میٹل اسکریپ کے نام پر 25 ٹن چھالیہ درآمد
کلیئرنس کے بعدکورنگی صنعتی علاقے میں چھپا دیے گئے، کسٹمز نے کھیپ پکڑلی، ذرائع
4 کنٹینرز پر مشتمل، مالیت 18کروڑ ہے، ایک اور کنٹینر کسی جگہ چھپائے جانے کی اطلاع۔ فوٹو: سوشل میڈیا
LOS ANGELES:
پاکستان کسٹمز پریونٹیواینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن نے بدھ کو کامیاب کارروائی کرتے ہوئے کورنگی صنعتی علاقے کے ایک گودام پر چھاپہ مار کر مس ڈیکلریشن کے ذریعے کلیئر ہونے والی 25 ٹن چھالیہ برآمد کرلی۔
کلکٹر کسٹمز پریونٹیو افتخار احمد نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ کورنگی کے اس گودام سے چھالیہ کے کنسائمنٹس پر مشتمل20 فٹ کے4 کنٹینرزبرآمد کیے گئے جنہیں کسٹمزپورٹ قاسم کے وی بوک سسٹم کے گرین چینل سے کلئیر کرایا گیا تھا۔ درآمد کنندہ میسرز اسٹیشن اسٹیل یو اے ای لاہور کی جانب سے چھالیہ کے اس کنسائمنٹس کو محکمہ کسٹمز میں داخل کردہ گڈز ڈیکلریشن میں میٹل اسکریپ ظاہرکیا گیا تھا اور منظم انداز میں کلیئرنس حاصل کی گئی، مذکورہ 4 کنٹینرز کی مالیت18 کروڑ روپے سے زائد ہے۔
کسٹمز پریونٹیو اے ایس او نے چھالیہ کے مذکورہ کنسائمنٹس کی ترسیل کرنے والے4 ٹرک ڈرائیورزکو گرفتار کرلیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پریونٹیو اے ایس او معاملے کی تفصیلی چھان بین کررہا ہے اور ابتدائی تحقیقات میں اس امر کا انکشاف ہوا ہے کہ درآمد کنندہ کی جانب سے مس ڈیکلریشن کے ذریعے کلیئر ہونے والی چھالیہ کے ایک اورکنٹینرکو شہر میں کہیں چھپایا گیا ہے جسے اے ایس او کی ٹیم تلاش کررہی ہے۔
پاکستان کسٹمز پریونٹیواینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن نے بدھ کو کامیاب کارروائی کرتے ہوئے کورنگی صنعتی علاقے کے ایک گودام پر چھاپہ مار کر مس ڈیکلریشن کے ذریعے کلیئر ہونے والی 25 ٹن چھالیہ برآمد کرلی۔
کلکٹر کسٹمز پریونٹیو افتخار احمد نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ کورنگی کے اس گودام سے چھالیہ کے کنسائمنٹس پر مشتمل20 فٹ کے4 کنٹینرزبرآمد کیے گئے جنہیں کسٹمزپورٹ قاسم کے وی بوک سسٹم کے گرین چینل سے کلئیر کرایا گیا تھا۔ درآمد کنندہ میسرز اسٹیشن اسٹیل یو اے ای لاہور کی جانب سے چھالیہ کے اس کنسائمنٹس کو محکمہ کسٹمز میں داخل کردہ گڈز ڈیکلریشن میں میٹل اسکریپ ظاہرکیا گیا تھا اور منظم انداز میں کلیئرنس حاصل کی گئی، مذکورہ 4 کنٹینرز کی مالیت18 کروڑ روپے سے زائد ہے۔
کسٹمز پریونٹیو اے ایس او نے چھالیہ کے مذکورہ کنسائمنٹس کی ترسیل کرنے والے4 ٹرک ڈرائیورزکو گرفتار کرلیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پریونٹیو اے ایس او معاملے کی تفصیلی چھان بین کررہا ہے اور ابتدائی تحقیقات میں اس امر کا انکشاف ہوا ہے کہ درآمد کنندہ کی جانب سے مس ڈیکلریشن کے ذریعے کلیئر ہونے والی چھالیہ کے ایک اورکنٹینرکو شہر میں کہیں چھپایا گیا ہے جسے اے ایس او کی ٹیم تلاش کررہی ہے۔