لاپتہ افراد کی تلاش سے متعلق جے آئی ٹیز کی کارکردگی رپورٹ طلب
2 ہفتے میں رپورٹ دی جائے، یہ بھی بتایا جائے کہ جے آئی ٹی کی تفتیش کے نتیجے میںکتنے لاپتہ افراد بازیاب ، سندھ ہائیکورٹ
2 ہفتے میں رپورٹ دی جائے، یہ بھی بتایا جائے کہ جے آئی ٹی کی تفتیش کے نتیجے میںکتنے لاپتہ افراد بازیاب ہوئے، سندھ ہائیکورٹ۔ فوٹو ایکسپریس
ہائیکورٹ نے سندھ میں لاپتہ افراد کی تلاش کے سلسلے میں قانون نافذ اور انٹیلی جنس اداروں پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں (جے آئی ٹی )کی سال بھر کی کارکردگی کی رپورٹ طلب کرلی، درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ جے آئی ٹی خود شہریوں کو ہراساں کررہی ہے جبکہ صوبائی حکومت کے وکیل کا موقف تھا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کی کارکردگی مثبت رہی ہے۔
بدھ کو چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی ہے کہ دو ہفتوں میں جے آئی ٹی کی تشکیل اور کارکردگی رپورٹ پیش کی جائے ، یہ بھی بتایا جائے کہ جے آئی ٹی کی تفتیش کے نتیجے میں کتنے لاپتہ افراد بازیاب ہوئے، فاضل بینچ مسمات نصرت دلدار کی آئینی درخواست کی سماعت کررہا تھا ، درخواست میں وزارت دفاع ، محکمہ داخلہ ، ڈی جی آئی ایس آئی ، ڈی جی ایم آئی، ڈی جی آئی بی ، ایس پی سی آئی ڈی فیاض خان اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیا گیا ہے کہ درخواست گزار کا بھائی ممتازاعوان 22اپریل2011 کو پی ای سی ایچ ایس کے علاقے میں واقع اپنے گھر سے نکلا تو واپس نہیں آیا۔
اس ضمن میں سی پی ایل سی اور دیگر متعلقہ اداروں سے بھی رابطہ کیا گیا مگر کچھ پتا نہیں چلا، ٹیپو سلطان پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر اعجاز نے بتایا تھا کہ ممتاز اعوان کو سی آئی ڈی نے گرفتار کیا تھا تاہم ممتازاعوان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں تھا اس لیے اسے انٹیلی جنس بیورو کے حوالے کردیا گیا ، ممتاز اعوان کی جان کو خطرہ ہے ، بازیاب کرایا جائے، بدھ کو سماعت کے موقع پر درخواست گزرا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار اور ان کے اہل خانہ کودھمکیاں دی جارہی ہیں اور ہراساں کیا جارہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ممتازاعوان کے ساتھ مزید 4 افراد کو حراست میں لیاگیا تھا ،ان میں سے ایک شخص واپس آگیا ہے جس نے جے آئی ٹی کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرایا،اسے مسلسل کالیں اور خطرناک نتائج کی دھمکیاں موصول ہورہی ہیں اور حقیقت بیان کی جس کے بعد سے اسے جے آئی ٹی میں شامل ادارے مسلسل ہراساں کررہے ہیں ، تحقیقات کرنے والے ادارے خود ہراساں کریں گے تو انصاف کیسے ملے گا،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل میران محمد شاہ نے موقف اختیارکیا کہ جے آئی ٹیز نے متعدد افراد کو بازیاب کرایا اور ان کی کارکردگی بہتر رہی ہے، عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ دو ہفتوں میں جے آئی ٹی کی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کی جا ئے۔
بدھ کو چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی ہے کہ دو ہفتوں میں جے آئی ٹی کی تشکیل اور کارکردگی رپورٹ پیش کی جائے ، یہ بھی بتایا جائے کہ جے آئی ٹی کی تفتیش کے نتیجے میں کتنے لاپتہ افراد بازیاب ہوئے، فاضل بینچ مسمات نصرت دلدار کی آئینی درخواست کی سماعت کررہا تھا ، درخواست میں وزارت دفاع ، محکمہ داخلہ ، ڈی جی آئی ایس آئی ، ڈی جی ایم آئی، ڈی جی آئی بی ، ایس پی سی آئی ڈی فیاض خان اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیا گیا ہے کہ درخواست گزار کا بھائی ممتازاعوان 22اپریل2011 کو پی ای سی ایچ ایس کے علاقے میں واقع اپنے گھر سے نکلا تو واپس نہیں آیا۔
اس ضمن میں سی پی ایل سی اور دیگر متعلقہ اداروں سے بھی رابطہ کیا گیا مگر کچھ پتا نہیں چلا، ٹیپو سلطان پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر اعجاز نے بتایا تھا کہ ممتاز اعوان کو سی آئی ڈی نے گرفتار کیا تھا تاہم ممتازاعوان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں تھا اس لیے اسے انٹیلی جنس بیورو کے حوالے کردیا گیا ، ممتاز اعوان کی جان کو خطرہ ہے ، بازیاب کرایا جائے، بدھ کو سماعت کے موقع پر درخواست گزرا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار اور ان کے اہل خانہ کودھمکیاں دی جارہی ہیں اور ہراساں کیا جارہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ممتازاعوان کے ساتھ مزید 4 افراد کو حراست میں لیاگیا تھا ،ان میں سے ایک شخص واپس آگیا ہے جس نے جے آئی ٹی کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرایا،اسے مسلسل کالیں اور خطرناک نتائج کی دھمکیاں موصول ہورہی ہیں اور حقیقت بیان کی جس کے بعد سے اسے جے آئی ٹی میں شامل ادارے مسلسل ہراساں کررہے ہیں ، تحقیقات کرنے والے ادارے خود ہراساں کریں گے تو انصاف کیسے ملے گا،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل میران محمد شاہ نے موقف اختیارکیا کہ جے آئی ٹیز نے متعدد افراد کو بازیاب کرایا اور ان کی کارکردگی بہتر رہی ہے، عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ دو ہفتوں میں جے آئی ٹی کی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کی جا ئے۔