جعلی آرڈرز پر سکھر جیل سے 3 قیدیوں کی رہائی کا انکشاف
واقعات ستمبر اور اکتوبر 2012 میں رونما ہوئے، جیکب آبادکی عدالت سے جعلی آرڈرز جاری کرائے گئے، وزیر جیل ضیاالحسن لنجار
ضلع غربی میں نئی جیل بنے گی، سینٹرل جیل کراچی کو نو عمرلڑکوں اور خواتین قیدیوں کے لیے مخصوص کردیا جائے گا، وقفہ سوالات۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
جعلی آرڈرز پر سینٹرل جیل سکھر سے3 قیدیوں کو رہاکرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
سینٹر جیل سکھر سے قیدیوں کی جعلی آرڈرز پر رہائی کا اعتراف سندھ کے وزیر جیل خانہ جات ضیا الحسن لنجار نے گزشتہ روز سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران کیا۔ انھوں نے بتایاکہ خطرناک قیدیوں کے لیے جھرک میں ایک خصوصی جیل تعمیر کی جائے گی۔ کراچی کے ضلع غربی میں ایک نئی جیل بنائی جائے گی جب کہ موجودہ سینٹرل جیل کراچی کو نو عمرلڑکوں اور خواتین قیدیوں کے لیے مخصوص کردیا جائے گا۔
وزیرجیل خانہ جات نے بتایاکہ جعلی آرڈرز پر قیدیوں کی رہائی کے واقعات ستمبر اور اکتوبر2012 میں رونما ہوئے تھے۔ جعلی آرڈرز سیکنڈ ایڈیشنل سیشن جج جیکب آبادکی عدالت سے جاری کیے گئے تھے۔ انھوں نے کہاکہ جون 2013 میں کراچی سینٹرل جیل میں رینجرزکے سرچ آپریشن کے دوران سیکڑوں سیل فون اور دیگر غیر قانونی سامان ملنے سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔ صرف6سیل فون ملے تھے اور اس پر محکمہ داخلہ حکومت سندھ نے کچھ جیل افسروں اور اہلکاروں کو معطل کردیا تھا۔
ضیا الحسن لنجار نے بتایاکہ خطرناک قیدیوں کی منتقلی کا فیصلہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا۔ سیکیورٹی کے پیش نظر قیدیوں کو ایک جیل سے دوسری جیل منتقل کیا جاتاہے۔ خطرناک قیدیوں کے لیے الگ سے جیل بنائی جا رہی ہے۔ یہ جیل جھرک میں تعمیر کی جائے گی۔ اس خصوصی جیل کے قیام میں4 سے 5 برس لگیںگے۔ 34 خطرناک قیدیوں کو سکھر جیل منتقل کیا گیاہے۔
وزیر جیل نے یہ بھی بتایا کہ کراچی کے ضلع غربی میں نئی جیل تعمیر کی جا رہی ہے جس سے سینٹرل جیل کراچی پر دباؤ کم ہوگا۔ سندھ کی جیلوں میں کوئی سیاسی قیدی نہیں۔ قیدیوں کے جرائم کے حساب سے درجہ بندی کی جاتی ہے۔ سنگین جرائم میں گرفتار نہ ہونے والے گریجویٹ قیدیوںکو بی کلاس دی جاتی ہے۔ جیل میں خطرناک قیدیوں کو علیحدہ رکھا جاتا ہے۔
ضیا الحسن لنجار نے بتایاکہ 7 کروڑ روپے کے فنڈ سے سینٹرل جیل کراچی کی نگرانی کا نظام بہتر بنایا گیا ہے۔ سینٹرل جیل کی خصوصی دیوار70 فیصد مکمل ہو چکی ہے۔ جیل میں ججوں کے لیے کالونی بنائی جا رہی ہے۔ اس وقت جیل میں12 عدالتیں لگ رہی ہیں۔
اس سوال پر کہ سینٹرل جیل کراچی کو شہر سے منتقل کیوں نہیں کیا جاتا؟ وزیر جیل نے کہاکہ کراچی غربی میں نئی جیل بن رہی ہے۔ اس کے بعد سینٹرل جیل کو نوعمر اور خواتین قیدیو ں کے لیے مخصوص کر دیا جائے گا۔
ایک اور سوال پر ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ خطرناک قیدیوں کے مقدمات کی سماعت جیل ہی میں ہوتی ہے۔ فول پروف سیکیورٹی کے بغیر خطرناک قیدیوں کو پیشی پر نہیں بھیجا جاتا۔ خطرناک قیدیوں کا کھانا چیک ہوتا ہے۔
اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ سابق صدر آصف زرداری نے دوران اسیری جیل میں کھانا پکانے کی مشینری تحفے میں دی تھی۔
وزیر جیل نے کہا کہ جیلوں کی نگرانی کے لیے جدید آئی ٹی نظام پر کام ہو رہا ہے۔4 جی بی سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرائے جائیںگے کراچی، سکھر، لاڑکانہ اور حیدرآبادکی جیلوں میں موبائل فون جیمرز لگا دیے ہیںجسکی وجہ سے500 میٹرحدود میں سیل فون کام نہیں کرتے۔
جعلی آرڈرز پر سینٹرل جیل سکھر سے3 قیدیوں کو رہاکرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
سینٹر جیل سکھر سے قیدیوں کی جعلی آرڈرز پر رہائی کا اعتراف سندھ کے وزیر جیل خانہ جات ضیا الحسن لنجار نے گزشتہ روز سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران کیا۔ انھوں نے بتایاکہ خطرناک قیدیوں کے لیے جھرک میں ایک خصوصی جیل تعمیر کی جائے گی۔ کراچی کے ضلع غربی میں ایک نئی جیل بنائی جائے گی جب کہ موجودہ سینٹرل جیل کراچی کو نو عمرلڑکوں اور خواتین قیدیوں کے لیے مخصوص کردیا جائے گا۔
وزیرجیل خانہ جات نے بتایاکہ جعلی آرڈرز پر قیدیوں کی رہائی کے واقعات ستمبر اور اکتوبر2012 میں رونما ہوئے تھے۔ جعلی آرڈرز سیکنڈ ایڈیشنل سیشن جج جیکب آبادکی عدالت سے جاری کیے گئے تھے۔ انھوں نے کہاکہ جون 2013 میں کراچی سینٹرل جیل میں رینجرزکے سرچ آپریشن کے دوران سیکڑوں سیل فون اور دیگر غیر قانونی سامان ملنے سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔ صرف6سیل فون ملے تھے اور اس پر محکمہ داخلہ حکومت سندھ نے کچھ جیل افسروں اور اہلکاروں کو معطل کردیا تھا۔
ضیا الحسن لنجار نے بتایاکہ خطرناک قیدیوں کی منتقلی کا فیصلہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا۔ سیکیورٹی کے پیش نظر قیدیوں کو ایک جیل سے دوسری جیل منتقل کیا جاتاہے۔ خطرناک قیدیوں کے لیے الگ سے جیل بنائی جا رہی ہے۔ یہ جیل جھرک میں تعمیر کی جائے گی۔ اس خصوصی جیل کے قیام میں4 سے 5 برس لگیںگے۔ 34 خطرناک قیدیوں کو سکھر جیل منتقل کیا گیاہے۔
وزیر جیل نے یہ بھی بتایا کہ کراچی کے ضلع غربی میں نئی جیل تعمیر کی جا رہی ہے جس سے سینٹرل جیل کراچی پر دباؤ کم ہوگا۔ سندھ کی جیلوں میں کوئی سیاسی قیدی نہیں۔ قیدیوں کے جرائم کے حساب سے درجہ بندی کی جاتی ہے۔ سنگین جرائم میں گرفتار نہ ہونے والے گریجویٹ قیدیوںکو بی کلاس دی جاتی ہے۔ جیل میں خطرناک قیدیوں کو علیحدہ رکھا جاتا ہے۔
ضیا الحسن لنجار نے بتایاکہ 7 کروڑ روپے کے فنڈ سے سینٹرل جیل کراچی کی نگرانی کا نظام بہتر بنایا گیا ہے۔ سینٹرل جیل کی خصوصی دیوار70 فیصد مکمل ہو چکی ہے۔ جیل میں ججوں کے لیے کالونی بنائی جا رہی ہے۔ اس وقت جیل میں12 عدالتیں لگ رہی ہیں۔
اس سوال پر کہ سینٹرل جیل کراچی کو شہر سے منتقل کیوں نہیں کیا جاتا؟ وزیر جیل نے کہاکہ کراچی غربی میں نئی جیل بن رہی ہے۔ اس کے بعد سینٹرل جیل کو نوعمر اور خواتین قیدیو ں کے لیے مخصوص کر دیا جائے گا۔
ایک اور سوال پر ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ خطرناک قیدیوں کے مقدمات کی سماعت جیل ہی میں ہوتی ہے۔ فول پروف سیکیورٹی کے بغیر خطرناک قیدیوں کو پیشی پر نہیں بھیجا جاتا۔ خطرناک قیدیوں کا کھانا چیک ہوتا ہے۔
اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ سابق صدر آصف زرداری نے دوران اسیری جیل میں کھانا پکانے کی مشینری تحفے میں دی تھی۔
وزیر جیل نے کہا کہ جیلوں کی نگرانی کے لیے جدید آئی ٹی نظام پر کام ہو رہا ہے۔4 جی بی سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرائے جائیںگے کراچی، سکھر، لاڑکانہ اور حیدرآبادکی جیلوں میں موبائل فون جیمرز لگا دیے ہیںجسکی وجہ سے500 میٹرحدود میں سیل فون کام نہیں کرتے۔