7000 سے زائد کاغذات نامزدگی موصول امیدواروں کی اسکروٹنی بے رحمی سے ہوگی الیکشن کمیشن
جانچ پڑتال آج سے شروع،7اپریل تک جاری رہے گی،حتمی فہرست19اپریل کوشائع ہوگی
کاغذات پبلک اسکروٹنی کیلیے ویب سائٹ پرڈالے جائیںگے ،اسلحے کی نمائش کرنیوالا جیل جائیگا،اب وہی جیتے گاجسے عوام ووٹ دیں،ایڈیشنل سیکریٹری افضل خان۔ فوٹو: فائل
عام انتخابات کیلیے کاغذات نامزدگی جمع کرانیکا مرحلہ اتوارکی رات 12بجے اختتام پذیر ہوگیا۔
الیکشن کمیشن کو ملک بھر سے7ہزارکاغذات نامزدگی موصول ہوگئے۔ کراچی سے اسٹاف رپورٹر کے مطابق آخری دن تقریباً 450 امیدواروں نے قومی وصوبائی اسمبلی کی جنرل سیٹوں اور مخصوص نشستوں پر اپنے کوائف سٹی کورٹ، جوڈیشل کمپلیکس، ملیر کورٹ اور الیکشن کمیشن میں جمع کرائے۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ق، پی پی شہید بھٹو، ن لیگ، اے این پی، جے یو پی، اے پی ایم ایل اور دیگر جماعتوں کے امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کرانے والوں میں نمایاں تھے۔
اسلام آؓباد سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق کاغذات کی جانچ پڑتال کاعمل آج پیر(یکم اپریل)سے شروع ہوگاجو 7اپریل تک جاری رہے گاجبکہ الیکشن کمیشن نے کہاہے کہ امیدواروںکی بے رحمی سے جانچ پڑتال ہوگی،کاغذات نامزدگی پبلک اسکروٹنی کیلیے ویب سائٹ پر ڈالے جائینگے، اسلحے کی نمائش کرنیوالوںکوجیل میں ڈالا جائیگا۔کاغذات نامزدگی جمع کرانے کاوقت اتوار کی شام 4 بجے ختم ہونا تھاتاہم الیکشن کمیشن نے اس میں رات 12 بجے تک توسیع کردی اور ریٹرننگ افسران کو یہ ہدایت بھی کی کہ وہ کاغذات کی وصولی کے ابتدائی مرحلے میںرکاوٹیں کھڑی نہ کریں اور پارٹی ٹکٹ نہ ہونے یاکسی اورکمی پرکاغذات مسترد نہ کریں۔
سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ ہولڈرامیداروںسے کہاگیاکہ وہ 19اپریل تک جماعتی ٹکٹ کاسرٹیفکیٹ جمع کرادیں۔ بی بی سی کے مطابق الیکشن کمیشن کے حکام کاکہناہے کہ انھیںملک بھر سے اب تک 7 ہزار سے زائد کاغذات نامزدگی موصول ہوچکے ہیں۔کاغذات نامزدگی کو مسترد یا قبول کرنے کیخلاف اپیلیں 10 اپریل تک دائر کی جاسکیں گی جن پر انتخابی ٹریبونل 17 اپریل تک فیصلے سنائینگے، امیدوار 18 اپریل تک کاغذات واپس لے سکیںگے، امیدواروں کی حتمی فہرست 19 اپریل کو شائع ہوگی، 11 مئی کو پولنگ ہوگی۔
اسلام آباد سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق تمام امیدواروں کی اسکروٹنی نیب،نادرا، اسٹیٹ بینک اور ایف بی آرکے تعاون سے قائم الیکٹرانک فلٹر کے ذریعے کی جائیگی۔ الیکشن کمیشن نے واپڈا، پی ٹی سی ایل اور دیگر سرکاری اداروں سے واجبات کے نادہندگان کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ ادھر امیدواروں کی اسناد کی تصدیق کیلیے ایچ ای سی کا ڈگریوں کی تصدیق کا شعبہ، یونیورسٹی کے شعبہ امتحانات اور ٹیکس و یوٹیلٹی بلز کے بقایا جات کی ادائیگی کیلیے اسٹیٹ بینک، نیشنل بینک کی برانچیں اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے دفاتر چھٹی کے باوجود کھلے رہے۔
ادھر الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل سیکریٹری افضل خان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اب تک ملک بھر سے 5723 کاغذات نامزدگی موصول ہوئے جن میں سے الیکشن کمیشن نے 2546 اسکروٹنی کے بعد ریٹرنگ افسران کو بھجوا دیے جن میں قومی اسمبلی کے 758اور صوبائی اسمبلیوں کے 1588کاغذات نامزدگی شامل ہیں، اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کیلئے 135کاغذات نامزدگی موصول ہوئے، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے بھی اقلیتی نشتوں کیلیے فہرستیں جمع کرادیں۔ انھوں نے کہا کہ تمام امیدواروںکی بے رحم جانچ پڑتال ہوگی، بندوق کے زور پر کوئی نہیں جیت سکے گا بلکہ عوام جسے ووٹ دیں گے وہی امیدوار جیتے گا۔
54جعلی ڈگری ہولڈرز اوردہری شہریت والے سابق ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کے نام ویب سائٹ پر ہیں جبکہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے کاغذات کی پبلک اسکروٹنی کیلیے انہیں بھی ویب سائٹ پر رکھاجائیگا ۔ ایک سوال پرانھوں نے کہاکہ ایچ ای سی گذشتہ 3 سال سے جعلی ڈگری اسکینڈل دباکر بیٹھاہواتھا ، اب اسے ہوش آیاہے۔ ڈگریاں چیک کرنا الیکشن کمیشن کانہیں ہائیرایجوکیشن کمیشن کاکام ہے مگرافسوس کیساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ یہ ادارہ سیاست میں ملوث ہوگیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ اگرانتخابات کے دوران کسی سرکاری ا فسر یامحکمے نے مداخلت کی کوشش کی تواس محکمے کے سربراہ اور ملوث افسران کونوکریوں سے برطرف کردیاجائیگا۔
ایڈیشنل سیکریٹری ا لیکشن کمیشن نے کہاکہ ملک کی تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں نے الیکشن کے دورا ن امن وامان وسیکیورٹی کی صورتحال کنٹرول کرنے کی یقین دہانی کرارکھی ہے تاہم اس کے باوجود تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل ہے کہ وہ ملک اورجمہوریت دشمن عناصرپرنظر رکھیں۔ ایک سوال پرانھوں نے کہاکہ ملک بھرمیں ایک ہزارسے زائد پولنگ اسٹیشنوں کے مقامات تبدیل کیے گئے ہیں، یہ پولنگ اسٹیشن اہم سیاسی اوربااثر شخصیات نے اپنے ڈیروں کے قریب قائم کرا رکھے تھے۔ خیبر پختونخوا کے الیکشن کمشنر سونو خان بلوچ نے کہا ہے کہ صوبے میں پولنگ اسٹیشنوں پر فوج اور ایف سی بھی تعینات ہوگی، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پرکارروائی ہو گی۔
ڈی سی کی اجازت کے بغیر اسلحہ رکھنے کی ممانعت ہوگی، خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنیوالوں کیخلاف مقدمہ درج کرکے انھیں3 ماہ قید یا ایک ہزار روپے جرمانہ کیاجائیگا۔ پشاور سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق آخری روز قومی وصوبائی اسمبلی کے حلقوں کیلیے کئی اہم سیاسی شخصیات نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جن میں سابق وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور،سابق اسپیکرخیبرپختونخوا اسمبلی کرامت اللہ چغرمٹی،سابق وزیرصحت سید ظاہر علی شاہ،سابق وزیرسیدعاقل شاہ،ارباب عالمگیر،اسرار اللہ،عاصمہ ارباب عالمگیر شامل ہیں۔
انجینئر امیر مقام نے این اے30سوات ٹواور پی کے82سوات 3 اورشانگلہ کے حلقہ این اے31سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے،جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے این اے27کیلیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔آئی این پی کے مطابق الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو ڈگریوں کی تصدیق، ٹیکس اور یوٹیلٹی بلز کے بقایا جات کی ادائیگی کیلیے ہائر ایجوکیشن کمیشن کا ڈگریوں کی تصدیق کرنیوالا شعبہ، اسٹیٹ بنک اور نیشنل بنک کی برانچیں اور امیدواروں کے بجلی کے واجبات کی کلیئرنس کیلیے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے دفاتر اتوار کو تعطیل کے باوجود کھلے رہے۔
ایچ ای سی کا ڈگریوں کی تصدیق کا شعبہ ہفتہ اور اتوار کی چھٹیوں کے باوجود صبح 8 سے رات 10 تک کھلا رہا۔ ایچ ای سی نے یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کیطرف سے کاغذات نامزدگی داخل کرانے کی تاریخ میں 2 دن کی توسیع کے پیش نظر کیا تھا۔ ثنا نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل سیکریٹری افضل خان نے بتایا کہ امیدواروں کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے ریٹرننگ افسران کے خلاف جلوس نکالنے سے متعلق وارننگ بھی دے دی گئی ہے۔ ایسے جلوس دہشت گردی اور سیکیورٹی کے لیے آسان نشانہ بن سکتے ہیں۔
الیکشن کمیشن کو ملک بھر سے7ہزارکاغذات نامزدگی موصول ہوگئے۔ کراچی سے اسٹاف رپورٹر کے مطابق آخری دن تقریباً 450 امیدواروں نے قومی وصوبائی اسمبلی کی جنرل سیٹوں اور مخصوص نشستوں پر اپنے کوائف سٹی کورٹ، جوڈیشل کمپلیکس، ملیر کورٹ اور الیکشن کمیشن میں جمع کرائے۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ق، پی پی شہید بھٹو، ن لیگ، اے این پی، جے یو پی، اے پی ایم ایل اور دیگر جماعتوں کے امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کرانے والوں میں نمایاں تھے۔
اسلام آؓباد سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق کاغذات کی جانچ پڑتال کاعمل آج پیر(یکم اپریل)سے شروع ہوگاجو 7اپریل تک جاری رہے گاجبکہ الیکشن کمیشن نے کہاہے کہ امیدواروںکی بے رحمی سے جانچ پڑتال ہوگی،کاغذات نامزدگی پبلک اسکروٹنی کیلیے ویب سائٹ پر ڈالے جائینگے، اسلحے کی نمائش کرنیوالوںکوجیل میں ڈالا جائیگا۔کاغذات نامزدگی جمع کرانے کاوقت اتوار کی شام 4 بجے ختم ہونا تھاتاہم الیکشن کمیشن نے اس میں رات 12 بجے تک توسیع کردی اور ریٹرننگ افسران کو یہ ہدایت بھی کی کہ وہ کاغذات کی وصولی کے ابتدائی مرحلے میںرکاوٹیں کھڑی نہ کریں اور پارٹی ٹکٹ نہ ہونے یاکسی اورکمی پرکاغذات مسترد نہ کریں۔
سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ ہولڈرامیداروںسے کہاگیاکہ وہ 19اپریل تک جماعتی ٹکٹ کاسرٹیفکیٹ جمع کرادیں۔ بی بی سی کے مطابق الیکشن کمیشن کے حکام کاکہناہے کہ انھیںملک بھر سے اب تک 7 ہزار سے زائد کاغذات نامزدگی موصول ہوچکے ہیں۔کاغذات نامزدگی کو مسترد یا قبول کرنے کیخلاف اپیلیں 10 اپریل تک دائر کی جاسکیں گی جن پر انتخابی ٹریبونل 17 اپریل تک فیصلے سنائینگے، امیدوار 18 اپریل تک کاغذات واپس لے سکیںگے، امیدواروں کی حتمی فہرست 19 اپریل کو شائع ہوگی، 11 مئی کو پولنگ ہوگی۔
اسلام آباد سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق تمام امیدواروں کی اسکروٹنی نیب،نادرا، اسٹیٹ بینک اور ایف بی آرکے تعاون سے قائم الیکٹرانک فلٹر کے ذریعے کی جائیگی۔ الیکشن کمیشن نے واپڈا، پی ٹی سی ایل اور دیگر سرکاری اداروں سے واجبات کے نادہندگان کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ ادھر امیدواروں کی اسناد کی تصدیق کیلیے ایچ ای سی کا ڈگریوں کی تصدیق کا شعبہ، یونیورسٹی کے شعبہ امتحانات اور ٹیکس و یوٹیلٹی بلز کے بقایا جات کی ادائیگی کیلیے اسٹیٹ بینک، نیشنل بینک کی برانچیں اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے دفاتر چھٹی کے باوجود کھلے رہے۔
ادھر الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل سیکریٹری افضل خان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اب تک ملک بھر سے 5723 کاغذات نامزدگی موصول ہوئے جن میں سے الیکشن کمیشن نے 2546 اسکروٹنی کے بعد ریٹرنگ افسران کو بھجوا دیے جن میں قومی اسمبلی کے 758اور صوبائی اسمبلیوں کے 1588کاغذات نامزدگی شامل ہیں، اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کیلئے 135کاغذات نامزدگی موصول ہوئے، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے بھی اقلیتی نشتوں کیلیے فہرستیں جمع کرادیں۔ انھوں نے کہا کہ تمام امیدواروںکی بے رحم جانچ پڑتال ہوگی، بندوق کے زور پر کوئی نہیں جیت سکے گا بلکہ عوام جسے ووٹ دیں گے وہی امیدوار جیتے گا۔
54جعلی ڈگری ہولڈرز اوردہری شہریت والے سابق ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کے نام ویب سائٹ پر ہیں جبکہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے کاغذات کی پبلک اسکروٹنی کیلیے انہیں بھی ویب سائٹ پر رکھاجائیگا ۔ ایک سوال پرانھوں نے کہاکہ ایچ ای سی گذشتہ 3 سال سے جعلی ڈگری اسکینڈل دباکر بیٹھاہواتھا ، اب اسے ہوش آیاہے۔ ڈگریاں چیک کرنا الیکشن کمیشن کانہیں ہائیرایجوکیشن کمیشن کاکام ہے مگرافسوس کیساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ یہ ادارہ سیاست میں ملوث ہوگیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ اگرانتخابات کے دوران کسی سرکاری ا فسر یامحکمے نے مداخلت کی کوشش کی تواس محکمے کے سربراہ اور ملوث افسران کونوکریوں سے برطرف کردیاجائیگا۔
ایڈیشنل سیکریٹری ا لیکشن کمیشن نے کہاکہ ملک کی تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں نے الیکشن کے دورا ن امن وامان وسیکیورٹی کی صورتحال کنٹرول کرنے کی یقین دہانی کرارکھی ہے تاہم اس کے باوجود تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل ہے کہ وہ ملک اورجمہوریت دشمن عناصرپرنظر رکھیں۔ ایک سوال پرانھوں نے کہاکہ ملک بھرمیں ایک ہزارسے زائد پولنگ اسٹیشنوں کے مقامات تبدیل کیے گئے ہیں، یہ پولنگ اسٹیشن اہم سیاسی اوربااثر شخصیات نے اپنے ڈیروں کے قریب قائم کرا رکھے تھے۔ خیبر پختونخوا کے الیکشن کمشنر سونو خان بلوچ نے کہا ہے کہ صوبے میں پولنگ اسٹیشنوں پر فوج اور ایف سی بھی تعینات ہوگی، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پرکارروائی ہو گی۔
ڈی سی کی اجازت کے بغیر اسلحہ رکھنے کی ممانعت ہوگی، خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنیوالوں کیخلاف مقدمہ درج کرکے انھیں3 ماہ قید یا ایک ہزار روپے جرمانہ کیاجائیگا۔ پشاور سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق آخری روز قومی وصوبائی اسمبلی کے حلقوں کیلیے کئی اہم سیاسی شخصیات نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جن میں سابق وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور،سابق اسپیکرخیبرپختونخوا اسمبلی کرامت اللہ چغرمٹی،سابق وزیرصحت سید ظاہر علی شاہ،سابق وزیرسیدعاقل شاہ،ارباب عالمگیر،اسرار اللہ،عاصمہ ارباب عالمگیر شامل ہیں۔
انجینئر امیر مقام نے این اے30سوات ٹواور پی کے82سوات 3 اورشانگلہ کے حلقہ این اے31سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے،جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے این اے27کیلیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔آئی این پی کے مطابق الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو ڈگریوں کی تصدیق، ٹیکس اور یوٹیلٹی بلز کے بقایا جات کی ادائیگی کیلیے ہائر ایجوکیشن کمیشن کا ڈگریوں کی تصدیق کرنیوالا شعبہ، اسٹیٹ بنک اور نیشنل بنک کی برانچیں اور امیدواروں کے بجلی کے واجبات کی کلیئرنس کیلیے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے دفاتر اتوار کو تعطیل کے باوجود کھلے رہے۔
ایچ ای سی کا ڈگریوں کی تصدیق کا شعبہ ہفتہ اور اتوار کی چھٹیوں کے باوجود صبح 8 سے رات 10 تک کھلا رہا۔ ایچ ای سی نے یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کیطرف سے کاغذات نامزدگی داخل کرانے کی تاریخ میں 2 دن کی توسیع کے پیش نظر کیا تھا۔ ثنا نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل سیکریٹری افضل خان نے بتایا کہ امیدواروں کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے ریٹرننگ افسران کے خلاف جلوس نکالنے سے متعلق وارننگ بھی دے دی گئی ہے۔ ایسے جلوس دہشت گردی اور سیکیورٹی کے لیے آسان نشانہ بن سکتے ہیں۔