بجری مافیا کو پانی کی بلک لائنوں کے اطراف کھدائی سے روکا جائے

خدشہ ہے کہ موسم برسات میں ریلے کی وجہ سے لائنیں اکھڑ نہ جائیں،ایم ڈی واٹر بورڈ

خدشہ ہے کہ موسم برسات میں ریلے کی وجہ سے لائنیں اکھڑ نہ جائیں،ایم ڈی واٹر بورڈ۔ فوٹو فائل

دریائے سندھ سے کراچی کو پانی کی فراہمی روکنے کیلیے ریتی بجری مافیا سرگرم عمل ہوگیا، ایم ڈی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ مصباح الدین فرید نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر بجری مافیا کو دریائے سندھ سے کراچی پانی فراہم کرنے والی بلک لائن کے اطراف ریتی بجری چوری کے عمل سے نہ روکا گیا تو فراہمی آب کے نظام کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔


انھوں نے سیکریٹری ہو م ڈپارٹمنٹ سندھ،کمشنر کراچی و حیدرآباد سے درخواست کی ہے کہ فراہمی آب کی بلک لائن کے اطراف5کلو میٹر کی حدود میں دفعہ144 نافذ کردی جائے، تفصیلات کے مطابق ریتی بجری مافیا کی کارروائیوں کے باعث گجو، دھابیجی، گھارو، ڈملوٹی، ہالیجی سے آنے والی فراہمی آب کی لائنیں جو تمام نالوں اور ندیوں سے صائفن اور کنڈیوٹ کی شکل میں کراچی تک پہنچتی ہیں کسی بھی ممکنہ کھدائی اور ریتی بجری نکالنے کی وجہ سے ان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، خدشہ ہے کہ موسم برسات میں شدید بارشوں کے دوران برساتی پانی کے ریلے کے دبائو کی وجہ سے لائنیں اکھڑ نہ جائیں۔

ایم ڈی واٹر بورڈ نے کہا ہے دریائے سندھ کے نظام سے کراچی کو پانی کی ترسیل کرنے والی بلک فراہمی آب کی لائنیں اور کنڈیوٹ کو حفاظتی انتظامات کے تحت ریتی بجری سے ڈھکا رہنا چاہیے، انھوں نے ڈی ایم ڈی ٹیکنیکل سروسز علی محمد پلیجو، چیف انجینئر بلک اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان مقامات کا دورہ کرکے ہنگامی بنیادوں پر لائنوں اور کنڈیوٹ کو ریتی بجری سے ڈھانپنے کے اقدامات کریں۔
Load Next Story