مہلک بیماری پھیلنے کا خدشہ امریکا سمیت20ممالک سے مویشیوں کی درآمد پر پابندی عائد
بی ایس ای نامی بیماری کی وجہ سے گائے، بھینس، بھیڑ ودیگرمویشی منگوانے پرپابندی لگائی گئی۔
فوٹو : فائل
وفاقی حکومت نے جانوروں میں پائی جانے والی انتہائی مہلک اور خطرناک دماغی بیماری (بی ایس ای ) کے باعث امریکا، برطانیہ، بلجیم اور آئر لینڈ سمیت 20سے زائد ممالک سے گائے، بھینس، بکرے، بھیڑ سمیت دیگر زندہ جانور اور مویشیوں کی درآمد پر پابندی عائد کردی ہے۔
اس ضمن میں وزارت تجارت کے حکام نے بتایا کہ برڈ فلو کے خدشے کے پیش نظر دنیا کے 35 ممالک سے پولٹری و پولٹری مصنوعات کی درآمد پر بھی پابندی عائد ہے اور اب مویشیوں میں پھیلی انتہائی خطرناک و مہلک دماغی بیماری بووین سپونگیفارم انسیفیلوپیتھی(بی ایس ای)کے خدشے کے پیش نظر دنیا کے 20 سے زائد ایسے ممالک جہاں جانوروں میں مذکورہ بیماری پائی جاتی ہے سے زندہ جانوروں، بھیڑ، بکروں،گائے اور بھینس سمیت دیگر مویشیوں کی درآمد پر پابندی عائد کردی گئی ہے تاہم کینیڈا کے البرٹا ریجن کے علاوہ دیگر حصوں سے گوشت اور گوشت کی تیار شدہ مصنوعات درآمد کی جاسکیں گی۔
وزارت تجارت کے مطابق جن ممالک سے مویشیوں کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں امریکا، برطانیہ،آئرلینڈ، بلجیم، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، اٹلی، لگسمبرگ، ہالینڈ، اسپین، برازیل، آسٹریا، چیک ری پبلک، پولینڈ، سلوواکیہ، سلوانیا اور کیینڈا کا البرٹا ریجن شامل ہے۔
وزارت تجارت کے حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ ممالک سے جانوروں کے لیے خوراک کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزا کی درآمد پر پابندی عائد نہیں ہوگی، اسی طرح وہ فیڈ اجز بھی درآمد کیے جا سکیں گے جو دودھ دینے والے جانوروں کے دودھ دینے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں یا جانوروں کی گروتھ کو تیز کرتے ہیں، اس کے علاوہ سمندری ذرائع سے تیار ہونے والی جانوروں کی خوراک کے اجزا بھی منگوائے جاسکتے ہیں۔
اس ضمن میں وزارت تجارت کے حکام نے بتایا کہ برڈ فلو کے خدشے کے پیش نظر دنیا کے 35 ممالک سے پولٹری و پولٹری مصنوعات کی درآمد پر بھی پابندی عائد ہے اور اب مویشیوں میں پھیلی انتہائی خطرناک و مہلک دماغی بیماری بووین سپونگیفارم انسیفیلوپیتھی(بی ایس ای)کے خدشے کے پیش نظر دنیا کے 20 سے زائد ایسے ممالک جہاں جانوروں میں مذکورہ بیماری پائی جاتی ہے سے زندہ جانوروں، بھیڑ، بکروں،گائے اور بھینس سمیت دیگر مویشیوں کی درآمد پر پابندی عائد کردی گئی ہے تاہم کینیڈا کے البرٹا ریجن کے علاوہ دیگر حصوں سے گوشت اور گوشت کی تیار شدہ مصنوعات درآمد کی جاسکیں گی۔
وزارت تجارت کے مطابق جن ممالک سے مویشیوں کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں امریکا، برطانیہ،آئرلینڈ، بلجیم، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، اٹلی، لگسمبرگ، ہالینڈ، اسپین، برازیل، آسٹریا، چیک ری پبلک، پولینڈ، سلوواکیہ، سلوانیا اور کیینڈا کا البرٹا ریجن شامل ہے۔
وزارت تجارت کے حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ ممالک سے جانوروں کے لیے خوراک کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزا کی درآمد پر پابندی عائد نہیں ہوگی، اسی طرح وہ فیڈ اجز بھی درآمد کیے جا سکیں گے جو دودھ دینے والے جانوروں کے دودھ دینے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں یا جانوروں کی گروتھ کو تیز کرتے ہیں، اس کے علاوہ سمندری ذرائع سے تیار ہونے والی جانوروں کی خوراک کے اجزا بھی منگوائے جاسکتے ہیں۔