حزب اختلاف کا فرض

حزب اختلاف کتنی ہی موقع پرست ہو یہ وقت ایسا ہے کہ اربوں کھربوں کی کرپشن کے خلاف 1977کی طرح متحد ہوکر تحریک چلائی جائے۔

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

جمہوری ملکوں میں اپوزیشن حکومتوں کی خامیوں کے خلاف تحریک چلاتی ہیں اور حکومتوں کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ اپوزیشن کے مطالبات مان لے۔ جمہوری ملکوں میں تحریکیں ایسے مسائل پر چلائی جاتی ہیں جن سے عوام کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔

ہمارے ملک کی تاریخ ویسے تو حکمرانوں کی کرپشن کی تاریخ ہے لیکن پاناما لیکس کے انکشافات کے بعد دنیا بھر میں کرپشن کا ارتکاب کرنے والے حکمرانوں کے خلاف جو احتجاج ہوا اس کے نتیجے میں ترقی یافتہ ملکوں کے کرپٹ حکمرانوں نے اپنے عہدوں سے استعفے دے دیے اور عدلیہ نے بھی کرپٹ حکمرانوں کے خلاف تادیبی کارروائیاں کیں، لیکن پاکستان میں پاناما لیکس کیالزام زدگان نے اقتدار چھوڑنے سے انکار کردیا اور یہ مسئلہ سپریم کورٹ میں چلا گیا۔

سپریم کورٹ نے اس مسئلے پر قانون کے مطابق کارروائیاں شروع کیں تو حکومت نے سپریم کورٹ پر الزام لگانا شروع کیا کہ یہ انصاف نہیں ہورہا ہے بلکہ انتقام ہو رہا ہے اور اس حوالے سے پوری حکومتی ٹیم نے عدلیہ کے خلاف ایک سخت اور بے لگام پروپیگنڈا مہم چلائی۔

1977 کی تحریک میں اپوزیشن کو شکایت تھی کہ حکومت نے دھاندلی کی ہے اور جمہوریت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ حکومت کو یہ شکایت ہے کہ جمہوری حکومت کے خلاف انتقامی کارروائی کی جارہی ہے۔ 1977 میں حکومت اور اپوزیشن دو متحارب فریق تھے اور آج کل جو انوکھی تحریک چل رہی ہے اس میں حکومت اور اعلیٰ عدلیہ دو فریق بنادیے گئے ہیں اور اعلیٰ عدلیہ کے خلاف جملوں کا ایک ایسا سلسلہ جاری ہے کہ ملک کے قانون اور انصاف کے حامی حیران ہو رہے ہیں۔ اس پر مزید گفتگو سے پہلے 2014 اور 1977 کی تحریکوں پر ایک نظر ڈالی جائے تاکہ ان تحریکوں کے محرکات اور اخلاقیات کا اندازہ ہوسکے۔

ہر ملک میں حزب اقتدار کا کام حکومت کی کمزوریوں اور غلطیوں کو نمایاں کرنا اور ان کمزوریوں اور غلطیوں کو درست کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہوتا ہے اور یہ دباؤ اسمبلیوں کے اندر بھی ڈالا جاتا ہے اور اسمبلیوں کے باہر بھی اسمبلیوں کے اندر تحریک التوا اور قراردادوں کے ذریعے ڈالاجاتا ہو اور احتجاج کے ذریعے بھی ڈالا جاتا ہے۔ احتجاج کی نوعیت اور شدت کا انحصار مسائل کی نوعیت اور سنگینی پر ہوتا ہے۔ بعض وقت احتجاج اس قدر شدید اور پھیلا ہوا ہوتا ہے کہ حکومتوں کی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوجاتی ہیں۔

اس حوالے سے ایک حالیہ تحریک اور ایک 1977 کی تحریک کا ذکر ضروری ہے۔ 2014 میں تحریک انصاف اور منہاج القرآن کی طرف سے حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا تحریک شروع کی گئی یہ تحریک اپنی نوعیت کی ایسی شدید تحریک تھی کہ افواہیں یہ اڑیں یا اڑائی گئیں کہ غیر جمہوری مداخلت کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے اور کہا جانے لگا کہ مداخلت کی تیاری ہورہی ہے اس قسم کی افواہ سے ملک کی ''جمہوریت پسند حزب اختلاف'' متحد ہوگی کیونکہ حزب اختلاف کو لولی لنگڑی جمہوریت تو قبول تھی لیکن آمریت کسی قیمت پر پسند نہ تھی۔

سو حزب اختلاف نے متحد ہوکر پارلیمنٹ میں دھرنا لگایا اور اعلان کیا کہ جمہوریت کو کسی قیمت پر ڈی ریل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ 2014 میں اپوزیشن کے اس دباؤ کی وجہ سے جمہوریت بچ گئی، لیکن جس جمہوریت کو بچایا گیا تھا وہ ایسی خود پرست نکلی کہ حزب اختلاف اس حکومت سے عاجز آگئے ہیں۔


اس سے قبل 1977 میں بھی حزب اختلاف کی طرف سے ایک بہت شدید اور پر تشدد تحریک چلائی گئی اس تحریک کا رخ اس وقت کی بھٹو حکومت کی طرف تھا۔ حزب اختلاف کو یہ شکایت تھی کہ بھٹو حکومت نے پنجاب کی چند سیٹوں پر دھاندلی کی ہے اس تحریک میں 9 جماعتیں شامل تھیں جن میں اس وقت کے مشہور سیاست دان ولی خان، اصغر خان، جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور سمیت تمام معروف لیڈر شامل تھے ان سب کا اعتراض یہی تھا کہ پنجاب کی کچھ نشستوں پر دھاندلی ہوئی ہے۔ اس وقت کے نو ستاروں نے تحریک کو اس قدر پر تشدد بنا دیا کہ کئی بے گناہ لوگ مارے گئے۔

اس تحریک کی ایک خصوصیت یہ تھی بلکہ المیہ یہ تھا کہ امریکا اس تحریک میں بالواسطہ اور بلا واسطہ شامل ہوگیا تھا۔ جمہوریت کے چیمپئن مضافاتی علاقوں سے خواتین اور مردوں کو بسوں میں بٹھاکر لے آتے تھے اور شہر کے مختلف مراکز میں پھیلادیے تھے زندہ باد، مردہ باد کے نعروں سے فضا چکا چوند ہورہی تھی، امریکا نے بھٹوکا ایٹمی پروگرام ترک کرنے کا حکم دیا تھا اور ضدی اور سر پھیرا بھٹو امریکا کا حکم ماننے کے لیے تیار نہ تھا ۔ سو بھٹو کو اس جرأت یا جسارت کی سزا اس طرح دی گئی کہ اس کی حکومت کا خاتمہ کردیاگیا ۔ جنرل ضیا الحق نے مارشل لا لگاکر اقتدار پر قبضہ کرلیا ۔

بھٹو پر ایک مقدمہ چلایاگیا اور بھٹو کو سزائے موت دے دی گئی۔ یوں ایک منتخب حکومت کو جس پر کرپشن، بد عنوانی کے کوئی الزامات نہ تھے صرف پنجاب کی چند سیٹوں پر دھاندلی کا الزام تھا انتہائی وحشیانہ انداز میں انجام کو پہنچایا گیا۔ اس وقت جمہوریت کی بے آبروئی کا الزام حکومت پر لگایا گیا جو کسی حوالے سے اتنا شدید اور نقصان رساں نہ تھا کہ اس کے خلاف ایک پر تشدد تحریک چلاکر حکومت کے سربراہ کو پھانسی دی جائے۔

پاکستان میں ایک طویل عرصے سے قومی اداروں میں اربوں روپوں کی کرپشن کا سلسلہ چل رہا ہے اس وبا سے کوئی قومی ادارہ محفوظ نہیں لیکن ان اداروں کے کرپٹ سرپرستوں کے خلاف کوئی خاطر خواہ کارروائیاں نہیں کی گئیں اور کہا یہ جاتا رہا کہ حکومتوں کی سرپرستی کی وجہ سے قومی اداروں میں بیٹھے کرپٹ افسران حکمرانوں کے لگائے ہوئے ہیں۔ لہٰذا ان کے خلاف کارروائی کی کوئی جرأت نہیں کرسکتا لیکن قومی اداروں کی کرپشن زبان زد عام ہوگئی۔

قومی اداروں میں ہونے والی اربوں کی کرپشن کی حیوانیت فضا میں ابھی لہرا ہی رہی تھیں کہ پاناما کا ہنگامہ شروع ہوگیا اور جیسا کہ ہم نے نشان دہی کی ہے اب صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ حکومت اور اعلیٰ عدلیہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ پاناما لیکس کے علاوہ حکمران خاندان پر کرپشن کے کئی الزامات عاید ہوتے جارہے ہیں اور اس تناظر میں سابق وزیراعظم کو نا اہل قرار دے دیا گیا ہے، سابق وزیراعظم کا یہ موقف ہے کہ انھیں اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کے الزام میں نا اہل کیا گیا ہے۔

عوام کی ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہورہاہے کہ بیٹے کی کمپنی سے باپ اگر تنخواہ نہ لے تو اسے نا اہل کرنے کا کیا درست جواز ہے؟ حالانکہ میڈیا میں حکمران خاندان کے کئی لوگوں کے خلاف اربوں روپوں کی کرپشن کے الزام عاید کیے جارہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکمران خاندان پر اربوں کے کرپشن کے الزامات ہیں تو اس کی تفصیل سے عوام کو معہ ثبوت کے آگاہ کیوں نہیں کیا جارہا ہے۔ کیا یہ کوئی حکمت ہے یا سست روی؟ بہر حال اپوزیشن اور عدلیہ کی طرف سے تفصیل سے کرپشن کی داستانیں عوام کے سامنے واضح طور پر نہیں پیش کی گئیں تو پھر عوام کی ذہنوں میں یہ خیال آسکتا ہے کہ حکمران بے قصور ہیں اور ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔

کرپشن اس ملک کے اکیس کروڑ عوام کی خوشحالی کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ اپوزیشن کی اجتماعی ذمے داری ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف اسی طرح متحد ہو جس طرح اس نے 2014 میں جمہوریت کے حق میں متحدہ کردار ادا کیا تھا۔ کرپشن ایک قومی مسئلہ ہے اس کے خلاف صرف میڈیا اور ایک دو جماعتیں شور مچائیں توکچھ نہیں ہوگا۔ حزب اختلاف کتنی ہی موقع پرست ہو یہ وقت ایسا ہے کہ اربوں کھربوں کی کرپشن کے خلاف 1977 کی طرح متحد ہوکر تحریک چلائی جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے اور ملک کرپشن کی لعنت سے نجات پاسکے۔
Load Next Story