خیبر پختونخوا نے ملک بھر سے ایف سی پلاٹونز واپس مانگ لیں
صوبے بھرکے ساڑھے6ہزارحساس پولنگ اسٹیشنوں کیلیے فوج اسٹینڈبائی رہے گی،الیکشن کمیشن کی مشاورت سے نگراںکابینہ کافیصلہ
صوبے بھرکے ساڑھے6ہزارحساس پولنگ اسٹیشنوں کیلیے فوج اسٹینڈبائی رہے گی،الیکشن کمیشن کی مشاورت سے نگراںکابینہ کافیصلہ فوٹو اے پی پی
خیبرپختونخوا کی نگراں کابینہ نے الیکشن کمیشن کی مشاورت سے صوبے بھر کے ساڑھے6ہزار حساس پولنگ اسٹیشنوں کے لیے فوج کو اسٹینڈبائی رکھنے کا فیصلہ کیاہے جبکہ مرکز اور دیگر صوبوں سے ایف سی کی پلاٹونز فوری طورپر واپس کرنے کا مطالبہ کیاگیا ہے۔
نگراں صوبائی وزیراطلاعات مسرت قدیم نے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایاکہ صوبے بھر میں 9284 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 6512 حساس قرار دیے گئے۔ پولنگ اسٹیشنوں پر81ہزار اہلکار تعینات کیے جائیںگے جن میں پولیس کے علاوہ فارسٹ گارڈز، شہری دفاع اور قومی رضاکار شامل ہوں گے۔ انتخابات کے اخراجات کا تخمینہ 16کروڑروپے لگایا گیاہے۔ انھوں نے کہاکہ کابینہ کو بتایا گیاکہ صوبے میں امن وامان کی مجموعی صورت حال بہتر ہوئی ہے۔
مزید بہتری کے لیے ہم نے مرکز اور دیگر صوبوں سے ایف سی کی پلاٹونز واپس مانگ لی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ پولنگ ڈے پر وہی مقامی مبصرین پولنگ اسٹیشنوں میں جاسکیں گے جن کے پاس الیکشن کمیشن کے خصوصی پاس ہوں گے۔ صوبائی حکومت نے تاحال اس سمری کی منطوری نہیں دی جس کے تحت جن پولنگ اسٹیشنوں پر خواتین کے ووٹ 10فیصد سے کم ہوں وہاں نتائج کو کالعدم قراردیا جائے گا۔ انھوں نے کہاکہ جن سیاسی پارٹیوں یا رہنمائوں کو خطرات درپیش ہیں ان کو سیکیورٹی ملے گی۔ پولنگ کے روز افغان مہاجرین کو کیمپوں تک محدود کیا جائے گا۔
نگراں صوبائی وزیراطلاعات مسرت قدیم نے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایاکہ صوبے بھر میں 9284 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 6512 حساس قرار دیے گئے۔ پولنگ اسٹیشنوں پر81ہزار اہلکار تعینات کیے جائیںگے جن میں پولیس کے علاوہ فارسٹ گارڈز، شہری دفاع اور قومی رضاکار شامل ہوں گے۔ انتخابات کے اخراجات کا تخمینہ 16کروڑروپے لگایا گیاہے۔ انھوں نے کہاکہ کابینہ کو بتایا گیاکہ صوبے میں امن وامان کی مجموعی صورت حال بہتر ہوئی ہے۔
مزید بہتری کے لیے ہم نے مرکز اور دیگر صوبوں سے ایف سی کی پلاٹونز واپس مانگ لی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ پولنگ ڈے پر وہی مقامی مبصرین پولنگ اسٹیشنوں میں جاسکیں گے جن کے پاس الیکشن کمیشن کے خصوصی پاس ہوں گے۔ صوبائی حکومت نے تاحال اس سمری کی منطوری نہیں دی جس کے تحت جن پولنگ اسٹیشنوں پر خواتین کے ووٹ 10فیصد سے کم ہوں وہاں نتائج کو کالعدم قراردیا جائے گا۔ انھوں نے کہاکہ جن سیاسی پارٹیوں یا رہنمائوں کو خطرات درپیش ہیں ان کو سیکیورٹی ملے گی۔ پولنگ کے روز افغان مہاجرین کو کیمپوں تک محدود کیا جائے گا۔