کس پندرہ ہزارتھی مگر آج ان سب کی مالیت پچاس ہزار روپے ہو گئی ہے۔یوں لگتا ہے جیسے اِن اداروں نے مجھے قبل از وقت انعامات دے کر ایک گہری سازش رچائی تھی تاکہ میں تونگر اور مالدار نہ بن سکوں۔

انعامات یادآنے لگے ہیں تواب مجھے اپنے بزرگ دوست ،آنجہانی تاراسنگھ کامل کی یاد آرہی ہے جوپنجابی زبان کے بہت بڑے شاعر تھے۔انھیںجب حکومت پنجاب نے ان کی مجموعی خدمات کے اعتراف میں اپنے سب سے بڑے انعام سے نوازا تو میں نے تارا سنگھ کامل کو مبارکباد دی۔ اس پر انھوں نے آنکھ مار کر ہنستے ہوئے کہا ''میاں مجتبیٰ! اس میں مبارکباد دینے کی کیا ضرورت ہے۔ تم تو جانتے ہوکہ اس طرح کے ایوارڈکس طرح حاصل کیے جاتے ہیں''۔

ایک زمانہ تھا جب ایوارڈوں کے معاملہ میں صرف دو فریقوں کے ہاتھوں کی اہمیت ہوا کرتی تھی... ایک ہاتھ ایوارڈدیتاتھا اوردوسراہاتھ اس ایوارڈ کو قبول کرتاتھا۔لیکن اب اس میںایک تیسرا ہاتھ بھی نمودارہوگیاہے جو ایوارڈ دلاتا ہے۔ اب اہمیت ایوارڈدینے اور لینے والے کی نہیں بلکہ ایوارڈ دلانے والے کاہاتھ ہی مرکزی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

میرے ایک معصوم دوست نے برملایہ اعتراف کیا تھا کہ اس نے پچاس ہزارروپے کاایک ایوارڈ حاصل کرنے کی غرض سے جملہ پچھتر ہزار روپے خرچ کیے تھے۔ آپ کو یقیناً پتا ہوگاکہ بعض اداروںکے انعام اتنے بے توقیراورکم سوادہوچکے کہ جس کسی کویہ انعام ملے، وہ انعام یافتہ کم اورسزایافتہ زیادہ نظرآنے لگتاہے۔ خدا کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ عمرکے 85برس گزارنے کے باوجودمیںنے کسی ایوارڈکے حصول کے لیے نہ تو کسی کے آگے اپنا ہاتھ پھیلایااورنہ ہی کسی تیسرے ہاتھ کی خدمات حاصل کیں۔
Load Next Story