ایف بی آر کا ریفارمڈ جنرل سیلز ٹیکس متعارف کرانے پر پھر غور

آئندہ مالی سال ریٹیلرزکیلیےکیش رجسٹر لازمی، ٹیکس شرح میں ردوبدل کےاختیارات ایف بی آرسےلےکرپارلیمنٹ کودینے پر بھی زور۔

سپلائز پر0.5فیصدودہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے اورٹیکس کریڈٹ کی سہولت کا بھی مطالبہ،چیئرمین نے بجٹ تجاویز جائزے کیلیے فیلڈ فارمشنز کو بھجوا دیں،ذرائع۔ فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے آئندہ مالی سال2013-14 کے وفاقی بجٹ میں پرچون فروشوں(ریٹیلرز)کیلیے کیش رجسٹرز کو لازمی قرار دینے اور ریفارمڈ جنرل سیلز ٹیکس متعارف کرانے سمیت دیگر تجاویز کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔

اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سینئر افسر نے ''ایکسپریس''کو بتایا کہ یہ تجاویز اوورسیز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی طرف سے چیئرمین ایف بی آر علی ارشد حکیم کو بھجوائی گئی ہیں جس پر چیئرمین ایف بی آر نے مذکورہ تجاویز متعلقہ ونگ اور فیلڈ فارمشنز کو جائزہ لینے کیلیے بھجوادی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اوور سیز پاکستانیز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(او آئی سی سی آئی)کی طرف سے چیئرمین ایف بی آر کو دی جانے والی بجٹ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ ملکی معیشت کو دستاویزی بنانے کیلیے اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی و ٹیکس وصولیاں بڑھانے کیلیے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ریفارمڈ جنرل سیلز ٹیکس متعارف کرایا جائے تاہم اس کی شرح کم رکھی جائے۔

 




اس کے علاوہ یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں وفاقی حکومت کی طرف سے سپلائز پر 0.5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کی آئندہ بجٹ2013-14 تک کیلیے دی جانے والی چھوٹ کو مستقل کیا جائے اور یہ 0.5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کردیا جائے، اس کے علاوہ یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ نئے بجٹ میں ایف بی آر کے ایس آر اوز جاری کرنے کے اختیارات ختم کیے جائیں اور ٹیکس کی شرح میں جو بھی ردوبدل کرنا مقصود ہو اس کی پارلیمنٹ سے منظوری لی جائے تاکہ ٹیکس سے متعلقہ اقدامات کے بارے میں سیاسی عزم کو یقینی بنایا جا سکے۔

علاوہ ازیں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ آئندہ بجٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلیے ٹیکس کریڈٹ کی سہولت اور ٹیکس کریڈٹ کی شرح کو بھی بڑھایا جائے۔ ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین ایف بی آر نے اوور سیز پاکستانیز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(او آئی سی سی آئی)کی طرف سے دی جانے والی بجٹ تجاویز جائزہ لینے کیلیے فیلڈ فارمشنز کو بھجوادی ہیں اور فیلڈ فارمشنز کی آرا موصول ہونے کے بعد ان بجٹ تجاویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
Load Next Story