پاکستان سے زرعی کاروبار کے نئے مواقع ڈھونڈ رہے ہیں، آسٹریلیا

بزنس رپورٹر  جمعرات 15 فروری 2018
وفد نے پاکستان پلس کنکلیومیں شرکت،دالوں کے امپورٹرز اورہول سیلرزسے ملاقاتیں کیں۔ فوٹو : فائل

وفد نے پاکستان پلس کنکلیومیں شرکت،دالوں کے امپورٹرز اورہول سیلرزسے ملاقاتیں کیں۔ فوٹو : فائل

 کراچی: آسٹریلیا کی ہائی کمشنر مارگریٹ ایڈمسن نے کہا کہ پاکستان اور آسٹریلیا تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ خاص طور پرایگری بزنس میں انویسٹمنٹ کو بڑھانے کے لیے نئے مواقع تلاش کررہے ہیں۔

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے دالوں کے آسٹریلوی پروڈیوسرزکے 13رکنی وفد کی منگل کو وطن واپسی کے موقع پر آسٹریلیا کی ہائی کمشنر مارگریٹ ایڈمسن نے کہا ہے کہ پاکستان آسٹریلوی دالوں کا دوسرا بڑا خریدار ہے اور2016-17 میں اس کی تجارت46 کروڑ 50 لاکھ آسٹریلوی ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔

وفد آسٹریلوی پلس ایسوسی ایشن ساؤتھ ایسٹ، فلیچرانٹرنیشنل اینڈ اسپیشل ون گرین اور فل بزنس اسپیکٹرم پر مشتمل تھا جس کی قیادت آسٹریلین حکومت کی تجارتی وسرمایہ کاری کمیشن نے کی۔

ایڈمسن نے کہا کہ پاکستان اور آسٹریلیا تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ خاص طور پرایگری بزنس میں انویسٹمنٹ کو بڑھانے کے لیے نئے مواقع تلاش کررہے ہیں۔ آسٹریلیا جنوبی کرہ عرض کا واحد ملک ہے جس سے پاکستان کی دالوں کی درآمدات میں اضافہ ہورہا ہے، آسٹریلوی دالوں کے پروڈیوسرز کا یہ دورہ ایسی سرگرمیوں کے فروغ و پاک آسٹریلیا تجارت کو مضبوط بنانے کے لیے بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

دالوں کے آسٹریلوی پروڈیوسرز کے وفد نے اپنے تین روزہ دورہ پاکستان میں پاکستانی تاجروں اور درآمدکنندگان کے ساتھ دالوں کی تجارت اور پیداوار میں اضافے کے لیے مواقع کا جائزہ لیا۔ 13 رکنی وفد نے کراچی میں پاکستان پلس کنکلیو2018 میں بھی شرکت کی جس کا اہتمام پاکستان پلسز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن نے کیا تھا، انہوں نے پاکستان پلس امپورٹرز ایسوسی ایشن پنجاب چیپٹر اور کراچی گروسرز اینڈ ہول سیلرز ایسوسی ایشن سے بھی ملاقاتیں کیں۔

واضح رہے کہ پاکستان آسٹریلیا سے دالیں ، چنا اورکنولا آئل سیڈز سمیت زرعی خوراک کا مستقل درآمدکنندہ ہے، آسٹریلین سینٹر فار انٹرنیشنل ایگریکلچرریسرچ بھی پاکستان میں دالوں کی کاشت، پیداوار اور منافع میں اضافے کے لیے حکومتی سطح پر پالیسی سازوں کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے، اس سلسلے میں وہ کسانوں اور تاجروں کی استعداد میں اضافے کے لیے تربیت بھی فراہم کررہا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔