گٹر باغیچہ کی 200 ایکڑ اراضی 10 روپے فی اسکوائر فٹ الاٹ کرنے کا انکشاف
کچی آبادیوں اور گوٹھوں کی لیز ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی پوچھنے والا ہے، سندھ ہائی کورٹ
غیر قانونی الاٹ اراضی کا نوٹی فکیشن منسوخ کردیا، غیر قانونی کام میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی ہوگی، چیف سیکریٹری، فوٹو:فائل
گٹر باغیچہ کی 200 ایکڑ اراضی 10 روپے فی اسکوائر فٹ میں الاٹ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
اس بات کا انکشاف سندھ ہائی کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ہوا۔ ہائی کورٹ میں قیام پاکستان سے پہلے سے موجود گٹر باغیچہ کی 200 ایکڑ اراضی پر چائنا کٹنگ سے متعلق چیف سیکریٹری رضوان میمن نے جواب عدالت میں پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ دستاویزات میں گٹر باغیچہ کی اراضی 10 روپے فی اسکوائر یارڈ الاٹ کی گئی۔
1993ء میں غیر قانونی طریقے سے الاٹ کی جانے والی اراضی کا نوٹی فکیشن منسوخ کردیا گیا، ہائی کورٹ میں قیام پاکستان سے قبل کے گٹر باغیچہ کی 200 ایکڑ اراضی پر چائنا کٹنگ سے متعلق تاریخی پارک کی بحالی کے لیے سماجی شخصیات کی جانب سے درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کچی آبادیوں اور گوٹھوں کے نام پر شہر کا بیڑا غرق کردیا گیا اور شہر کا بیڑا غرق کرنے میں ریونیو ڈپارٹمنٹ ملوث ہے۔
عدالت نے آبزرویشن دی کہ کچی آبادیوں اور گوٹھوں کی لیز ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی پوچھنے والا ہے، چیف سیکریٹری رضوان میمن نے جواب عدالت میں پیش کردیا۔ جواب کے مطابق 1993ء میں غیر قانونی طریقے سے الاٹ کی جانے والی اراضی کا نوٹی فکیشن منسوخ کردیا گیا، جواب میں انکشاف کیا کہ دستاویزات میں گٹر باغیچہ کی اراضی 10 روپے فی اسکوائر یارڈ الاٹ کی گئی۔ جواب میں کہا گیا غیر قانونی الاٹمنٹ میں ملوث عناصر کے خلاف اینٹی کرپشن میں کارروائی جاری ہے کے ایم سی کو مذکورہ اراضی کسی کو الاٹ کرنے سے روک دیا۔
شہری کے وکیل نے کہا کہ سیاسی جماعت نے اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی الاٹمنٹ کی، طویل عرصے سے جدوجہد کررہے ہیں کہ پارک کو بحال کردیا جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس کیس کو ترجیح بنیادوں پر سنیں گے، عدالت نے سماعت 12 مارچ تک ملتوی کردی۔
اس بات کا انکشاف سندھ ہائی کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ہوا۔ ہائی کورٹ میں قیام پاکستان سے پہلے سے موجود گٹر باغیچہ کی 200 ایکڑ اراضی پر چائنا کٹنگ سے متعلق چیف سیکریٹری رضوان میمن نے جواب عدالت میں پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ دستاویزات میں گٹر باغیچہ کی اراضی 10 روپے فی اسکوائر یارڈ الاٹ کی گئی۔
1993ء میں غیر قانونی طریقے سے الاٹ کی جانے والی اراضی کا نوٹی فکیشن منسوخ کردیا گیا، ہائی کورٹ میں قیام پاکستان سے قبل کے گٹر باغیچہ کی 200 ایکڑ اراضی پر چائنا کٹنگ سے متعلق تاریخی پارک کی بحالی کے لیے سماجی شخصیات کی جانب سے درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کچی آبادیوں اور گوٹھوں کے نام پر شہر کا بیڑا غرق کردیا گیا اور شہر کا بیڑا غرق کرنے میں ریونیو ڈپارٹمنٹ ملوث ہے۔
عدالت نے آبزرویشن دی کہ کچی آبادیوں اور گوٹھوں کی لیز ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی پوچھنے والا ہے، چیف سیکریٹری رضوان میمن نے جواب عدالت میں پیش کردیا۔ جواب کے مطابق 1993ء میں غیر قانونی طریقے سے الاٹ کی جانے والی اراضی کا نوٹی فکیشن منسوخ کردیا گیا، جواب میں انکشاف کیا کہ دستاویزات میں گٹر باغیچہ کی اراضی 10 روپے فی اسکوائر یارڈ الاٹ کی گئی۔ جواب میں کہا گیا غیر قانونی الاٹمنٹ میں ملوث عناصر کے خلاف اینٹی کرپشن میں کارروائی جاری ہے کے ایم سی کو مذکورہ اراضی کسی کو الاٹ کرنے سے روک دیا۔
شہری کے وکیل نے کہا کہ سیاسی جماعت نے اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی الاٹمنٹ کی، طویل عرصے سے جدوجہد کررہے ہیں کہ پارک کو بحال کردیا جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس کیس کو ترجیح بنیادوں پر سنیں گے، عدالت نے سماعت 12 مارچ تک ملتوی کردی۔