بینکاری نظام میں اسلامی بینکوں کاحصہ 2فیصد سالانہ بڑھ رہا ہےعرفان صدیقی
2 سال پہلے تک اسلامی بینکوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کم تھے مگر اب صورتحال بہتر ہے، عرفان صدیقی.
بینکاری نظام میںاسلامی بینکوںکاحصہ 2فیصدسالانہ بڑھ رہاہے،عرفان صدیقی (فوٹو ایکسپریس)
ISLAMABAD:
میزان بینک کے سی ای او عرفان صدیقی نے کہاہے کہ آئندہ 5 سال میں پاکستانی بینکنگ سسٹم میں اسلامی بینکوں کا حصہ18 سے20 فیصد تک پہنچ جائے گا، پاکستان میں اسلامی بینکوں نے کافی ترقی کی اور اس وقت وہ روایتی بینکوں کے مقابلے میں 2 سے 3 گنا زیادہ ترقی کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہر بینک کو اپنے سرمائے کے تحفظ کے لیے حکومتی گارنٹی کی ضرورت ہوتی ہے اور حکومت کی جانب سے جاری وسط مدتی سکوک کے اجرا کے بعد سے اسلامک بینکوں کے 80 فیصد مسائل حل ہو گئے ہیں اور باقی مسائل قلیل مدتی بانڈز کے اجراسے حل ہو جائیں گے۔ انھوں نے کہاکہ 2 سال پہلے تک اسلامی بینکوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کم تھے مگر اب صورتحال بہتر ہے۔ کمرشل فنانسنگ کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اس شعبے میں اسلامی بینکوں کے پاس زیادہ مواقع ہیں،
پاکستان میں 5 اسلامی بینکوں کا بینکنگ انڈسٹری میں حصہ 8 سے 9 فیصد ہے اور اس میں 2 فیصد کے حساب سے سالانہ اضافہ ہو رہا ہے۔
میزان بینک کے سی ای او عرفان صدیقی نے کہاہے کہ آئندہ 5 سال میں پاکستانی بینکنگ سسٹم میں اسلامی بینکوں کا حصہ18 سے20 فیصد تک پہنچ جائے گا، پاکستان میں اسلامی بینکوں نے کافی ترقی کی اور اس وقت وہ روایتی بینکوں کے مقابلے میں 2 سے 3 گنا زیادہ ترقی کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہر بینک کو اپنے سرمائے کے تحفظ کے لیے حکومتی گارنٹی کی ضرورت ہوتی ہے اور حکومت کی جانب سے جاری وسط مدتی سکوک کے اجرا کے بعد سے اسلامک بینکوں کے 80 فیصد مسائل حل ہو گئے ہیں اور باقی مسائل قلیل مدتی بانڈز کے اجراسے حل ہو جائیں گے۔ انھوں نے کہاکہ 2 سال پہلے تک اسلامی بینکوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کم تھے مگر اب صورتحال بہتر ہے۔ کمرشل فنانسنگ کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اس شعبے میں اسلامی بینکوں کے پاس زیادہ مواقع ہیں،
پاکستان میں 5 اسلامی بینکوں کا بینکنگ انڈسٹری میں حصہ 8 سے 9 فیصد ہے اور اس میں 2 فیصد کے حساب سے سالانہ اضافہ ہو رہا ہے۔