مشرف کوجوتامارنے والے کوپڑبھی سکتاہےاحمدرضاقصوری
پیپلزپارٹی کاکیاہوگا، وقت ہی بتائے گا:ظفرالحق،پیپلزپارٹی کی بقا بہت مشکل ہے:جمشیدچیمہ
شہبازہیجان میں رہتے ہیں،سوجھ بوجھ والے آدمی نہیں:ہارون الرشید ’’تکرار‘‘میں گفتگو فوٹو : فائل
آل پاکستان مسلم لیگ کے ترجمان احمد رضا قصوری نے کہا کہ پرویز مشرف پر جوتا پھینکنا سازش ہے۔
اگر کسی نے ماحول کو خراب کیا تو پھر ہم نے بھی چوڑیاں نہیں پہن رکھیں۔ اگر کسی نے جوتا پھینکا ہے تو اس کو جوتا لگ بھی سکتا ہے۔ ایکسپریس نیو زکے پروگرام'' تکرار'' میں میزبان عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ مہذب قوموں کا یہ وطیرہ نہیں ہوتا، وہ قانون کو ہاتھ میں نہیں لیتں، ہم تو انصاف کے حصول کے لیے عدالت میں پیش ہوئے تھے ۔ انھوں نے کہا کہ ایک شخص صدراور آرمی چیف رہا ہے وہ پاکستان کی عدالت کے احترام میں خود چل کر عدالت میں پیش ہورہا ہے اور اس کا تحفظ بھی عدالت کا کام ہے ۔پرویزمشرف کے سابق ساتھی بیرسٹر سیف نے کہا کہ میں آل پاکستان مسلم لیگ سے الگ ہوچکا ہوں لیکن جوتا اچھالنے کے واقعے کی مذمت کرتا ہوں۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماراجہ ظفر الحق نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پیپلزپارٹی کمزور ہوئی ہے لیکن حتمی طورپر یہ وقت ہی بتائے گا کہ کن دوپارٹیوں میں مقابلہ ہوگا۔تحریک انصاف کے رہنما جمشید اقبال چیمہ نے کہاکہ عمران خان نے نوازشریف کا مقابلہ کرنے کا سوچا تھا لیکن پارٹی نے ان کو مارجن دیا ہے۔
پی پی دن میں خواب دیکھ رہی ہے، اب پیپلزپارٹی کی بقا بہت مشکل ہے اصل مقابلہ ن لیگ اور پی ٹی آئی میں ہی ہے ۔ن لیگ نے پہلے ان لوگوں کا مقابلہ کیا جوننگی کرپشن کرتے تھے اور اب ان کا پڑھے لکھے مڈل کلاس طبقے سے مقابلہ ہے۔تجزیہ نگار ہارون الرشید نے کہا کہ میں مشرف کا ایک لمحہ کے لیے بھی حامی نہیں ہوں لیکن جوتا مارنے کے حق میں نہیں ہوں ۔پاکستان پیپلزپارٹی ختم تو نہیں ہوگی ہاں کمزور ہوچکی ہے۔ میرا اندازہ پچھلے ڈیڑھ سال سے تھا کہ آخر میں پی ٹی آئی اور ن لیگ ہی رہ جائیںگی۔عمران خان اچھے سیاستدان نہیں ہیں وہ اچھے ایڈمنسٹریٹر ہیں۔ انسان غلطیوں سے تباہ نہیں ہوتے بلکہ غلطیو ں پر سٹینڈ لینے سے تباہ ہوتے ہیں۔ شہباز شریف سوجھ بوجھ والے آدمی نہیں، وہ ہروقت ہیجان میں رہتے ہیں۔
اگر کسی نے ماحول کو خراب کیا تو پھر ہم نے بھی چوڑیاں نہیں پہن رکھیں۔ اگر کسی نے جوتا پھینکا ہے تو اس کو جوتا لگ بھی سکتا ہے۔ ایکسپریس نیو زکے پروگرام'' تکرار'' میں میزبان عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ مہذب قوموں کا یہ وطیرہ نہیں ہوتا، وہ قانون کو ہاتھ میں نہیں لیتں، ہم تو انصاف کے حصول کے لیے عدالت میں پیش ہوئے تھے ۔ انھوں نے کہا کہ ایک شخص صدراور آرمی چیف رہا ہے وہ پاکستان کی عدالت کے احترام میں خود چل کر عدالت میں پیش ہورہا ہے اور اس کا تحفظ بھی عدالت کا کام ہے ۔پرویزمشرف کے سابق ساتھی بیرسٹر سیف نے کہا کہ میں آل پاکستان مسلم لیگ سے الگ ہوچکا ہوں لیکن جوتا اچھالنے کے واقعے کی مذمت کرتا ہوں۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماراجہ ظفر الحق نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پیپلزپارٹی کمزور ہوئی ہے لیکن حتمی طورپر یہ وقت ہی بتائے گا کہ کن دوپارٹیوں میں مقابلہ ہوگا۔تحریک انصاف کے رہنما جمشید اقبال چیمہ نے کہاکہ عمران خان نے نوازشریف کا مقابلہ کرنے کا سوچا تھا لیکن پارٹی نے ان کو مارجن دیا ہے۔
پی پی دن میں خواب دیکھ رہی ہے، اب پیپلزپارٹی کی بقا بہت مشکل ہے اصل مقابلہ ن لیگ اور پی ٹی آئی میں ہی ہے ۔ن لیگ نے پہلے ان لوگوں کا مقابلہ کیا جوننگی کرپشن کرتے تھے اور اب ان کا پڑھے لکھے مڈل کلاس طبقے سے مقابلہ ہے۔تجزیہ نگار ہارون الرشید نے کہا کہ میں مشرف کا ایک لمحہ کے لیے بھی حامی نہیں ہوں لیکن جوتا مارنے کے حق میں نہیں ہوں ۔پاکستان پیپلزپارٹی ختم تو نہیں ہوگی ہاں کمزور ہوچکی ہے۔ میرا اندازہ پچھلے ڈیڑھ سال سے تھا کہ آخر میں پی ٹی آئی اور ن لیگ ہی رہ جائیںگی۔عمران خان اچھے سیاستدان نہیں ہیں وہ اچھے ایڈمنسٹریٹر ہیں۔ انسان غلطیوں سے تباہ نہیں ہوتے بلکہ غلطیو ں پر سٹینڈ لینے سے تباہ ہوتے ہیں۔ شہباز شریف سوجھ بوجھ والے آدمی نہیں، وہ ہروقت ہیجان میں رہتے ہیں۔