پاکستان اور بھارت پرحملے کرنیوالے دہشتگردوں کا اگلاہدف چین
حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی کے لیے امریکی شکایات بے سود ہورہی ہیں،چینی اخبار
حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی کے لیے امریکی شکایات بے سود ہورہی ہیں،چینی اخبار
KARACHI:
چینی اخبار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کا اگلاہدف چین ہوگا ۔سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق امریکا کے پیدا کردہ مجاہدین اب امریکا کے خلاف جنگ میں طالبان کا حصہ بن چکے ہیں،طالبان اور دیگر جہادی گروپ نے پاکستان اور بھارت میں کئی بڑے حملے کیے ہیں۔
ان جہادیوں کا اگلا ہدف چین ہے اور وہ آئندہ چین کے صوبہ ژن جیانگ اورملک کے دیگر حصوں پر حملے کر سکتے ہیں۔افغانستان کو پاکستان کے مفادات سے غرض ہے اور نہ ان کے پاس صلاحیت ہے کہ وہ پاکستانی مشکلات بارے زیادہ وقت ضائع کر سکیں، تاریخی اعتبار سے شدت پسندوں نے ہمیشہ اپنے دفاع کے لیے دشوارگزار سرحدی علاقوں کواستعمال کیا۔
اخبار کے مطابق جب سے افغانستان پر امریکا نے حملہ کیا ہے،طالبان شدت پسند سرحدوں کے دونوں جانب سرگرم ہیں۔پاکستانی سرزمین طالبان کے لیے جنگجوئوں کی بھرتی،منصوبہ بندی اور جائے آرام ہے جبکہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے لیے امریکی شکایات بے سود ثابت ہورہی ہیں۔پاکستان کو سرحد کے آر پار شدت پسندوں کی نقل و حرکت کے خلاف کریک ڈائون سے معمولی مفاد وابستہ ہے لیکن پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف سرد جنگ کے لیے انہیںجہادی اور مذہی گروپ پرانحصارہے۔
چینی اخبار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کا اگلاہدف چین ہوگا ۔سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق امریکا کے پیدا کردہ مجاہدین اب امریکا کے خلاف جنگ میں طالبان کا حصہ بن چکے ہیں،طالبان اور دیگر جہادی گروپ نے پاکستان اور بھارت میں کئی بڑے حملے کیے ہیں۔
ان جہادیوں کا اگلا ہدف چین ہے اور وہ آئندہ چین کے صوبہ ژن جیانگ اورملک کے دیگر حصوں پر حملے کر سکتے ہیں۔افغانستان کو پاکستان کے مفادات سے غرض ہے اور نہ ان کے پاس صلاحیت ہے کہ وہ پاکستانی مشکلات بارے زیادہ وقت ضائع کر سکیں، تاریخی اعتبار سے شدت پسندوں نے ہمیشہ اپنے دفاع کے لیے دشوارگزار سرحدی علاقوں کواستعمال کیا۔
اخبار کے مطابق جب سے افغانستان پر امریکا نے حملہ کیا ہے،طالبان شدت پسند سرحدوں کے دونوں جانب سرگرم ہیں۔پاکستانی سرزمین طالبان کے لیے جنگجوئوں کی بھرتی،منصوبہ بندی اور جائے آرام ہے جبکہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے لیے امریکی شکایات بے سود ثابت ہورہی ہیں۔پاکستان کو سرحد کے آر پار شدت پسندوں کی نقل و حرکت کے خلاف کریک ڈائون سے معمولی مفاد وابستہ ہے لیکن پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف سرد جنگ کے لیے انہیںجہادی اور مذہی گروپ پرانحصارہے۔