امیدواروں کی نااہلیعرضی نویسوں سے کاغذات پُر کرائے
پارٹیوں نے امیدواروں کی مدد نہیں کی،اکثر امیدوار بھیڑ چال میں مصروف رہے.
سٹی کورٹ میں امیدوار عرضی نویس سے کاغذات نامزدگی پُر کروا رہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس
عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی اہلیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ متعدد امیدوار سٹی کورٹ کے احاطے میں عرضی نویسوں سے اپنا فارم اور دیگر کاغذات پر کراتے ہوئے دکھائی دیے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کے امیدوار آخری وقت تک کاغذات نامزدگی کیلیے ضروری قانونی دستاویزات پوری کرتے رہے،تفصیلات کے مطابق مستقبل کے عوامی نمائندوں کی اہلیت اور سنجیدگی کا اندازہ عام انتخابات کے پہلے مرحلے یعنی کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت ہی باآسانی لگایا جاسکتا ہے، متعدد امیدوار سٹی کورٹ کے احاطے میں موجود عرضی نویسوں اور کمپیوٹر آپریٹرز سے فارم پر کراتے دکھائی دیے، زیادہ تر امیدوار آخری دن تک کاغذات نامزدگی داخل کرانے کیلیے ریٹرننگ افسران کے دفاتر تو پہنچ گئے۔
تاہم انھوں نے آخر وقت تک کاغذات نامزدگی کیلیے ضروری قانونی دستاویزات مکمل نہیں کی تھیں،انھیں ریٹرننگ افسران نے ایک سے زائد مرتبہ اپنے کاغذات مکمل کرنے کی ہدایت کے ساتھ واپس کردیا اور وہ ایک مرتبہ پھر عرضی نویسوں کے پاس پہنچ جاتے تھے اور کئی کوششوں کے بعد وہ اپنا فارم داخل کرانے میں کامیاب ہوئے،متحدہ قومی موومنٹ کے علاوہ تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ افسران کے دفاتر تک پہنچ جانے کے باوجود مکمل نہیں تھے،سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو ان کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی اس سلسلے میں کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی،اکثر امیدوار دستاویزات کی تکمیل کیلیے بھیڑ چھال میں مصروف رہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کے امیدوار آخری وقت تک کاغذات نامزدگی کیلیے ضروری قانونی دستاویزات پوری کرتے رہے،تفصیلات کے مطابق مستقبل کے عوامی نمائندوں کی اہلیت اور سنجیدگی کا اندازہ عام انتخابات کے پہلے مرحلے یعنی کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت ہی باآسانی لگایا جاسکتا ہے، متعدد امیدوار سٹی کورٹ کے احاطے میں موجود عرضی نویسوں اور کمپیوٹر آپریٹرز سے فارم پر کراتے دکھائی دیے، زیادہ تر امیدوار آخری دن تک کاغذات نامزدگی داخل کرانے کیلیے ریٹرننگ افسران کے دفاتر تو پہنچ گئے۔
تاہم انھوں نے آخر وقت تک کاغذات نامزدگی کیلیے ضروری قانونی دستاویزات مکمل نہیں کی تھیں،انھیں ریٹرننگ افسران نے ایک سے زائد مرتبہ اپنے کاغذات مکمل کرنے کی ہدایت کے ساتھ واپس کردیا اور وہ ایک مرتبہ پھر عرضی نویسوں کے پاس پہنچ جاتے تھے اور کئی کوششوں کے بعد وہ اپنا فارم داخل کرانے میں کامیاب ہوئے،متحدہ قومی موومنٹ کے علاوہ تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ افسران کے دفاتر تک پہنچ جانے کے باوجود مکمل نہیں تھے،سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو ان کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی اس سلسلے میں کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی،اکثر امیدوار دستاویزات کی تکمیل کیلیے بھیڑ چھال میں مصروف رہے۔