اسکول وین پر حملہ عالمی برادری نوٹس لے

ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری بھارتی ظلم وستم کا راستہ روکنے کی ٹھوس تدبیر کرے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری بھارتی ظلم وستم کا راستہ روکنے کی ٹھوس تدبیر کرے۔فوٹو: فائل

KATHMANDU:
بھارت کے سیکولرازم اور جمہوریت پر یقین اور روادارانہ جمہوری سیاست و امن کوششوں کے سارے دعوے اس وقت بے نقاب ہوگئے جب بھارتی فوج نے ایک بار پھر کنٹرول لائن پر سیزفائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسکول وین کو فائرنگ کا نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں وین کا ڈرائیور شہید ہوگیا، اس بزدلانہ کارروائی میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا جو جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے جب کہ پاک فوج نے اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیتے ہوئے بھارتی چوکی تباہ کردی جس کے نتیجے میں 5 بھارتی فوجی مارے گئے۔

میڈیا کے مطابق بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور پاکستان نے اسکول وین کو نشانہ بنانے کے وحشیانہ اور غیر انسانی واقعہ پر شدید احتجاج کیا، مراسلہ تھمایا گیا، دفتر خارجہ نے اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا گھناؤنا فعل ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت کی غیر اخلاقی اور غیر پیشہ ورانہ کارروائیوں سے شہری خوفزدہ ہیں۔اگر تاریخی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو کنٹرول لائن کو میدان جنگ بنانے کی دانستہ پالیسی یا جنگی حکمت عملی پر مبنی شرانگیزی بھارتی عزائم کا خود ہی بھانڈہ پھوڑ دیتی ہے۔

بھارت کے سابق جنرلوں اور سینئر سیاسی مدبرین نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کی بربریت اور کشمیری عوام کے خلاف ظلم وستم سے پیدا ہونے والی صورتحال پر سخت نکتہ چینی کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام بھارت سے بدگمان ہوچکے ہیں، بھارتی تجزیہ کاروں، منجھے ہوئے سیاست دانوں اور کانگریس کی قیادت نے مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا سارا ملبہ مودی حکومت پر گرا دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کا ایک حقیقت پسند اور بے باک حصہ اس بنا پر مودی کے جنگی مشیروں اور دفاعی بزرجمہروں پر لعن طعن کرچکا ہے کہ جس وادی کو بھارت اپنا اٹوٹ انگ کہنے کا دعویدار ہے اسے بھارتی جمہوریت نے وار آف تھیٹر میں بدل دیا ہے۔

مودی سرکار کا المیہ یہ ہے اسے مکالمہ سے کوئی دلچسپی نہیں اور جب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا اور خاص طور پر افغانستان میں امن عمل کے فروغ اور دہشتگردی کے خلاف اپنی پالیسی کا اعلان کیا اس میں ٹرمپ نے غیرحقیقت پسندی اور تاریخی حقائق سے چشم پوشی سے کام لیتے ہوئے پاکستان پر ناروا الزامات لگائے اور کہا کہ خطیر امداد کے جواب میں پاکستان سے ہمیں فریب اور دروغ گوئی ملی۔

یہ امریکی الزام ڈو مور سے زیادہ درد ناک اور دلآزاری کی حد تک پاکستانی قوم کے لیے صدمہ سے کم نہ تھا جس کا پاکستان کے وزیراعظم، وزیر دفاع و خارجہ نے جواب بھی دیا اور امریکی الزامات کو رد کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا کہ اسے بھارتی عزائم اور پاکستان سے مستقل مخاصمت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔


پاکستان نے امریکا پر یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان اپنے عظیم تر قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور بھارت کو افغان عمل کی کنجی تھمانے اور خطے میں نگراں متعین کرنے کی امریکی حکمت عملی پر خاموش نہیں رہے گا۔ مگر بھارت کو جو شہ امریکی صدر ٹرمپ سے ملی اس کے بعد تو بھارت کے جنگجویانہ لب ولہجے کی شدت روز افزوں ہونے لگی ہے اور اس نے کنٹرول لائن کو گزشتہ چند برسوں سے اپنا ہدف بنا کر شہری آبادیوں تک کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے، صرف اس لیے کہ مقبوضہ کشمیر کی ناقابل یقین اور غیرمعمولی شورش نے اس کے قدم اکھیڑ دیے ہیں، اب وہ کنٹرول لائن پر بیگناہ کشمیریوں کی درد ناک ہلاکتوں سے مقبوضہ کشمیر میں نوشتہ دیوار شکست سے بچنے کی ناکام کوششوں میں الجھ گیا ہے۔

لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری بھارتی ظلم وستم کا راستہ روکنے کی ٹھوس تدبیر کرے، اقوام متحدہ اپنی قراردادوں کی حرمت کا خیال کرے اور کشمیری عوام کو حق خود ارادیت کے تحت اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دے۔

کنٹرول لائن پر شہری آبادیوں پر بھارت گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ فوری بند کرے۔ پاکستان کشمیر میں مداخلت نہیں کررہا، یہ حقیقت دنیا بھی جانتی ہے، آج کشمیر کی نئی نسل اپنی جنگ خود لڑ رہی ہے، ان کی قربانیاں رنگ لارہی ہیں ، خود سر بھارت کا رنگ فق ہوتا جارہا ہے، کشمیری عوام اپنے لہو سے ایک نئی تاریخ رقم کررہے ہیں۔ ان کی شہری آبادیوں کو نشانہ بناکر بھارت جنگی مجرم قرار پائے گا اور دنیا پاکستان کے راست موقف کو لازماً تسلیم کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔

غیر ملکی میڈیا بھارتی جنگی تیاریوں کے بارے میں ہر قسم کی رپورٹیں شایع کرچکا ہے اور ان ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر حالات کو بگڑنے سے روکا نہ گیا تو بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی جنگ بھی چھڑ سکتی ہے جس سے خطے میں شدید عدم استحکام پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا، دریں اثنا ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ٹوئٹ میں بتایا کہ کنٹرول لائن تتہ پانی سیکٹر میں واقع اس بھارتی چوکی سے آزاد کشمیر میں شہری آبادی پر گولہ باری کی جا رہی تھی۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ معصوم شہریوں کے خلاف بھارتی دہشتگردی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ پاک فوج نے بھارتی چوکی پر جوابی گولہ باری کی ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں واضح طور پر چوکی کو تباہ ہوتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ادھر ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیا و سارک) ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ ضبط و تحمل کے مطالبہ کے باوجود بھارت کی طرف سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔

بھارت نے رواں سال کے دوران اب تک کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر 335 سے زائد جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کیں جس کے نتیجہ میں 14بیگناہ شہری شہید اور65 زخمی ہوئے ہیں۔ ادھر پاکستان دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی پولیس، دفاعی حکام اور میڈیا کی جانب سے بغیر کسی تحقیق کے جموں حملے کے الزامات کی پاکستان سختی سے تردید اور انھیں مسترد کرتا ہے، بھارتی میڈیا کا ایک حصہ جان بوجھ کر پاکستان کی مخالفت کرتا ہے۔

جموں میں سیچوان پولیس کیمپ پر ہونے والے حملے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بھارت نے خود مانا تھا کہ پولیس کیمپ میں آپریشن جاری ہے لیکن الزام پاکستان پر لگادیا جس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا تھا۔ بھارت خود ہی جج، جیوری اور عملدرآمد کا فیصلہ کرتا ہے اور اپنے ان ہتھکنڈوں کی مدد سے دنیا کی توجہ کشمیر میں جاری اپنی فورسز کے مظالم سے ہٹانا چاہتا ہے۔

بھارتی حکومت کی رعونت ، بدطینتی جب کہ کشمیر کو بزور طاقت زیر تسلط رکھنے کا جنگی جنون سراسیمگی کا شکار ہے، منافقت، دو عملی اور ظالمانہ جنگی ڈاکٹرائن کا شرم ناک بھارتی چہرہ ہر جگہ دکھائی دیتا ہے لیکن وہ علاقے میں جارحیت، توسیع پسندی ، بالادستی اور جنگی ریشہ دوانیوں کا ہر وہ طریقہ اختیار کرنے کے جتن کررہا ہے جس سے وہ اپنے داخلی سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل سے بھارتی عوام کی توجہ ہٹا سکے، بھارتی فریب کاریوں کی تاریخی حقیقت اس کے سیاسی ، سفارتی اور عسکری دیوالیہ پن کو بھی بے نقاب کرتی ہے ، اسکول وین پر حملہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کی بے رحمی کا کھلا ثبوت ہے، بھارت انسانی اور اخلاقی حدود پار کرگیا ہے۔ وہ شہری آبادی پر حملے کا جنگی مجرم ہے۔دنیا اس کا نوٹس لے۔
Load Next Story