سینیٹ کے انتخابات ایک تاریخ ساز دن

اندرون ملک حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں باہمی لفظی جنگ رکنے پر تیار نہیں

اندرون ملک حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں باہمی لفظی جنگ رکنے پر تیار نہیں۔ فوٹو: فائل

FATEH JHANG:
وفاقی دارالحکومت ، فاٹا اور چاروں صوبوں کے ریٹائر ہونے والے52سینیٹرز کی نشستوں کے لیے پولنگ آج (ہفتہ) ہو رہی ہے۔اس اعتبار سے 3 مارچ2018ء کو جمہوری تسلسل کے باب میں ایک خوش آیند اور عہد آفریں دن کا اعزاز حاصل ہوگا جس میں ملکی سیاست سے وابستہ سیاست دان،سول سوسائٹی اور ریاستی اداروں کے نگہبان دنیا کو یہ پیغام دے سکیں گے کہ تمام تر داخلی معاملات کی سنگینی، بے سمتی و بے یقینی ، شدید اختلاف رائے، کشیدگی اور غیر معمولی صورتحال کے باوجود پاکستان کے عوام کی جمہوریت سے کمٹمنٹ غیر متزلزل ہے جب کہ ملکی وقار ، سالمیت، قومی خود مختاری اور دفاع و معیشت کے مفادات کے تحفظ کے لیے قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار اور ایک پیج پر ہے۔

بلاشبہ سیاست میں بالائی اور زیریں سطح پر ارتعاش کا سفر جاری ہے ، مگر یہ ایک صائب پیش رفت ہے کہ اعصاب شکن افواہوں اور چہ میگوئیوں کے طوفان میں سینیٹ کے الیکشن شیڈول کے مطابق ہونے جارہے ہیں جب کہ ضرورت ان کے انعقاد کو شفافیت عطا کرنے کی ہے نیز اس الزام سے بھی کامیاب ہونے والے سینیٹرز پاک دامنی کی سند خود اپنے ضمیر سے لے کر قوم کو بتادیں کہ سینیٹ کے ووٹ کروڑوں اربوں کے بھاؤ نہ خریدے گئے اور نہ بیچے گئے۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ بہتان طرازی کی سیاست کے گھناؤنے چکر نے گومگو کی کیفیت پیدا کی ہے، سیاست ، عدالت، معیشت، صداقت اور جمہوریت کے حوالے سے میڈیا میں مناظرے کا سماں ہے، ایک طرف مقدمات کی سماعتوں اور ان کے اختتام پر دوررس نتائج کے حامل فیصلوں کے امکانی کرب کے آثار سیاسی و سماجی نظام کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں، سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف مقدمات سنے جارہے ہیں، ن لیگ کی بقا کی جنگ سمیت داخلی قلب ماہیت، مزاحمت اور سٹبلشمنٹ سے ٹکراؤ کی وجہ سے حکومت تنی ہوئی رسی پر چل رہی ہے، اسی تناظر میں امریکی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ امریکا پاکستان سے تعلقات منقطع کر رہا ہے، امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی نائب معاون وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا پاکستان کو افغان استحکام کے لیے کلیدی حصہ سمجھتا ہے ، پاکستان کے مفادات کو بھی سامنے رکھا جائے گا۔

اندرون ملک حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں باہمی لفظی جنگ رکنے پر تیار نہیں، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ نیب سیاسی جماعتیں توڑنے کے لیے بنایا گیا، سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ اور العزیزیہ اسٹیل کے ضمنی ریفرنسز میں استغاثہ کے 5گواہوں کا بیان قلمبندکر لیا گیا ہے ،شہباز شریف نے عمران خان کے الزامات پر کہا ہے کہ دھیلے کی کرپشن ثابت ہوجائے سیاست چھوڑ دونگا، چیف جسٹس فل بینچ بنا کرتحقیقات کرائیں، ادھر عمران خان کا کہنا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں پیسہ بول رہا ہے، وہ اقتدار میں آنے کے بعد سینیٹ کے براہ راست انتخابات کا طریقہ لانے کی بات کرتے ہیں، ڈاکٹر شاہد مسعود نے زینب کیس میں سیریل کلر عمران علی کے حوالہ سے جو دھواں دار انکشافات کیے تھے جے آئی ٹی نے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانے والی اپنی رپورٹ میں اینکر کے تمام الزامات کو مسترد کردیا۔اب اینکر کے لیے عدالت عظمیٰ کیا فیصلہ کرتی ہے یہ ملکی الیکٹرانک میڈیا کی تاریخ کا دلچسپ واقعہ ہوگا۔


الیکشن کمیشن میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی کنوینئرشپ کے معاملہ پر ڈاکٹر فاروق ستار نے الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار چیلنج کر دیا، جب کہ پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ اگر مہاجروں کو قائل نہ کرسکا تو اپنی پارٹی بند کروں گا اور واپس چلاجاؤنگا۔ سچ تو یہ ہے کہ سیاست دانوں میں لمحہ موجود کے ساتھ ہی جذبات و شدت آمیز رد عمل اور بحث و تکرار کی لذت دیکھنا ہو تو ٹی وی ٹاکس سے بہتر غالبؔ کے اس شعر کا تطابق کسی اور ذریعہ سے نہیں ہوسکتا کہ ''تماشا ، کہ اے محو آئینہ داری ، تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں''۔ تاہم یہ امر باعث اطمینان ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے سینیٹ الیکشن کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، لاہور ہائیکورٹ نے ڈار کی اہلیت چیلنج کرنیکی اجازت دے دی۔

واضح رہے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے امیدوار آزاد حیثیت میں انتخاب لڑیں گے، چاروں صوبوں کی اسمبلیوں میں ہونے والی پولنگ میں سندھ اور پنجاب سے12، 12جب کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے 11،11امیدواروں کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا، سینیٹ انتخابات کے لیے سندھ کی12نشستوں پر 33امیدواروں میں مقابلہ ہوگا جن میں ایم کیو ایم پاکستان کے14، پیپلز پارٹی کے12، پاک سرزمین پارٹی کے3، تحریک انصاف اور مسلم لیگ فنکشنل کا ایک ایک امیدوار میدان میں ہے، ٹیکنو کریٹ کی نشست کے لیے6امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا ۔

فاٹا کی 4نشستوں پر 24امیدوار میدان میں ہیں۔ ریٹائر ہونے والے52میں سے18سینیٹرز کا تعلق پیپلز پارٹی، 9کا حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن)، 5 عوامی نیشنل پارٹی، 4 مسلم لیگ (ق) ، 4متحدہ قومی موومنٹ، 3 جمعیت علمائے اسلام (ف)، 2بلوچ نیشنل پارٹی (اے)، ایک کا تعلق تحریک انصاف اور ایک مسلم لیگ (ف) سے ہے جب کہ5آزاد سینیٹرز بھی ریٹائر ہونے والوں میں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات میں ریٹرننگ افسروں کو مجسٹریٹ کے اختیارات دیتے ہوئے انھیں موقع پر کرپٹ پریکٹس میں ملوث یا خفیہ بیلٹنگ کی خلاف ورزی کرنے والے ووٹرز کے خلاف سمری ٹرائل کرکے سزا دینے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کے معاملے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جب کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کو کوٹے کے مطابق پانی کی عدم فراہمی کے سلسلے میں واک آؤٹ کیا، جمعرات کو نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان کو امریکا اور بھارت کے گٹھ جوڑ کے باعث فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے گرے لسٹ میں ڈالا گیا جس کا مقصد صرف پاکستان کو شرمندہ کرنا ہے، اس کا پاکستان کی معیشت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا تاہم پاکستان کی بینکنگ ٹرانزیکشن پر نظر رکھی جائے گی۔

یوں پورے ملکی سیاسی منظرنامہ کا یہ پہلو سامنے آتا ہے کہ قوم نے عدالتی محاذ پر سپریم کورٹ کے جسٹس دوست محمد کی فکر انگیز باتیں سن لی ہیں، فاضل جج نے پشاور ہائیکورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی معاملات عدالتوں میں لے جانے سے مارشل لاء کی راہ ہموار ہوتی ہے، لہذا سیاست دان اپنے مسائل پارلیمنٹ میں حل کریں،ان کا کہنا تھا کہ معاشرے سے قانون کا خوف ختم ہورہا ہے ۔ ان کے ارشادات سیاست دانوں کے لیے چشم کشا ہیں ، انھیں اپنے طرز عمل اور بے لچک رویے کو ترک کرنا چاہیے اور غیر جمہوری قوتوں کے لیے راہ ہموار کرنے کے تاریخ سوز جرم سے دور رہیں تو اسی میں جمہوریت ، ملکی وقار اور اداروں کی بقا مضمر ہے۔
Load Next Story