سانحہ بلدیہ کیس میں لاشوں کا معائنہ کرنے والے 40 ڈاکٹر طلب
ملزمان کے وکلا نے جرح مکمل کرلی، عدالت میں مجسٹریٹس کو بلانے کیلیے درخواست دائر
جو مجسٹریٹس شہر میں موجود ہونگے ان کو بلا لیں گے،عدالت۔ فوٹو: فائل
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سانحہ بلدیہ کیس میں لاشوں کا معائنہ کرنے والے 40 ڈاکٹروں کو طلب کرلیا۔
سینٹرل جیل میں انسداد دہشت گردی کمپلیکس میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کی سماعت ہوئی،مرکزی ملزم عبد الرحمن عرف بھولا اور زبیر چریا کو پیش کیا گیا،ایم کیو ایم کے رہنما رؤف صدیقی و دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے، ملزمان میں اسرار، عمر حسن قادری سمیت دیگر شامل تھے، گواہ مقدمہ مدعی عدالت میں پیش ہوا،گواہ مقدمہ مدعی سب انسپکٹر محمد نواز گوندل نے بیان قلمبند کرایا۔
بیان میں نواز گوندل نے کہا کہ مجھے شام 6 بج کے 45 منٹ پر علی انٹرپرائزز میں آگ کی اطلاع ملی،میں نے اس کی اطلاع فوری طور پر پولیس کنٹرول اور افسران بالا کو دی، تقریباً دوسرے روز 2 بجے کے قریب آگ پر قابو پالیں گیا، فیکٹری مالکان کے خلاف ایف آئی آر 343/12 درج کی، مقدمہ شاہد بھیلا، ارشد بھیلا اور والد عبد العزیز و دیگر کے خلاف درج کیا گیا، آگ کے نتیجے میں 225 سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے۔ ملزمان کے وکلا نے جراح مکمل کرلی۔
اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ساجد محبوب شیخ نے عدالت میں مجسٹریٹس کو بلانے کے لیے درخواست دائر کردی،ساجد محبوب شیخ نے درخواست میں کہا کہ جن 5 مجسٹریٹس نے 164 کے بیانات لیے انھیں طلب کیا جائے،عدالت نے درخواست منظور کرلی،عدالت نے ریمارکس دیے جو مجسٹریٹس شہر میں موجود ہوں گے ان کو بلا لیں گے،عدالت نے لاشوں کا معائنہ کرنے والے 40 کے قریب ڈاکٹرز کو بھی طلب کرلیا تاہم عدالت نے مدعی کا بیان قلمبند کرنے کے بعد سماعت یکم مارچ تک ملتوی کردی۔