کراچی اسٹاک مارکیٹ غیر موافق حالات کے باوجود تیزی14700پوائنٹس کی حد بحال
حصص کی مالیت میں15 ارب74 کروڑ7 لاکھ37 ہزار 617 روپے کا اضافہ ہوا۔
183 کے بھائو میں اضافہ، 81 کے داموں میں کمی اور27 کی قیمتوں میں استحکام رہا، فوٹو فائل
PROVIDENCE:
حکومت کی جانب سے عدلیہ کے فیصلوں پرمحاذ آرائی برقرار رہنے، غیریقینی سیاسی حالات کے باوجود کراچی اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کو ایک بار پھر تیزی کی لہر رونما ہوئی اور طویل مذاحمت کے بعد انڈیکس کی14700 کی حد بحال ہوگئی، تیزی کے سبب63 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں15 ارب74 کروڑ7 لاکھ37 ہزار 617 روپے کا اضافہ ہوا۔
آئندہ سیشنز میں اوجی ڈی سی ایل، نیشنل بینک، پاکستان آئل فیلڈز ودیگر بڑے حجم کی کمپنیوں کے متوقع اچھے مالیاتی نتائج کے اعلانات کے پیش نظر بدھ کو غیرملکیوں سمیت مقامی انسٹی ٹیوشنز اور بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے ان کمپنیوں میں محدود پیمانے پر سرمایہ کاری کی وجہ سے مارکیٹ میں غیرمتوقع طور پر تیزی رونما ہوئی۔
ٹریڈنگ کے دوران انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے29 لاکھ44 ہزار308 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا لیکن اس انخلا کے باوجود مارکیٹ میں تیزی کے اثرات غالب رہے کیونکہ ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں کی جانب سے5 لاکھ 81 ہزار440 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے7 لاکھ61 ہزار279 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے4 لاکھ97 ہزار282 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے ایک لاکھ96 ہزار384 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے3 لاکھ 88 ہزار 809 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے5 لاکھ19 ہزار 114 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے مارکیٹ کا گراف بلندی کی جانب گامزن رہا۔
تیزی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 71.90 پوائنٹس کے اضافے سے 14744.14 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 66.85 پوائنٹس کے اضافے سے12692.31 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 158.95 پوائنٹس کے اضافے سے 25643.28 ہوگیا، کاروباری حجم منگل کی نسبت89.49 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر8 کروڑ51 لاکھ99 ہزار680 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار291 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا.
جن میں183 کے بھائو میں اضافہ، 81 کے داموں میں کمی اور27 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں یونی لیور پاکستان کے بھائو 148 روپے بڑھ کر8548 روپے اور رفحان میظ کے بھائو100 روپے بڑھ کر3800 روپے ہوگئے جبکہ یونی لیور فوڈ کے بھائو65 روپے کم ہوکر 2825 روپے اور ملت ٹریکٹرز کے بھائو10.84 روپے کم ہوکر 540.79 روپے ہوگئے۔
حکومت کی جانب سے عدلیہ کے فیصلوں پرمحاذ آرائی برقرار رہنے، غیریقینی سیاسی حالات کے باوجود کراچی اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کو ایک بار پھر تیزی کی لہر رونما ہوئی اور طویل مذاحمت کے بعد انڈیکس کی14700 کی حد بحال ہوگئی، تیزی کے سبب63 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں15 ارب74 کروڑ7 لاکھ37 ہزار 617 روپے کا اضافہ ہوا۔
آئندہ سیشنز میں اوجی ڈی سی ایل، نیشنل بینک، پاکستان آئل فیلڈز ودیگر بڑے حجم کی کمپنیوں کے متوقع اچھے مالیاتی نتائج کے اعلانات کے پیش نظر بدھ کو غیرملکیوں سمیت مقامی انسٹی ٹیوشنز اور بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے ان کمپنیوں میں محدود پیمانے پر سرمایہ کاری کی وجہ سے مارکیٹ میں غیرمتوقع طور پر تیزی رونما ہوئی۔
ٹریڈنگ کے دوران انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے29 لاکھ44 ہزار308 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا لیکن اس انخلا کے باوجود مارکیٹ میں تیزی کے اثرات غالب رہے کیونکہ ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں کی جانب سے5 لاکھ 81 ہزار440 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے7 لاکھ61 ہزار279 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے4 لاکھ97 ہزار282 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے ایک لاکھ96 ہزار384 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے3 لاکھ 88 ہزار 809 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے5 لاکھ19 ہزار 114 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے مارکیٹ کا گراف بلندی کی جانب گامزن رہا۔
تیزی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 71.90 پوائنٹس کے اضافے سے 14744.14 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 66.85 پوائنٹس کے اضافے سے12692.31 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 158.95 پوائنٹس کے اضافے سے 25643.28 ہوگیا، کاروباری حجم منگل کی نسبت89.49 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر8 کروڑ51 لاکھ99 ہزار680 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار291 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا.
جن میں183 کے بھائو میں اضافہ، 81 کے داموں میں کمی اور27 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں یونی لیور پاکستان کے بھائو 148 روپے بڑھ کر8548 روپے اور رفحان میظ کے بھائو100 روپے بڑھ کر3800 روپے ہوگئے جبکہ یونی لیور فوڈ کے بھائو65 روپے کم ہوکر 2825 روپے اور ملت ٹریکٹرز کے بھائو10.84 روپے کم ہوکر 540.79 روپے ہوگئے۔