سندھ اسمبلی وزراء و ارکان کی تنخواہوں و الائونس میں 60 فیصد تک اضافے کی سفارش
ہڑتال پر بیٹھے اساتذہ میرٹ پر نہیں اترتے، پیر مظہر،بیماری سے صرف 38مور ہلاک ہوئے، وزیر جنگلی حیات
ہڑتال پر بیٹھے اساتذہ میرٹ پر نہیں اترتے، نوکری نہیں دی جاسکتی، پیر مظہر،بیماری سے صرف 38مور ہلاک ہوئے، وزیر جنگلی حیات۔ فوٹو فائل
سندھ اسمبلی میں تقریباً ساڑھے تین سال بعد بالآخر بدھ کو ارکان سندھ اسمبلی ، اسپیکر ، وزراء اور معاونین خصوصی کی تنخواہوں اور الائونسز میں اضافے کے لیے قائمہ کمیٹی برائے قانون و پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ پیش کردی گئی ۔
قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سید بچل شاہ نے رپورٹ پیش کی ،رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ارکان سندھ اسمبلی کی تنخواہوں اور الائونسز میں 60 فیصد جبکہ اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر ، وزراء اور معاونین خصوصی کی تنخواہوں اور الائونسز میں 40 فیصد اضافہ کیا جائے اور یہ اضافہ یکم جولائی 2011ء سے موثر بہ عمل ہو۔ رپورٹ پیش ہونے کے بعد وزیر قانون ایاز سومرو نے کہا کہ صوبے کی مالی حالت کے پیش نظر رپورٹ کی منظوری مؤخر کردی جائے ۔
سندھ اسمبلی نے سکرنڈ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے قیام کا بل بھی اتفاق رائے سے منظور کرلیا ۔ اجلاس میں سندھ کی ضلعی حکومتوں پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی سال 2011-12ء کے لیے رپورٹ اور سندھ ریونیو بورڈ کی سالانہ رپورٹ بھی پیش کی گئی ۔ اجلاس میں شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء کراچی کے قیام کا بل اور سندھ ریونیو بورڈ ترمیمی بل بھی پیش کیا گیا ۔
دریں اثناء سندھ اسمبلی میں بدھ کو وقفہ سوالات کے دوران متعدد ارکان نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سرکاری فنڈز کی خوردبرد اور بدعنوانی کے مقدمات میں نہ صرف سرکاری افسروں اور اہلکاروں کو سزا نہیں ہوتی بلکہ جن افسروں اور اہلکاروں پر کرپشن کے سنگین مقدمات ہیں وہ اہم عہدوں پر فائز ہیں ۔
دریں اثناء سینئر وزیر تعلیم پیر مظہر الحق نے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ کراچی پریس کلب کے باہر ہڑتال پر بیٹھے پی ایس ٹی اساتذہ کو ہم نوکری نہیں دے سکتے کیونکہ وہ میرٹ پر نہیں اترتے، اگر ہم نے میرٹ سے ہٹ کر نوکریاں دیں تو عالمی بینک ہم سے 100 ملین ڈالرز (تقریباً 8 ارب روپے)کی رقم واپس لے لے گا،اگر ایسا ہوا تو یہ سندھ کے ساتھ غداری ہوگی کیونکہ یہ رقم سندھ کے تعلیمی اداروں پر خرچ ہو رہی ہے۔وہ بدھ کو مسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کے نکتہء اعتراض پر بیان دے رہے تھے ۔
نصرت سحر عباسی نے کہا کہ پی ایس ٹی اساتذہ 38 دن سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کر رہے ہیں اور وہ عید بھی یہیں منائیں گے، حکومت ان کا مسئلہ حل کرے ۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ ان پی ایس ٹی اساتذہ نے اس وقت امتحان ضرور پاس کیا تھا لیکن وہ طے شدہ معیارات اور میرٹ پر پورے نہیں اترے تھے ، اب اگر انھوں نے محکمہ تعلیم میں نوکریاں لینی ہیں تو وہ نئے سرے سے درخواستیں دیں اور بھرتی کے عمل سے گزریں ۔ پیپلز پارٹی کے حاجی منور علی عباسی کے نکتہ اعتراض پر وزیر قانون ایاز سومرو نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے کنٹریکٹ لیکچررز کے کنٹریکٹ کی مدت میں توسیع کے لیے جلد فیصلہ کریں گے ۔
سسی پلیجو نے کہا کہ پکڑے جانے والے مجسموں کو قومی عجائب گھر کراچی میں درست طریقے سے رکھا گیا ہے، کچھ مجسموں کا وزن زیادہ ہے انہیں مناسب جگہ پر رکھنے کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا۔وزیر جنگلی حیات ڈاکٹر دیا رام اسرانی نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق سندھ میں 70 ہزار مور ہیں ،ان میں سے اب تک وائرل بیماری کے باعث صرف 38 مور ہلاک ہوئے جبکہ صرف 30 ہزار موروں کی ویکسی نیشن ہوچکی ہے۔
قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سید بچل شاہ نے رپورٹ پیش کی ،رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ارکان سندھ اسمبلی کی تنخواہوں اور الائونسز میں 60 فیصد جبکہ اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر ، وزراء اور معاونین خصوصی کی تنخواہوں اور الائونسز میں 40 فیصد اضافہ کیا جائے اور یہ اضافہ یکم جولائی 2011ء سے موثر بہ عمل ہو۔ رپورٹ پیش ہونے کے بعد وزیر قانون ایاز سومرو نے کہا کہ صوبے کی مالی حالت کے پیش نظر رپورٹ کی منظوری مؤخر کردی جائے ۔
سندھ اسمبلی نے سکرنڈ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے قیام کا بل بھی اتفاق رائے سے منظور کرلیا ۔ اجلاس میں سندھ کی ضلعی حکومتوں پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی سال 2011-12ء کے لیے رپورٹ اور سندھ ریونیو بورڈ کی سالانہ رپورٹ بھی پیش کی گئی ۔ اجلاس میں شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء کراچی کے قیام کا بل اور سندھ ریونیو بورڈ ترمیمی بل بھی پیش کیا گیا ۔
دریں اثناء سندھ اسمبلی میں بدھ کو وقفہ سوالات کے دوران متعدد ارکان نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سرکاری فنڈز کی خوردبرد اور بدعنوانی کے مقدمات میں نہ صرف سرکاری افسروں اور اہلکاروں کو سزا نہیں ہوتی بلکہ جن افسروں اور اہلکاروں پر کرپشن کے سنگین مقدمات ہیں وہ اہم عہدوں پر فائز ہیں ۔
دریں اثناء سینئر وزیر تعلیم پیر مظہر الحق نے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ کراچی پریس کلب کے باہر ہڑتال پر بیٹھے پی ایس ٹی اساتذہ کو ہم نوکری نہیں دے سکتے کیونکہ وہ میرٹ پر نہیں اترتے، اگر ہم نے میرٹ سے ہٹ کر نوکریاں دیں تو عالمی بینک ہم سے 100 ملین ڈالرز (تقریباً 8 ارب روپے)کی رقم واپس لے لے گا،اگر ایسا ہوا تو یہ سندھ کے ساتھ غداری ہوگی کیونکہ یہ رقم سندھ کے تعلیمی اداروں پر خرچ ہو رہی ہے۔وہ بدھ کو مسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کے نکتہء اعتراض پر بیان دے رہے تھے ۔
نصرت سحر عباسی نے کہا کہ پی ایس ٹی اساتذہ 38 دن سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کر رہے ہیں اور وہ عید بھی یہیں منائیں گے، حکومت ان کا مسئلہ حل کرے ۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ ان پی ایس ٹی اساتذہ نے اس وقت امتحان ضرور پاس کیا تھا لیکن وہ طے شدہ معیارات اور میرٹ پر پورے نہیں اترے تھے ، اب اگر انھوں نے محکمہ تعلیم میں نوکریاں لینی ہیں تو وہ نئے سرے سے درخواستیں دیں اور بھرتی کے عمل سے گزریں ۔ پیپلز پارٹی کے حاجی منور علی عباسی کے نکتہ اعتراض پر وزیر قانون ایاز سومرو نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے کنٹریکٹ لیکچررز کے کنٹریکٹ کی مدت میں توسیع کے لیے جلد فیصلہ کریں گے ۔
سسی پلیجو نے کہا کہ پکڑے جانے والے مجسموں کو قومی عجائب گھر کراچی میں درست طریقے سے رکھا گیا ہے، کچھ مجسموں کا وزن زیادہ ہے انہیں مناسب جگہ پر رکھنے کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا۔وزیر جنگلی حیات ڈاکٹر دیا رام اسرانی نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق سندھ میں 70 ہزار مور ہیں ،ان میں سے اب تک وائرل بیماری کے باعث صرف 38 مور ہلاک ہوئے جبکہ صرف 30 ہزار موروں کی ویکسی نیشن ہوچکی ہے۔