اپیلوں کی سماعت انتخابی ٹریبونلز کی تشکیل التوا کا شکار
ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کیخلاف اپیلوں کی سماعت میں تاخیر ہوسکتی ہے،2ٹریبونلز کے ججوں کے نام ارسال کردیے،عبدالمالک گدی
الیکشن کمیشن نے صورتحال سے آگاہ نہیں کیا،انتخابی عمل متاثر نہیں ہونے دینگے،سندھ میں جعلی ڈگری کا کوئی ریفرنس اب تک نہیں آیا،رجسٹرار. فوٹو: فائل
انتخابات میں شرکت کیلیے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع ہونے کے بعد اسکروٹنی کا مرحلہ شروع ہوچکا ہے لیکن ریٹرننگ افسروں کے فیصلوں کے خلاف اپیلوںکی سماعت کے لیے انتخابی ٹریبونلز تشکیل نہیں دیے جاسکے ہیں۔
جن کی وجہ سے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت تاخیر کا شکار ہوسکتی ہے،ایکسپریس کے استفسار پر رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ عبدالمالک گدی نے بتایاکہ عدلیہ انتخابات کو انتہائی اہمیت دیتی ہے اور ضمن میں بالائی سندھ اور زیریں سندھ کے لیے 2 انتخابی ٹریبونلز تشکیل دینے کیلیے سندھ ہائیکورٹ کے ججوں کے نام ارسال کردیے گئے تھے۔
جن میں زیر یں سندھ کے3 ڈویژن کراچی ، حیدرآباد، میرپور خاص کے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف امیدواروں کی اپیلوں کی سماعت کے لیے جسٹس فیصل عرب، جسٹس مصطفی کورائی اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل ٹریبونل تشکیل دینے کی سفارش کی گئی تھی جبکہ بالائی سندھ کے سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کے امیدواروں کے لیے جسٹس احمدعلی شیخ،جسٹس ریاضت علی ساہڑاور جسٹس صلاح الدین پنہور کے نام تجویز کیے گئے تھے۔
انھوں نے بتایاکہ الیکشن ٹریبونل کیلیے ججوں کے ناموں کی حتمی منظوری صدر پاکستان دیتے ہیں اور ان کی منظوری کی الیکشن کمیشن کے ذریعے سے متعلقہ ہائیکورٹ کو آگاہ کیا جاتا ہے، تاہم پیرکی دوپہر تک الیکشن کمیشن نے سندھ ہائیکورٹ کو نئی صورتحال سے آگاہ نہیں کیا ہے، عبدالمالک گدی نے ایکسپریس کے استفسار پر مزید بتایاکہ عدلیہ کی وجہ سے انتخابی عمل کسی صورت متاثر نہیں ہوگا، صوبہ سندھ میں تاحال الیکشن کمیشن نے جعلی ڈگری کے الزام میںکوئی ریفرنس ارسال نہیں کیا ہے اس کے باوجود ماتحت عدلیہ کو ہدایت کی جاچکی ہے کہ اگر جعلی ڈگری سے متعلق کوئی بھی کیس ان کے سامنے آئے توکی اسکی سماعت ہنگامی بنیادوں پر روزانہ کی جائے۔
جن کی وجہ سے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت تاخیر کا شکار ہوسکتی ہے،ایکسپریس کے استفسار پر رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ عبدالمالک گدی نے بتایاکہ عدلیہ انتخابات کو انتہائی اہمیت دیتی ہے اور ضمن میں بالائی سندھ اور زیریں سندھ کے لیے 2 انتخابی ٹریبونلز تشکیل دینے کیلیے سندھ ہائیکورٹ کے ججوں کے نام ارسال کردیے گئے تھے۔
جن میں زیر یں سندھ کے3 ڈویژن کراچی ، حیدرآباد، میرپور خاص کے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف امیدواروں کی اپیلوں کی سماعت کے لیے جسٹس فیصل عرب، جسٹس مصطفی کورائی اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل ٹریبونل تشکیل دینے کی سفارش کی گئی تھی جبکہ بالائی سندھ کے سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کے امیدواروں کے لیے جسٹس احمدعلی شیخ،جسٹس ریاضت علی ساہڑاور جسٹس صلاح الدین پنہور کے نام تجویز کیے گئے تھے۔
انھوں نے بتایاکہ الیکشن ٹریبونل کیلیے ججوں کے ناموں کی حتمی منظوری صدر پاکستان دیتے ہیں اور ان کی منظوری کی الیکشن کمیشن کے ذریعے سے متعلقہ ہائیکورٹ کو آگاہ کیا جاتا ہے، تاہم پیرکی دوپہر تک الیکشن کمیشن نے سندھ ہائیکورٹ کو نئی صورتحال سے آگاہ نہیں کیا ہے، عبدالمالک گدی نے ایکسپریس کے استفسار پر مزید بتایاکہ عدلیہ کی وجہ سے انتخابی عمل کسی صورت متاثر نہیں ہوگا، صوبہ سندھ میں تاحال الیکشن کمیشن نے جعلی ڈگری کے الزام میںکوئی ریفرنس ارسال نہیں کیا ہے اس کے باوجود ماتحت عدلیہ کو ہدایت کی جاچکی ہے کہ اگر جعلی ڈگری سے متعلق کوئی بھی کیس ان کے سامنے آئے توکی اسکی سماعت ہنگامی بنیادوں پر روزانہ کی جائے۔