نیشنل کرائسس مینجمنٹ سیل کو لاپتہ افراد کی نئی فہرست بنانے کی ہدایت
متعلقہ اداروں کی جانب سے روایتی جواب قابل قبول نہیں ٹھوس رپورٹ پیش کی جائے،، عدالتی ریمارکس
متعلقہ اداروں کی جانب سے روایتی جواب قابل قبول نہیں ٹھوس رپورٹ پیش کی جائے،، عدالتی ریمارکس فوٹو : فائل
سندھ ہائیکورٹ نے 17 سالہ طالب علم کی گمشدگی کے خلاف دائر دخواست پر وزارت داخلہ،آئی ایس آئی ، ایم آئی اور آئی بی کے سربراہان ،سیکریٹری داخلہ،آئی جی سندھ اور دیگر کونوٹس جاری کرتے ہوئے نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کو لاپتہ افراد کی نئی فہرست تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے ہیں کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے روایتی جواب قابل قبول نہیں ٹھوس رپورٹ پیش کی جائے، چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے مسمات فاطمہ کی درخواست کی سماعت کی،سید عبدالوحید ایڈوکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے شوہر محمد رمضان 11 فروری 2011 سے سے حساس اداروں کی تحویل میں ہیں اوراس ضمن میں سندھ ہائیکورٹ میں ایک آئینی درخواست بھی زیر سماعت ہے۔
درخواست گزار کا 17 سالہ بیٹا عبداللہ 29 جنوری 2013 کو اپنے ناناسے ملاقات کیلیے کوٹری سے سرجانی ٹاؤن کراچی پہنچا جہاں سے نامعلوم افراد نے اسے اغوا کرلیا، بعدازاں مغوی عبداللہ کے موبائل نمبر سے درخواست گزار کو ایک کال موصول ہوئی جس میں مغوی کی بازیابی کیلیے 10 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں، درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ عبداللہ حساس اداروں کی تحویل میں ہے اور اس کی جان کو خطرہ ہے ۔
اس کی بازیابی کیلیے احکامات جاری کیے جائیں،فاضل عدالت نے محمد اسمٰعیل کی گمشدگی کے حوالے سے دائر درخواست پرسیکریٹری داخلہ کے پی کے کورپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی،عدالت کو بتایا گیا کہ اسمٰعیل فوجی تفتیشی کیمپ کے پی کے میں زیر حراست ہے،راحت خان کی گمشدگی کے حوالے سے دائر کردہ ان کی اہلیہ شیریں بی بی کی درخواست کی سماعت کے موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ کراچی میں نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کا دفتر قائم ہے اور اشفاق احمد یہاں کے ڈائریکٹر ہیں،عدالت نے ہدایت کی کہ نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل ممبرانسپیکشن ٹیم کے تعاون سے لاپتا افراد کی نئی فہرست تیار کرے۔
عدالت نے ریمارکس دیے ہیں کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے روایتی جواب قابل قبول نہیں ٹھوس رپورٹ پیش کی جائے، چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے مسمات فاطمہ کی درخواست کی سماعت کی،سید عبدالوحید ایڈوکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے شوہر محمد رمضان 11 فروری 2011 سے سے حساس اداروں کی تحویل میں ہیں اوراس ضمن میں سندھ ہائیکورٹ میں ایک آئینی درخواست بھی زیر سماعت ہے۔
درخواست گزار کا 17 سالہ بیٹا عبداللہ 29 جنوری 2013 کو اپنے ناناسے ملاقات کیلیے کوٹری سے سرجانی ٹاؤن کراچی پہنچا جہاں سے نامعلوم افراد نے اسے اغوا کرلیا، بعدازاں مغوی عبداللہ کے موبائل نمبر سے درخواست گزار کو ایک کال موصول ہوئی جس میں مغوی کی بازیابی کیلیے 10 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں، درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ عبداللہ حساس اداروں کی تحویل میں ہے اور اس کی جان کو خطرہ ہے ۔
اس کی بازیابی کیلیے احکامات جاری کیے جائیں،فاضل عدالت نے محمد اسمٰعیل کی گمشدگی کے حوالے سے دائر درخواست پرسیکریٹری داخلہ کے پی کے کورپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی،عدالت کو بتایا گیا کہ اسمٰعیل فوجی تفتیشی کیمپ کے پی کے میں زیر حراست ہے،راحت خان کی گمشدگی کے حوالے سے دائر کردہ ان کی اہلیہ شیریں بی بی کی درخواست کی سماعت کے موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ کراچی میں نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کا دفتر قائم ہے اور اشفاق احمد یہاں کے ڈائریکٹر ہیں،عدالت نے ہدایت کی کہ نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل ممبرانسپیکشن ٹیم کے تعاون سے لاپتا افراد کی نئی فہرست تیار کرے۔