دوسرے وزیراعظم کو گھر بھیجنے سے ابہام بڑھے گا قمر زمان کائرہ
نوازشریف غیرمنتخب ہونے کے باوجودحکومت پنجاب کے اجلاسوںکی صدارت کس بنیاد پر کرتے ہیں، وزیراطلاعات، سیمینارسے خطاب
نوازشریف غیرمنتخب ہونے کے باوجودحکومت پنجاب کے اجلاسوںکی صدارت کس بنیاد پر کرتے ہیں، وزیراطلاعات، گفتگو، سیمینارسے خطاب۔ فوٹو فائل
وفاقی وزیراطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ قانون سازی میں مداخلت کسی ادارے کااختیار نہیں، قانون سازی کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو ہے، دوسرے وزیراعظم کوگھر بھیجنے سے کنفیوژن بڑھے گی۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ توہین عدالت کا قانون اتفاق رائے سے بنایا گیا ہے۔
وزیراعظم پرویزاشرف کے عدالت جانے سے متعلق فیصلہ قانونی ٹیم کی مشاورت سے کیا جائیگا،کسی بھی معاشرے میں اداروںکے رویے اچانک نہیں بنتے ادارے نہیں بلکہ سماج بدلتے ہیں۔ اداروں اورسماج نے اکٹھے مل کر چلنا ہے، ملک کے سیاستدان اور ادارے ماضی سے سبق سیکھیں۔ انھوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی حکومت ماضی کی روایات کوبرقرار رکھے ہوئے ہے، ہم عدالتوںکے فیصلوں کوپسندکریں یا نہ کریںقبول ضرورکرتے ہیں۔
اے پی پی کے مطابق ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سول ملٹری تعلقات اوران کے انسانی حقوق پر اثرات کے موضوع پرسیمینارسے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہاکہ 2008ء کے انتخابات کے بعد انتہائی مشکل حالات کے باوجود پیپلزپارٹی کی قیادت میںجمہوری حکومت نے تصادم کے رویے سے بچتے ہوئے وفاق کومضبوط کیا سیاسی ادارہ مستحکم ہونے کی وجہ سے فوج بھی پارلیمنٹ کوجوابدہ ہوئی، سیاستدان سمیت تمام اداروں نے غلطیوں سے سبق سیکھا ہے۔
سول ملٹری تعلقات کے علاوہ اب سول، ملٹری، جوڈیشل تعلقات کی نئی جہت بھی سامنے آئی ہے جس کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔ پیپلزپارٹی نے آمریت کیخلاف تاریخی جدوجہدکی ہے، پیپلزپارٹی عوام کے ووٹ کی طاقت سے منتخب ہوکر اگلی مرتبہ پھر اقتدار میں آئے گی۔ دریں اثناء نجی ٹی کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سے آئین سازی کا اختیار کوئی نہیں چھین سکتا، کسی بھی فرد کی ذاتی رائے کو پیپلز پارٹی کی پالیسی قرار دینا درست نہیں، حکومت نے عدالتی فیصلوں پر عمل کیا ہے، پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کو مکمل طور پر کالعدم قرار دینا مایوس کن ہے' دوسرے وزیراعظم کا جانا ملک کیلیے شدید دھچکا ہوگا،میاں نواز شریف غیر منتخب ہونے کے باوجود پنجاب حکومت کے اجلاسوں کی صدارت کس بنیاد پر کرتے ہیں۔
وزیراعظم پرویزاشرف کے عدالت جانے سے متعلق فیصلہ قانونی ٹیم کی مشاورت سے کیا جائیگا،کسی بھی معاشرے میں اداروںکے رویے اچانک نہیں بنتے ادارے نہیں بلکہ سماج بدلتے ہیں۔ اداروں اورسماج نے اکٹھے مل کر چلنا ہے، ملک کے سیاستدان اور ادارے ماضی سے سبق سیکھیں۔ انھوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی حکومت ماضی کی روایات کوبرقرار رکھے ہوئے ہے، ہم عدالتوںکے فیصلوں کوپسندکریں یا نہ کریںقبول ضرورکرتے ہیں۔
اے پی پی کے مطابق ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سول ملٹری تعلقات اوران کے انسانی حقوق پر اثرات کے موضوع پرسیمینارسے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہاکہ 2008ء کے انتخابات کے بعد انتہائی مشکل حالات کے باوجود پیپلزپارٹی کی قیادت میںجمہوری حکومت نے تصادم کے رویے سے بچتے ہوئے وفاق کومضبوط کیا سیاسی ادارہ مستحکم ہونے کی وجہ سے فوج بھی پارلیمنٹ کوجوابدہ ہوئی، سیاستدان سمیت تمام اداروں نے غلطیوں سے سبق سیکھا ہے۔
سول ملٹری تعلقات کے علاوہ اب سول، ملٹری، جوڈیشل تعلقات کی نئی جہت بھی سامنے آئی ہے جس کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔ پیپلزپارٹی نے آمریت کیخلاف تاریخی جدوجہدکی ہے، پیپلزپارٹی عوام کے ووٹ کی طاقت سے منتخب ہوکر اگلی مرتبہ پھر اقتدار میں آئے گی۔ دریں اثناء نجی ٹی کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سے آئین سازی کا اختیار کوئی نہیں چھین سکتا، کسی بھی فرد کی ذاتی رائے کو پیپلز پارٹی کی پالیسی قرار دینا درست نہیں، حکومت نے عدالتی فیصلوں پر عمل کیا ہے، پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کو مکمل طور پر کالعدم قرار دینا مایوس کن ہے' دوسرے وزیراعظم کا جانا ملک کیلیے شدید دھچکا ہوگا،میاں نواز شریف غیر منتخب ہونے کے باوجود پنجاب حکومت کے اجلاسوں کی صدارت کس بنیاد پر کرتے ہیں۔