پشاور ہائیکورٹ مشال کیس کا فیصلہ معطل 25 ملزمان کی ضمانت منظور

ایبٹ آباد بنچ کے دو ججوں نے مختصر فیصلہ سنایا، 3، 3 سال سزا پانے والے ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

ملزمان کو ٹرائل کورٹ سے سزا ہو چکی ہے، ازخود نوٹس کو چلانے کی ضرورت نہیں ہے، سپریم کورٹ فوٹو:فائل

پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ نے مشال خان قتل کیس میں انسداددہشت گردی عدالت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے 3،3 سال سزا پانے والے 25 ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیدیا۔

جسٹس لعل جان خٹک اور جسٹس عتیق شاہ پر مشتمل2 رکنی بینچ نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد منگل کے روز مختصر فیصلہ سنایا۔ ملزمان کو دی جانے والی سزا کیخلاف مشال کے والد نے بھی عدالت عالیہ میں رٹ دائر کر رکھی ہے۔


رہائی پانے والے ملزمان میں واجد ملنگ، ذیشان، حنیف، نصر ﷲ، امداد احمد، خیال سید، حسن اختر، انس، ملک توقیر، عامر، سدیس، حمزہ، عارف، شہاب علی شاہ، اشرف علی، عمران ، ولید، علی خان، شعیب، نواب علی، سید عباس، صاحبزادہ محمد شعیب، فرحان لائق، وجاہت ﷲاورریاض شامل ہیں، ہری پورکی انسداد دہشت گردی عدالت نے 7فروری کوکیس کافیصلہ سنایا تھا۔

ادھرسپریم کورٹ نے مشال خان قتل پر لیا گیا ازخود نوٹس کیس نمٹادیا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے قرار دیا کہ ملزمان کوٹرائل کورٹ سے سزا ہو چکی ہے، از خود نوٹس کو چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔
Load Next Story