پیپلزپارٹی نے حکومتی کارکردگی پر 29نکاتی حقائق نامہ جاری کر دیا

قیمتیں مستحکم رہیں،آئینی ترامیم ، صوبائی خودمحتاری، عدلیہ اور میڈیا کو آزادی دی.

پاک ایران گیس پائپ لائن ،گوادر پورٹ چین کو دینے کا معاہدہ، حقائق نامے کے مندرجات. فوٹو: فائل

پیپلزپارٹی پنجاب نے 5 سالہ دورحکومت میں اپنی کارکردگی کی وضاحت کیلیے 29 نکاتی معاشی حقائق نامہ پیش کر دیا۔

یہ حقائق نامہ انچارج پالیسی پلاننگ اینڈ میڈیا پیپلزپارٹی پنجاب منیر احمد خان نے ایک پریس کانفرنس میں پیش کیا ۔ حقائق نامے میں کہا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے اپنے5 سالہ دور میں پارلیمانی اور آئینی اصلاحات خاص طور پر 18، 19 ، 20ویں آئینی ترامیم کیں، صوبوں کو خودمحتاری دی، 58/2-Bکا خاتمہ کیا، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی، آزاد الیکشن کمیشن کا قیام اور غیر جانبدار نگراں حکومت جیسے اقدامات کیے۔


حقائق نامہ کے مطابق توانائی کے بحران سے نمٹنے کیلیے عالمی دبائو مسترد کر کے پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدہ کیا گیا، گوادر پورٹ چین کے حوالے کرنے کا معاہدہ کیا، زر مبادلہ کے ذخائر6 ارب ڈالرسے بڑھ کر 16ارب ڈالر ہو گئے ،2008 میں 18 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ جبکہ 2012 میں29 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کی گئی۔ا سٹاک مارکیٹ میں 18185 پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔

سود کی شرح کم کر کے 9فیصد تک لائی گئی، گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ کیا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 158 فیصد اضافہ کیا گیا، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 75لاکھ گھرانوں / 5 کروڑ مستحقین کی مالی اعانت کی گئی، چاول کپاس کی امدادی قیمتوں میں اضافے سے ریکارڈ پیداوار حاصل ہوئی، سویٹ ہومز کے ذریعے بیت المال سے ایک لاکھ 35 ہزار مستحقین کی امداد کی گئی، 4 برس میں 3600میگاواٹ سے زائد بجلی سسٹم میں شامل کی گئی۔

منگلا اورتربیلا ڈیم کے توسیعی منصوبے شروع کیے، دیامر بھاشا ڈیم کیلیے 3.5 ارب ڈالر امداد حاصل کی گئی، تھرکول اور جھمپیر کے مقام پر ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے علاوہ چھوٹے بڑے متعدد ہائیڈل پاور پروجیکٹ شروع کیے گئے، سابق ادوار میں نکالے گئے ہزاروں سرکاری ملازمین بحال کیے، لاکھوں کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کیا گیا، ٹریڈ یونینز پر پابندی ختم کی گئی،5 لاکھ صنعتی کارکنوں کو 80 سرکاری صنعتوں میں12فیصد حصص دے کر مالک بنایا گیا، کاشتکاروں کو سستے ٹریکٹرز دیے گئے، زرعی ٹیوب ویلوں کیلیے بجلی کے فلیٹ ریٹ مقرر کیے گئے، دیہی معیشت میں 800 ارب کا اضافہ ہوا ، اشیائے صرف کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ درآمدی ٹیکس کی شرح کم کی گئی، فیصل آباد سے ملتان تک مووٹر وے کی تعمیر اور ہزاروں میل تک رابطہ سڑکوں کا جال بچھایا گیا، این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو وسائل کی تقسیم، ایک لاکھ 5ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ملازمتیں دی گئیں۔
Load Next Story