بھارت۔۔۔۔ بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے
بھارت کا حکمران طبقہ پچھلی کئی دہائیوں سے ایسی ہی متذبذب پالیسی کا شکار رہا ہے۔
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
لاہور:
جن ملکوں میں اہم سیاسی فیصلے کسی دباؤ مصلحت یا ایڈہاک ازم کے تحت کیے جاتے ہیں وہاں جلد یا بدیر اس قسم کے فیصلے کرنے والوں کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنی پڑتی ہے اور فیصلے تبدیل کرنے پڑتے ہیں، یہ صورت حال ان ملکوں میں پیدا ہوتی ہے جن ملکوں کی سیاسی قیادت سیاسی بصیرت سے محروم ہوتی ہے یا تنگ نظر ہوتی ہے۔
ایران سے گیس لینے کے منصوبے میں ابتدائی طور پر بھارت بھی شامل تھا لیکن امریکا کے شدید دباؤ، بھارتی حکمرانوں کی مصلحت پسندی اور تنگ نظری نے انھیں اس انتہائی اہم منصوبے سے الگ کردیا جب کہ شدید بیرونی دباؤ کے باوجود پاکستان اس منصوبے پر قائم رہا اور آخرکار ایران اور پاکستان کے سربراہان مملکت نے پچھلے ماہ منصوبے کے معاہدے پر دستخط کردیے۔ یہ پاکستان جیسے امریکی غلامی کی شہرت رکھنے والے ملک کا ایک ایسا جرأت مندانہ اقدام تھا جس کے لیے پاکستانی عوام میں بدنامی کی شہرت پانے والی حکمرانی بھی لائق مبارک باد تھی۔
ہم نے اپنے ایک کالم میں زرداری حکومت کے دو اسٹرٹیجک فیصلوں پاک ایران گیس معاہدہ اور گوادر کی بندرگاہ چین کو دینے کے فیصلوں پر جہاں زرداری حکومت کی تعریف کی تھی وہیں ہم نے اس منصوبے سے علیحدگی پر بھارت کے حکمران طبقے کی مذمت بھی کی تھی کہ ماضی کا یہ غیر جانبدار اور آزاد خارجہ پالیسی کا علمبردار ملک امریکی دباؤ کے آگے کیوں جھک گیا ہے؟ آج کی تازہ خبر کے مطابق بھارت نے پاک ایران گیس معاہدے میں دوبارہ شرکت پر غور شروع کیا ہے۔
بھارتی وزیر پیٹرولیم ایم ویراپامولی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک ایران گیس معاہدہ بھارت کے لیے یقینا سودمند ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر بھارتی کابینہ میں غور ہورہا ہے اور آیندہ ہفتہ دس دن میں بھارت کی اس منصوبے میں شرکت کی منظوری دے دی جائے گی۔ اس مثبت فیصلے کے ساتھ بھارتی وزیر پامولی نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ایران پر عائد پابندیوں سمیت دیگر حساس معاملات پر بات چیت ضروری ہے۔
بھارت کا حکمران طبقہ پچھلی کئی دہائیوں سے ایسی ہی متذبذب پالیسی کا شکار رہا ہے۔ اس منصوبے پر بات چیت کئی سال پہلے ہوئی تھی اس دوران بھارت کا حکمران طبقہ بار بار اپنا موقف تبدیل کرتا رہا اور اسی بے یقینیت کی وجہ سے اس اہم مسئلے سے بیک آؤٹ کرگیا۔ پامولی کا کہنا ہے کہ ''ہماری پالیسی امریکا سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہے'' یہ غیر یقینیت دنیا کے اس دوسرے بڑے ملک کی پالیسیوں کا حصہ ہے جو کبھی امریکا مخالفت کی وجہ سے دنیا میں معتبر سمجھا جاتا تھا۔
بھارت کی اس احمقانہ بلکہ بزدلانہ پالیسی کا تعلق صرف ایک گیس منصوبے سے نہیں بلکہ اس کی پوری خارجہ پالیسی سے ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تقسیم کے بعد دنیا میں جو غیر جانبدار تحریک ابھری اس کا سربراہ بھارت ہی تھا اور اس تحریک میں جو ملک شامل تھے وہ بنیادی طور پر سامراج مخالف ہی تھے اس پس منظر میں غیر جانبدار تحریک اینٹی امریکا اینٹی سامراج تحریک تھی، لیکن اس تحریک کے دوران بھارت اپنی آبادی، اپنی جغرافیائی اہمیت کی بنیاد پر مغربی ملکوں اور سوشلسٹ ملکوں دونوں سے یکساں فوائد حاصل کرتا رہا اور پاکستان اپنی غلامانہ ذہنیت کی وجہ سے امریکی پٹھو بنا رہا۔
یہ سیاست، یہ خارجہ پالیسی 2012 تک جاری رہی، پھر سابق حکومت نے روس، چین سے مزید بہتر تعلقات استوار کرنے کی کوشش شروع کی اور ایران گیس معاہدہ اس پالیسی کا ایسا جرأت مندانہ اور مثبت موڑ ہے کہ یہاں سے پاکستان کو ایک آزاد خارجہ پالیسی کا سفر شروع کرنا چاہیے۔ اگر پاکستان ایک آزاد اور غیر جانبدار پالیسی کو اپناتا ہے تو اس کے چہرے سے وہ داغ دھل سکتے ہیں جو لیاقت علی خان کے دورہ روس کی منسوخی اور دورہ امریکا سے شروع ہوئے تھے۔ اس حوالے سے پاکستان کی بدنامی کا عالم یہ تھا کہ عالمی میڈیا میں ایسی خبریں آتی تھیں کہ پاکستان میں ایک بیوروکریٹ کا تقرر بھی امریکا کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔
آج کی ابھرتی ہوئی دنیا ان ساری دیواروں کو توڑ رہی ہے جو انسانوں کے درمیان رنگ، نسل، زبان، ملک و ملت کی شکل میں حائل رہی ہیں، ہمارے ترقی یافتہ میڈیا نے ہزاروں سال تک ایک دوسرے کے لیے اجنبی بنے رہنے والے انسانوں کو اس قدر قریب کردیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے غم اور خوشی کو اپنا غم، اپنی خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ آج کوئی ملک ایک دوسرے سے الگ رہ کر زندہ نہیں رہ سکتا۔ صدیوں سے پڑوسی کی دیوار کو دشمن کی دیوار سمجھنے والے بھی آج یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ہم گھر تو بدل سکتے ہیں پڑوسی نہیں بدل سکتے۔ یہ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک مثبت سوچ ہے۔
بھارت سے دوستی کے خواہش مندوں کی ہم بھی پہلی صف کے رہائشی ہیںاور انسانوں کی ہر تقسیم کو غیر حقیقی، غیر منطقی سمجھتے ہیں، لیکن ہمیں یہ احساس، یہ شعور بھی حاصل ہے کہ انسانوں کے درمیان ابھی شناختوں کی تقسیم بہت مضبوط ہے اس دیوار برلن کو توڑنے کے لیے ان مسائل کو حل کرنا ضروری ہے جو ان دیوار برلنوں کو مضبوط اور مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہورہے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان جو دیوار برلن کھڑی ہوئی ہے اس کا نام کشمیر ہے۔ جب تک ہم اس مسئلے کو حکمت و دانش کے ساتھ نئی ابھرنے والی دنیا کے پس منظر میں حل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے اس وقت تک دیوار برلن باقی رہے گی۔
گیس پائپ لائن کے حوالے سے امریکا کا جو کردار رہا ہے وہ قطعی غیر منطقی اور نام نہاد قومی مفادات کا آئینہ دار ہے۔ آج کی دنیا کسی کی داداگیری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ امریکا نے ایران پر اقتصادی پابندیوں کی بارش کرکے دیکھ لی۔ ایران اس بارش سے ساون کی جھڑی کی طرح لطف اندوز ہوتا رہا۔ شمالی کوریا کو امریکی احمقوں نے بدی کا نام دے کر اس پر بھی پابندیوں کی بارش کردی، لیکن شمالی کوریا امریکا کے آگے جھکا نہیں بلکہ اب وہ جواباً امریکا اور جنوبی کوریا پر ایٹمی میزائلوں کی بارش کی دھمکی دے رہا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے تمام شہر اس کے میزائلوں کی زد میں ہیں۔ کیا افغانستان سے ذلت اور ناکامی کے ساتھ نکلنے والے امریکا کو یہ احساس ہے کہ اب عالمی حکمرانی اور عالمی دادا گیری کا دور نہیں رہا، اب ایران پر اقتصادی پابندیاں لگانے اور پاکستان کو گیس معاہدے سے کنارہ کش کرنے کے بجائے فلسطین کا مسئلہ حل کرنا ہوگا۔ شمالی کوریا کو جنگ کی دھمکیاں دینے اور اس پر اقتصادی پابندیاں لگانے کے بجائے جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے درمیان دوسری عالمی جنگ کے بعد کھڑی کی جانے والی دیوار برلن کو توڑ کر اسے جرمنی کی طرح متحد کرنا ہوگا۔ پاکستان اور بھارت کو گیس لائن سے علیحدہ کرنے کی احمقانہ کوششوں کے بجائے مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہی امریکا کی عزت وسلامتی اور آنے والی دنیا کا تقاضہ ہے۔ہم گیس منصوبے میں بھارت کی شمولیت کا استقبال اس مصرع کے ساتھ کرتے ہیں:
بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے
جن ملکوں میں اہم سیاسی فیصلے کسی دباؤ مصلحت یا ایڈہاک ازم کے تحت کیے جاتے ہیں وہاں جلد یا بدیر اس قسم کے فیصلے کرنے والوں کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنی پڑتی ہے اور فیصلے تبدیل کرنے پڑتے ہیں، یہ صورت حال ان ملکوں میں پیدا ہوتی ہے جن ملکوں کی سیاسی قیادت سیاسی بصیرت سے محروم ہوتی ہے یا تنگ نظر ہوتی ہے۔
ایران سے گیس لینے کے منصوبے میں ابتدائی طور پر بھارت بھی شامل تھا لیکن امریکا کے شدید دباؤ، بھارتی حکمرانوں کی مصلحت پسندی اور تنگ نظری نے انھیں اس انتہائی اہم منصوبے سے الگ کردیا جب کہ شدید بیرونی دباؤ کے باوجود پاکستان اس منصوبے پر قائم رہا اور آخرکار ایران اور پاکستان کے سربراہان مملکت نے پچھلے ماہ منصوبے کے معاہدے پر دستخط کردیے۔ یہ پاکستان جیسے امریکی غلامی کی شہرت رکھنے والے ملک کا ایک ایسا جرأت مندانہ اقدام تھا جس کے لیے پاکستانی عوام میں بدنامی کی شہرت پانے والی حکمرانی بھی لائق مبارک باد تھی۔
ہم نے اپنے ایک کالم میں زرداری حکومت کے دو اسٹرٹیجک فیصلوں پاک ایران گیس معاہدہ اور گوادر کی بندرگاہ چین کو دینے کے فیصلوں پر جہاں زرداری حکومت کی تعریف کی تھی وہیں ہم نے اس منصوبے سے علیحدگی پر بھارت کے حکمران طبقے کی مذمت بھی کی تھی کہ ماضی کا یہ غیر جانبدار اور آزاد خارجہ پالیسی کا علمبردار ملک امریکی دباؤ کے آگے کیوں جھک گیا ہے؟ آج کی تازہ خبر کے مطابق بھارت نے پاک ایران گیس معاہدے میں دوبارہ شرکت پر غور شروع کیا ہے۔
بھارتی وزیر پیٹرولیم ایم ویراپامولی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک ایران گیس معاہدہ بھارت کے لیے یقینا سودمند ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر بھارتی کابینہ میں غور ہورہا ہے اور آیندہ ہفتہ دس دن میں بھارت کی اس منصوبے میں شرکت کی منظوری دے دی جائے گی۔ اس مثبت فیصلے کے ساتھ بھارتی وزیر پامولی نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ایران پر عائد پابندیوں سمیت دیگر حساس معاملات پر بات چیت ضروری ہے۔
بھارت کا حکمران طبقہ پچھلی کئی دہائیوں سے ایسی ہی متذبذب پالیسی کا شکار رہا ہے۔ اس منصوبے پر بات چیت کئی سال پہلے ہوئی تھی اس دوران بھارت کا حکمران طبقہ بار بار اپنا موقف تبدیل کرتا رہا اور اسی بے یقینیت کی وجہ سے اس اہم مسئلے سے بیک آؤٹ کرگیا۔ پامولی کا کہنا ہے کہ ''ہماری پالیسی امریکا سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہے'' یہ غیر یقینیت دنیا کے اس دوسرے بڑے ملک کی پالیسیوں کا حصہ ہے جو کبھی امریکا مخالفت کی وجہ سے دنیا میں معتبر سمجھا جاتا تھا۔
بھارت کی اس احمقانہ بلکہ بزدلانہ پالیسی کا تعلق صرف ایک گیس منصوبے سے نہیں بلکہ اس کی پوری خارجہ پالیسی سے ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تقسیم کے بعد دنیا میں جو غیر جانبدار تحریک ابھری اس کا سربراہ بھارت ہی تھا اور اس تحریک میں جو ملک شامل تھے وہ بنیادی طور پر سامراج مخالف ہی تھے اس پس منظر میں غیر جانبدار تحریک اینٹی امریکا اینٹی سامراج تحریک تھی، لیکن اس تحریک کے دوران بھارت اپنی آبادی، اپنی جغرافیائی اہمیت کی بنیاد پر مغربی ملکوں اور سوشلسٹ ملکوں دونوں سے یکساں فوائد حاصل کرتا رہا اور پاکستان اپنی غلامانہ ذہنیت کی وجہ سے امریکی پٹھو بنا رہا۔
یہ سیاست، یہ خارجہ پالیسی 2012 تک جاری رہی، پھر سابق حکومت نے روس، چین سے مزید بہتر تعلقات استوار کرنے کی کوشش شروع کی اور ایران گیس معاہدہ اس پالیسی کا ایسا جرأت مندانہ اور مثبت موڑ ہے کہ یہاں سے پاکستان کو ایک آزاد خارجہ پالیسی کا سفر شروع کرنا چاہیے۔ اگر پاکستان ایک آزاد اور غیر جانبدار پالیسی کو اپناتا ہے تو اس کے چہرے سے وہ داغ دھل سکتے ہیں جو لیاقت علی خان کے دورہ روس کی منسوخی اور دورہ امریکا سے شروع ہوئے تھے۔ اس حوالے سے پاکستان کی بدنامی کا عالم یہ تھا کہ عالمی میڈیا میں ایسی خبریں آتی تھیں کہ پاکستان میں ایک بیوروکریٹ کا تقرر بھی امریکا کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔
آج کی ابھرتی ہوئی دنیا ان ساری دیواروں کو توڑ رہی ہے جو انسانوں کے درمیان رنگ، نسل، زبان، ملک و ملت کی شکل میں حائل رہی ہیں، ہمارے ترقی یافتہ میڈیا نے ہزاروں سال تک ایک دوسرے کے لیے اجنبی بنے رہنے والے انسانوں کو اس قدر قریب کردیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے غم اور خوشی کو اپنا غم، اپنی خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ آج کوئی ملک ایک دوسرے سے الگ رہ کر زندہ نہیں رہ سکتا۔ صدیوں سے پڑوسی کی دیوار کو دشمن کی دیوار سمجھنے والے بھی آج یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ہم گھر تو بدل سکتے ہیں پڑوسی نہیں بدل سکتے۔ یہ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک مثبت سوچ ہے۔
بھارت سے دوستی کے خواہش مندوں کی ہم بھی پہلی صف کے رہائشی ہیںاور انسانوں کی ہر تقسیم کو غیر حقیقی، غیر منطقی سمجھتے ہیں، لیکن ہمیں یہ احساس، یہ شعور بھی حاصل ہے کہ انسانوں کے درمیان ابھی شناختوں کی تقسیم بہت مضبوط ہے اس دیوار برلن کو توڑنے کے لیے ان مسائل کو حل کرنا ضروری ہے جو ان دیوار برلنوں کو مضبوط اور مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہورہے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان جو دیوار برلن کھڑی ہوئی ہے اس کا نام کشمیر ہے۔ جب تک ہم اس مسئلے کو حکمت و دانش کے ساتھ نئی ابھرنے والی دنیا کے پس منظر میں حل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے اس وقت تک دیوار برلن باقی رہے گی۔
گیس پائپ لائن کے حوالے سے امریکا کا جو کردار رہا ہے وہ قطعی غیر منطقی اور نام نہاد قومی مفادات کا آئینہ دار ہے۔ آج کی دنیا کسی کی داداگیری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ امریکا نے ایران پر اقتصادی پابندیوں کی بارش کرکے دیکھ لی۔ ایران اس بارش سے ساون کی جھڑی کی طرح لطف اندوز ہوتا رہا۔ شمالی کوریا کو امریکی احمقوں نے بدی کا نام دے کر اس پر بھی پابندیوں کی بارش کردی، لیکن شمالی کوریا امریکا کے آگے جھکا نہیں بلکہ اب وہ جواباً امریکا اور جنوبی کوریا پر ایٹمی میزائلوں کی بارش کی دھمکی دے رہا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے تمام شہر اس کے میزائلوں کی زد میں ہیں۔ کیا افغانستان سے ذلت اور ناکامی کے ساتھ نکلنے والے امریکا کو یہ احساس ہے کہ اب عالمی حکمرانی اور عالمی دادا گیری کا دور نہیں رہا، اب ایران پر اقتصادی پابندیاں لگانے اور پاکستان کو گیس معاہدے سے کنارہ کش کرنے کے بجائے فلسطین کا مسئلہ حل کرنا ہوگا۔ شمالی کوریا کو جنگ کی دھمکیاں دینے اور اس پر اقتصادی پابندیاں لگانے کے بجائے جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے درمیان دوسری عالمی جنگ کے بعد کھڑی کی جانے والی دیوار برلن کو توڑ کر اسے جرمنی کی طرح متحد کرنا ہوگا۔ پاکستان اور بھارت کو گیس لائن سے علیحدہ کرنے کی احمقانہ کوششوں کے بجائے مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہی امریکا کی عزت وسلامتی اور آنے والی دنیا کا تقاضہ ہے۔ہم گیس منصوبے میں بھارت کی شمولیت کا استقبال اس مصرع کے ساتھ کرتے ہیں:
بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے