شام کا بحران مزید بڑھنے کا خدشہ
شام کا بحران جتنا پیچیدہ ہوتا جائے گا‘ یہاں امن کا قیام اتنا ہی مشکل ہوتا چلا جائے گا۔
شام کا بحران جتنا پیچیدہ ہوتا جائے گا‘ یہاں امن کا قیام اتنا ہی مشکل ہوتا چلا جائے گا۔ فوٹو: اے ایف پی
ترکی اور امریکا نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ شام کے بحران کو حل کرانے کے لیے دونوں مل کر کام کریں گے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ دونوں ملک شام پر حملے کرنے میں بھی ملوث ہیں، جب کہ ترکی نے حال ہی میں شام کی سرحد عبور کر کے جو فوجی کارروائی کی ہے اس سے علاقے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
اسی وجہ سے امریکا نے موقع سے فائدہ اٹھانے کی خاطر ترکی کے ساتھ شام کے معاملے میں باہمی تعاون کا فیصلہ کر لیا ہے لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ امریکا ترکی تعاون سے شام میں کشیدگی میں کمی آئے گی یا کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا اور دونوں ملک شام کے خلاف کسی مشترکہ اور بڑی فوجی کارروائی کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں۔
ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں امریکی وزیر خارجہ (سیکریٹری آف اسٹیٹ) ریکس ٹلرسن کی اپنے ترک ہم منصب کیووگوسلو کے ساتھ مذاکرات ہوئے جن میں طے کیا گیا کہ دونوں ملک شامی بحران کے حل کی خاطر ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیں گے تاکہ شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں عملی اقدامات کیے جا سکیں۔ تاہم انھوں نے اپنے امن فارمولے کی زیادہ تفصیلات نہیں بتائیں۔ البتہ اتنا اشارہ ضرورکیا کہ شام کے جس علاقے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم مبصرین کو اندیشہ ہے کہ امریکا ترکی کی مشترکہ کارروائیاں شام کے بحران کی شدت کم کرنے کے بجائے اس میں الٹا اور زیادہ اضافہ کریں گی کیونکہ دونوں ملکوں کے اپنے الگ الگ مقاصد اور اہداف ہیں۔
ایک بات جس کی سمجھ نہیں آ رہی وہ یہ ہے کہ آخر مصالحتی اقدامات میں ایران کو کیوں باہر رکھا جا رہا ہے حالانکہ ایران کا کردار زیادہ موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس وقت ایرانی صدر حسین روحانی بھارت کے دورے پر پہنچے ہوئے ہیں جہاں انھوں نے حیدر آباد دکن میں قدیم اسلامی تعمیرات کے نمونے دیکھے اور امریکا کی طرف سے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کی جگہ القدس میں امریکی سفارتخانہ کھولنے کے اعلان کے خلاف احتجاج کر تے ہوئے اپنا سرکاری موقف پیش کر رہے ہیں جس کو صدر روحانی کے بقول دیگر مسلم ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے تاہم کوئی بھی ایران کی طرح اس کی کھلم کھلا حمایت میں سامنے نہیں آیا۔
شام کا بحران جتنا پیچیدہ ہوتا جائے گا' یہاں امن کا قیام اتنا ہی مشکل ہوتا چلا جائے گا' گزشتہ دنوں اسرائیل نے بھی شام میں طیاروں کے ذریعے بمباری کی' یوں دیکھا جائے تو شام میں کئی ملک فوجی مداخلت کررہے ہیں' شام کی لڑائی کے اثرات دیگر ملکوں کو بھی لپیٹ میں لے رہے ہیں' ایران اور ترکی بھی اس بحران میں شریک ہو چکے ہیں' اس لیے خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں شام کا بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔
اسی وجہ سے امریکا نے موقع سے فائدہ اٹھانے کی خاطر ترکی کے ساتھ شام کے معاملے میں باہمی تعاون کا فیصلہ کر لیا ہے لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ امریکا ترکی تعاون سے شام میں کشیدگی میں کمی آئے گی یا کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا اور دونوں ملک شام کے خلاف کسی مشترکہ اور بڑی فوجی کارروائی کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں۔
ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں امریکی وزیر خارجہ (سیکریٹری آف اسٹیٹ) ریکس ٹلرسن کی اپنے ترک ہم منصب کیووگوسلو کے ساتھ مذاکرات ہوئے جن میں طے کیا گیا کہ دونوں ملک شامی بحران کے حل کی خاطر ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیں گے تاکہ شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں عملی اقدامات کیے جا سکیں۔ تاہم انھوں نے اپنے امن فارمولے کی زیادہ تفصیلات نہیں بتائیں۔ البتہ اتنا اشارہ ضرورکیا کہ شام کے جس علاقے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم مبصرین کو اندیشہ ہے کہ امریکا ترکی کی مشترکہ کارروائیاں شام کے بحران کی شدت کم کرنے کے بجائے اس میں الٹا اور زیادہ اضافہ کریں گی کیونکہ دونوں ملکوں کے اپنے الگ الگ مقاصد اور اہداف ہیں۔
ایک بات جس کی سمجھ نہیں آ رہی وہ یہ ہے کہ آخر مصالحتی اقدامات میں ایران کو کیوں باہر رکھا جا رہا ہے حالانکہ ایران کا کردار زیادہ موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس وقت ایرانی صدر حسین روحانی بھارت کے دورے پر پہنچے ہوئے ہیں جہاں انھوں نے حیدر آباد دکن میں قدیم اسلامی تعمیرات کے نمونے دیکھے اور امریکا کی طرف سے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کی جگہ القدس میں امریکی سفارتخانہ کھولنے کے اعلان کے خلاف احتجاج کر تے ہوئے اپنا سرکاری موقف پیش کر رہے ہیں جس کو صدر روحانی کے بقول دیگر مسلم ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے تاہم کوئی بھی ایران کی طرح اس کی کھلم کھلا حمایت میں سامنے نہیں آیا۔
شام کا بحران جتنا پیچیدہ ہوتا جائے گا' یہاں امن کا قیام اتنا ہی مشکل ہوتا چلا جائے گا' گزشتہ دنوں اسرائیل نے بھی شام میں طیاروں کے ذریعے بمباری کی' یوں دیکھا جائے تو شام میں کئی ملک فوجی مداخلت کررہے ہیں' شام کی لڑائی کے اثرات دیگر ملکوں کو بھی لپیٹ میں لے رہے ہیں' ایران اور ترکی بھی اس بحران میں شریک ہو چکے ہیں' اس لیے خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں شام کا بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔