امریکا کی پاکستان کو واچ لسٹ میں شامل کرنے کی کوشش

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے جو قربانیاں دی ہیں،انھیں دنیا کوبتانا ضروری ہے۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے جو قربانیاں دی ہیں،انھیں دنیا کوبتانا ضروری ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق امریکا دہشت گردی کے لیے مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے عالمی ادارے ''فنانشل ایکشن ٹاسک فورس '' کے پیرس میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کا نام عالمی واچ لسٹ میں شامل کرانے کے لیے سرگرم ہو گیا ہے' اس مقصد کے لیے وہ اپنے دو یورپی اتحادیوں برطانیہ'فرانس کے علاوہ بھارت کی حمایت سے قرارداد لانے کی کوشش کرے گا۔

ادھر یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستان اس حوالے سے اپنے دوست ملکوں سے رابطے کر رہا ہے' فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں اس مسئلے پر پاکستان اور امریکا کے درمیان سفارتی معرکہ آرائی شروع ہو گئی ہے۔ ایسی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ پاکستان نے امریکا کے ساتھ تعلقات میں جاری تعطل ختم کرنے کے لیے چین اور سعودی عرب کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہونا شروع ہو گیا تھا' ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کے لیے نئی پالیسی وضع کی ہے، اب وہ اپنی اس پالیسی کو قبول کرانے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان 2012ء سے 2015ء تک ایف اے ٹی ایف واچ لسٹ میں شامل رہا ہے، اب اسے ایک بار پھر اس لسٹ میں شامل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے، اگر پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس واچ لسٹ میں شامل ہو جاتا ہے تو پھر اس کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا' عالمی امداد' قرضوں اور سرمایہ کاری کے لیے سخت نگرانی سے گزرنا ہو گا جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔


امریکا پاکستان کو واچ لسٹ میں شامل کرنے کی قرارداد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پیش کرے گا۔ امریکی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان دوست ممالک سے رابطہ کیے ہوئے ہے اس سلسلے میں دفتر خارجہ کی اسپیشل سیکریٹری تسنیم اسلم نے چند روز پیشتر پاکستان میں مختلف ممالک کے سفیروں اور ہائی کمشنرز کو ان اقدامات سے آگاہ کیا جو پاکستان نے اینٹی منی لانڈرنگ ' کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ روکنے' ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور کالعدم تنظیموں کو نئے ناموں سے کام کرنے سے روکنے' فورتھ شیڈول میں شامل افراد کے حوالے سے اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت کیے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف کو کسی ملک پر پابندی عائد کرنے کا اختیار نہیں تاہم یہ گرے اور بلیک کیٹیگری وضع کرتا ہے' منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے خلاف نمایاں خدمات سرانجام دینے والے ممالک کو گرے کیٹیگری جب کہ ایسا نہ کرنے والوں کو بلیک کیٹیگری میں ڈال دیا جاتا ہے۔

پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششوں کو دنیا کے سامنے پیش کر کے درست سمت میں قدم اٹھا رہا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے جو قربانیاں دی ہیں،انھیں دنیا کوبتانا ضروری ہے، اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور یورپی ملکوں کو بھی حقائق سے آگاہ کرنے لیے سفارتی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے۔

 
Load Next Story