بنگلہ دیش پولیس سے جھڑپیں جماعت اسلامی کے 5حامی جاں بحق
اہلکار ملزمان کی گرفتاری کیلیے پہنچے تو ہزاروں افراد نے مزاحمت کی اور حملہ کیا،پولیس چیف۔
جنگی جرائم ٹرائلز کیخلاف جنوری سے ہونیوالے مظاہروں میں اب تک 94 افراد ہلاک ہوچکے. فوٹو: رائٹرز
بنگلہ دیش میں جنگی جرائم ٹرائلز کیخلاف جاری مظاہروں کے دوران ملک کی سب سے بڑی اسلامی پارٹی کے حامیوں اور پولیس کے درمیان جمعے کو ہونیوالی جھڑپوں میں 5افراد ہلاک ہوگئے۔
جنوری سے ہونیوالے ان احتجاجی مظاہروں میں ابتک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 94 ہوگئی ہے۔ میڈیا اور پولیس کے مطابق پہلا واقعہ چپیناوب گنج ضلع کے گائوں میں پیش آیا جب قانوں نافذ کرنیوالے اہلکارملزمان کوگرفتار کرنے وہاں پہنچے توہزاروں افراد نے مزاحمت کی پولیس نے ہجوم کو منتشرکرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس استعمال کی جبکہ مظاہرین نے پولیس پر پتھرائو،دستی بموں، لاٹھیوں سے حملہ کیا۔ ضلع پولیس افسر مطیع الرحمن نے بتایا کہ انھیں 3افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔
لیکن انھوں نے لاشیں نہیں دیکھیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ جماعت اسلامی کے 3حامی ہلاک ہوگئے جن میں 2 موقع پر اور ایک اسپتال پہنچ کر چل بسا۔ اسی طرح سراج گنج ضلع میں بھی گولیاں لگنے سے جماعت اسلامی کے 2 حامی جاںبحق ہوئے۔ مقامی پولیس سربراہ شمس الرحمان کے مطابق پولیس کو اپنے دفاع میں گولی چلانا پڑی۔
جنوری سے ہونیوالے ان احتجاجی مظاہروں میں ابتک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 94 ہوگئی ہے۔ میڈیا اور پولیس کے مطابق پہلا واقعہ چپیناوب گنج ضلع کے گائوں میں پیش آیا جب قانوں نافذ کرنیوالے اہلکارملزمان کوگرفتار کرنے وہاں پہنچے توہزاروں افراد نے مزاحمت کی پولیس نے ہجوم کو منتشرکرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس استعمال کی جبکہ مظاہرین نے پولیس پر پتھرائو،دستی بموں، لاٹھیوں سے حملہ کیا۔ ضلع پولیس افسر مطیع الرحمن نے بتایا کہ انھیں 3افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔
لیکن انھوں نے لاشیں نہیں دیکھیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ جماعت اسلامی کے 3حامی ہلاک ہوگئے جن میں 2 موقع پر اور ایک اسپتال پہنچ کر چل بسا۔ اسی طرح سراج گنج ضلع میں بھی گولیاں لگنے سے جماعت اسلامی کے 2 حامی جاںبحق ہوئے۔ مقامی پولیس سربراہ شمس الرحمان کے مطابق پولیس کو اپنے دفاع میں گولی چلانا پڑی۔