حصص مارکیٹ 43000 پوائنٹس سے نیچے آگئی

مثبت آغاز کوبرقرار رکھنے میں پھر ناکامی، مختلف شعبوں کی شدید فروخت، انڈیکس 375 پوائنٹس گنوا کر42919 پر بند۔

بیشترکمپنیوں کی قیمتیں گر گئیں،سرمایہ کاروں کو49ارب 14کروڑ روپے کا نقصان، 18 کروڑ 80لاکھ حصص کے سودے۔ فوٹو : فائل

پاکستان اسٹاک ایکس چینج (پی ایس ایکس) گزشتہ روز بھی اچھے آغاز کے باوجود مندی سے دوچار ہوگئی۔

ابتدائی چند منٹوں کے بعد فروخت کا شدید دباؤ دیکھا گیا جس کے نتیجے میں بنچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 43000 پوائنٹس کی حد سے بھی نیچے گرگیا، بیشترکمپنیوں کی قیمتیں گھٹ گئیں اور سرمایہ کاروں کے مزید 49ارب 14کروڑ 26لاکھ 65 ہزار 471 روپے ڈوب گئے۔


یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس پیکیج کی توثیق اورپیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے جاری اجلاس میں پاکستان کوگلوبل ٹیرر فنانسنگ واچ لسٹ میں ڈالے جانے کا خدشہ ٹلنے کے باوجود مارکیٹ میں صورتحال سنبھل نہ سکی اور ابتدائی چند منٹوں میں مارکیٹ کے 43624.07 پوائنٹس تک پہنچنے کے بعد مختلف شعبوں کی جانب سے ایک بار پھر فروخت دیکھی گئی اور انڈیکس ایک موقع پر 42836.25 پوائنٹس تک گر گیا تاہم نچلی قیمتوں پر خریداری کی وجہ سے کچھ ریکوری ہوئی۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100انڈیکس 375.17 پوائنٹس کی کمی سے 42919.78ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 266.87 پوائنٹس گھٹ کر 21409.15، کے ایم آئی30 انڈیکس 574.63 پوائنٹس کمی سے 71793.91اور پی ایس ایکس کے ایم آئی انڈیکس 116.12پوائنٹس گھٹ کر 21130.02 رہ گیا۔

کاروباری حجم منگل کے مقابلے میں 10.82 فیصدزائد رہااور مجموعی طور پر 18کروڑ 80لاکھ 66ہزار 310 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 350 کمپنیوں کے حصص تک محدود ہوگیا جن میں سے 156کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 177کے داموں میں کمی اور17 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
Load Next Story