سردارخان قتل کیسعدالت کا پولیس کی رپورٹ پرعدم اطمینان
اسلام آباد اور پنجاب کے پولیس سربراہان کو 22 اپریل تک مشترکہ رپورٹ جمع کرانیکی ہدایت.
اسلام آباد اور پنجاب کے پولیس سربراہان کو 22 اپریل تک مشترکہ رپورٹ جمع کرانیکی ہدایت فوٹو فائل
سپریم کورٹ نے سابق اٹارنی جنرل سردارخان کے قتل مقدمے میں اسلام آباد پولیس کی رپورٹ پرعدم اطمینان کا اظہار کر تے ہوئے اسلام آباد اور پنجاب کے پولیس سربراہان کو 22 اپریل تک مشترکہ رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
جمعے کوچیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس گلزار پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سابق اٹارنی جنرل سردار خان کے قتل کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت اسلام آباد پولیس نے مبینہ قاتل روح اللہ کی گرفتاری کی کوششوں سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کروائی۔
عدالت نے رپورٹ مسترد کرتے ہوئے اسے رسمی کارروائی قراردیا۔ چیف جسٹس نے ایس ایس پی یاسین فاروق کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ اپنے سربراہ کو بتائیں کہ ناکام ہوچکے ہیں اور اپنی معطلی کے احکام جاری کرائیں انھوں نے ایسا نہ کیا تو یہ کام عدالت کرے گی۔ آئی جی اسلام آباد پولیس بنیامین نے عدالت کو بتایا کہ 8 سے 10 وکلا کے قتل کیسز حل نہیں ہوسکے۔
عدالت نے کہاکہ اس کیس کوحل کرنے میں اسلام آباد پولیس کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے۔عدالت نے 3 ہفتے کی مہلت دینے سے متعلق ایس ایس پی یاسین فاروق کی استدعامستردکردی۔آئی جی نے کیس میں مزید پیش رفت کے لیے 30 دن کی مہلت مانگی۔
جمعے کوچیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس گلزار پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سابق اٹارنی جنرل سردار خان کے قتل کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت اسلام آباد پولیس نے مبینہ قاتل روح اللہ کی گرفتاری کی کوششوں سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کروائی۔
عدالت نے رپورٹ مسترد کرتے ہوئے اسے رسمی کارروائی قراردیا۔ چیف جسٹس نے ایس ایس پی یاسین فاروق کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ اپنے سربراہ کو بتائیں کہ ناکام ہوچکے ہیں اور اپنی معطلی کے احکام جاری کرائیں انھوں نے ایسا نہ کیا تو یہ کام عدالت کرے گی۔ آئی جی اسلام آباد پولیس بنیامین نے عدالت کو بتایا کہ 8 سے 10 وکلا کے قتل کیسز حل نہیں ہوسکے۔
عدالت نے کہاکہ اس کیس کوحل کرنے میں اسلام آباد پولیس کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے۔عدالت نے 3 ہفتے کی مہلت دینے سے متعلق ایس ایس پی یاسین فاروق کی استدعامستردکردی۔آئی جی نے کیس میں مزید پیش رفت کے لیے 30 دن کی مہلت مانگی۔