جنگل کا بادشاہ
شیر فطرتاً ایک درندہ ہوتا ہے اور بکری فطرتاً کمزور اور مظلوم ہوتی ہے۔
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
ایک شخص جائز یا ناجائز طریقے سے ایک ہزار روپے بھی حاصل کرلیتا ہے تو اس کے تحفظ کے لیے سو جتن کرتا ہے یہ سرمایہ دارانہ نظام کی ایسی سائیکی ہے جو کسی ملک یا قوم تک محدود نہیں ہے۔ یہ سائیکی ایک عالمی بیماری ہے جس کا ابھی تک کوئی تشفی بخش علاج دریافت نہیں ہوسکا۔
کینسر ایک ایسا مرض ہے جس کے علاج کی صدیوں سے کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن اب تک یہ کوششیں حتمی طور پرکامیاب نہیں ہوسکیں۔ انسان امید پر زندہ رہتا ہے، اسی لیے وہ ہر خرابی ہر بیماری کے علاج میں مسلسل ناکامیوں کے باوجود بھی لگا رہتا ہے۔
میڈیا میں یہ خبریں آتی رہتی ہیں کہ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے جانوروں پر تجربات کرکے کینسر کے علاج میں جزوی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اس کے باوجود ماہرین حتمی کامیابی کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ کینسر بلاشبہ ایک خطرناک مرض ہے لیکن اس مرض میں نہ ساری انسانی برادری مبتلا رہی ہے نہ کوئی قوم بحیثیت قوم اس بیماری کا شکار رہی ہے۔
مشکل سے دو تین فیصد لوگ اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں لیکن یہ بیماری لاعلاج ہونے کی وجہ سے انسانوں میں خوف اور سنسنی پھیلانے کا باعث بنی ہوئی ہے، اس خوفناک بیماری کے علاج کے لیے کوشش کرنے والوں کو ہر طرف سے خراج تحسین ملتا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام میں ہر جائز و ناجائز طریقے سے دولت حاصل کرنا اشرافیہ کی ضرورت ہے اور اس ناجائز عوام سے چھینی ہوئی دولت کا تحفظ اعلیٰ طبقات کی زندگی کا اولین مقصد ہوتا ہے۔ جیساکہ ہم نے وضاحت کی ہے کینسر لاعلاج مرض ہے لیکن انسانیت کے دوست رات دن اس کے علاج کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔
دولت کی لوٹ مار اور اس کی حفاظت کی ہر طرح سے کوشش لٹیرے طبقات کی زندگی کا پہلا اور آخری مقصد ہوتا ہے۔ پاکستان کے عوام بھوک افلاس بے روزگاری اور بیماریوں کا شکار ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ قوم کی دولت کے 80 فیصد سے زیادہ حصے پر مٹھی بھر اشرافیہ نے قبضہ کر رکھا ہے۔
ستر سال کے بعد پہلی بار ایک ادارے نے لٹیروں سے لوٹی ہوئی دولت واپس لینے کا ایک مثبت سلسلہ شروع کیا ہے اس کوشش سے سرمایہ دارانہ نظام کا لٹیرا پن تو ختم نہیں ہوسکتا لیکن دولت کے ایک بڑے حصے کو اشرافیہ کے قبضے سے نکالا جاسکتا ہے اگرچہ یہ اقدام بہت محدود پیمانے پر کیے جا رہے ہیں لیکن ان اقدامات سے ساری لٹیری کلاس مضطرب ہے اور اس کی کوشش ہے کہ ان اقدامات کو اسی مرحلے میں ناکام بنادیا جائے تاکہ پوری لٹیری کلاس خطرات کی زد میں نہ آجائے۔
لٹیری کلاس ان اقدامات کو ناکام بنانے کے لیے اگرچہ بے شمار حربے استعمال کر رہی ہے لیکن ان حربوں میں ایک خطرناک حربہ سادہ لوح عوام کو اپنے دفاع کے لیے استعمال کرنے کا حربہ ہے۔ بدقسمتی سے سیاسی شعور کی کمی کی وجہ سے عوام اب تک دوست اور دشمن کو پہچاننے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے طبقاتی دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل جاتے ہیں۔
لٹیری کلاس سے لوٹی ہوئی دولت واپس لینے کی کوشش خواہ کسی طرف سے کی جائے، اس کی حمایت کی جانی چاہیے اس کوشش کو ناکام بنانے کا ایک حربہ یہ ہے کہ ظالم اپنے آپ کو عوام میں مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ کوشش اس قدر مہارت سے کرتا ہے کہ سادہ لوح عوام دھوکا کھا جاتے ہیں، پاکستان میں یہی ہو رہا ہے۔
قومی دولت کی لوٹ مار کے مسئلے پر میڈیا اگر عوامی مفادات کو پیش نظر رکھے تو وہ اپنی پالیسی عوام کے اجتماعی مفادات میں ترتیب دیتا ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں میڈیا کے سرپرستوں کے مفادات کا مسئلہ بھی آڑے آجاتا ہے لہٰذا وہ عوام کے مفادات کے حوالے سے عوام کے حقوق کے تحفظ کی راہ پر چلنے کے بجائے غیر جانبدارانہ یعنی فریقین کے موقف کو پیش کرنے کی سکہ بند پالیسی پر عمل پیرا ہوتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اشرافیہ پروپیگنڈے کے ماہرین کی خدمات حاصل کرکے یکطرفہ پروپیگنڈے کا ایسا طوفان اٹھا دیتی ہے کہ عوام کا کنفیوژ ہونا ایک فطری بات ہوجاتی ہے۔ چونکہ سرمایہ دارانہ نظام کے دیوتاؤں نے آزاد پریس کا ایک ایسا فلسفہ ایجاد کیا ہے کہ اس میں ظالم و مظلوم کو یکساں درجہ دیا جاتا ہے۔
اس پالیسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اشرافیہ عوام سے لوٹی ہوئی دولت کو عوام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے میں اس بے دردی سے استعمال کرتی ہے کہ غریب طبقات کی نمایندگی کرنے والوں کا موقف لٹیری کلاس کے کروڑوں کے سرمائے کے استعمال کے موقف کی دھول میں بے اثر ہوکر رہ جاتا ہے۔
موجودہ دور میڈیا کا دور ہے اور موجودہ دور اشرافیہ کی بے محابہ لوٹ مارکا دور بھی ہے اس لوٹ مار میں اگر میڈیا غیر جانبدار رہتا ہے تو وہ بالواسطہ عوام پر ہونے والے مظالم کو چھپانے کا کردار ادا کرتا ہے۔ عوام کو حقائق اور طبقاتی مظالم سے آگاہ کرنا سیاسی جماعتوں کی ذمے داری ہوتی ہے لیکن بدبختی یہ ہے کہ بااثر اور بااختیار سیاسی جماعتیں اشرافیہ کی ملکیت ہیں اور وہ عوام کو طبقاتی مظالم سے آگاہ کرنے کے بجائے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عوام حقائق سے عموماً بے خبر ہوتے ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام میں میڈیا کی غیر جانبداری کا مطلب استحصالی طبقات کی بالواسطہ اور بلاواسطہ حمایت کے علاوہ کچھ نہیں کیونکہ ظالم اور مظلوم کے درمیان غیر جانبداری کا مطلب ظالم کی حمایت کے علاوہ کچھ نہیں۔ سرمایہ دارانہ اخلاقیات میں شیر اور بکری یکساں حیثیت کے حامل ہوتے ہیں۔ حالانکہ ''شیر ایک درندہ ہے۔'' اور درندہ کمزوروں کو کھا جاتا ہے۔
شیر اور بکری کے مسئلے پر غیر جانبداری سرمایہ دارانہ اخلاقیات کی مظہر تو ہوسکتی ہے انسانی اخلاقیات کی تعریف پر پوری نہیں اتر سکتی۔ شیر فطرتاً ایک درندہ ہوتا ہے اور بکری فطرتاً کمزور اور مظلوم ہوتی ہے۔ میں ٹی وی پر جنگل کی زندگی پر مبنی پروگرام بڑی دلچسپی سے دیکھتا ہوں جانوروں کے ریوڑ کے ریوڑ ایک درندے سے خوفزدہ ہوکر جان بچانے کے لیے جدھر منہ اٹھا بھاگتے ہیں ۔ حالانکہ بعض جانور شیر سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں لیکن درندوں کا خوف ان پر حاوی آجاتا ہے۔
میں نے کئی بار دیکھا ایک ہرن کا بچہ جس کی عمر گھنٹہ آدھ گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوتی وہ شیر کی گرفت میں آجاتا ہے۔ شیر اس لڑکھڑاتے ہرن کے بچے سے کھیلتا ہے اور ناظرین یہ سمجھتے ہیں کہ شیر کو آدھے گھنٹے عمر کے ہرن کے بچے پر رحم آرہا ہے لیکن جب وہ ہرن کے بچے کے حلق میں اپنے دانت گاڑھ دیتا ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ درندے کی فطرت نہیں بدل سکتی۔ لٹیری اشرافیہ شہر میں رہنے والی وہ درندہ ہے جس کی فطرت میں کمزوروں کو شکار کرنا ہوتا ہے۔
آج اس اشرافیہ کے خلاف اگر کوئی ادارہ قدم اٹھا رہا ہے تو وہ کمزوروں کی حمایت کر رہا ہے اور کمزور طبقات کا یہ طبقاتی فرض ہے کہ وہ اس کی حمایت کریں میڈیا کی غیر جانبداری کا فلسفہ شیر اور بکری کے درمیان غیر جانبداری کا فلسفہ ہے جس کا نتیجہ شیر کی بالادستی کی شکل ہی میں برآمد ہوسکتا ہے۔
کینسر ایک ایسا مرض ہے جس کے علاج کی صدیوں سے کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن اب تک یہ کوششیں حتمی طور پرکامیاب نہیں ہوسکیں۔ انسان امید پر زندہ رہتا ہے، اسی لیے وہ ہر خرابی ہر بیماری کے علاج میں مسلسل ناکامیوں کے باوجود بھی لگا رہتا ہے۔
میڈیا میں یہ خبریں آتی رہتی ہیں کہ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے جانوروں پر تجربات کرکے کینسر کے علاج میں جزوی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اس کے باوجود ماہرین حتمی کامیابی کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ کینسر بلاشبہ ایک خطرناک مرض ہے لیکن اس مرض میں نہ ساری انسانی برادری مبتلا رہی ہے نہ کوئی قوم بحیثیت قوم اس بیماری کا شکار رہی ہے۔
مشکل سے دو تین فیصد لوگ اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں لیکن یہ بیماری لاعلاج ہونے کی وجہ سے انسانوں میں خوف اور سنسنی پھیلانے کا باعث بنی ہوئی ہے، اس خوفناک بیماری کے علاج کے لیے کوشش کرنے والوں کو ہر طرف سے خراج تحسین ملتا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام میں ہر جائز و ناجائز طریقے سے دولت حاصل کرنا اشرافیہ کی ضرورت ہے اور اس ناجائز عوام سے چھینی ہوئی دولت کا تحفظ اعلیٰ طبقات کی زندگی کا اولین مقصد ہوتا ہے۔ جیساکہ ہم نے وضاحت کی ہے کینسر لاعلاج مرض ہے لیکن انسانیت کے دوست رات دن اس کے علاج کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔
دولت کی لوٹ مار اور اس کی حفاظت کی ہر طرح سے کوشش لٹیرے طبقات کی زندگی کا پہلا اور آخری مقصد ہوتا ہے۔ پاکستان کے عوام بھوک افلاس بے روزگاری اور بیماریوں کا شکار ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ قوم کی دولت کے 80 فیصد سے زیادہ حصے پر مٹھی بھر اشرافیہ نے قبضہ کر رکھا ہے۔
ستر سال کے بعد پہلی بار ایک ادارے نے لٹیروں سے لوٹی ہوئی دولت واپس لینے کا ایک مثبت سلسلہ شروع کیا ہے اس کوشش سے سرمایہ دارانہ نظام کا لٹیرا پن تو ختم نہیں ہوسکتا لیکن دولت کے ایک بڑے حصے کو اشرافیہ کے قبضے سے نکالا جاسکتا ہے اگرچہ یہ اقدام بہت محدود پیمانے پر کیے جا رہے ہیں لیکن ان اقدامات سے ساری لٹیری کلاس مضطرب ہے اور اس کی کوشش ہے کہ ان اقدامات کو اسی مرحلے میں ناکام بنادیا جائے تاکہ پوری لٹیری کلاس خطرات کی زد میں نہ آجائے۔
لٹیری کلاس ان اقدامات کو ناکام بنانے کے لیے اگرچہ بے شمار حربے استعمال کر رہی ہے لیکن ان حربوں میں ایک خطرناک حربہ سادہ لوح عوام کو اپنے دفاع کے لیے استعمال کرنے کا حربہ ہے۔ بدقسمتی سے سیاسی شعور کی کمی کی وجہ سے عوام اب تک دوست اور دشمن کو پہچاننے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے طبقاتی دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل جاتے ہیں۔
لٹیری کلاس سے لوٹی ہوئی دولت واپس لینے کی کوشش خواہ کسی طرف سے کی جائے، اس کی حمایت کی جانی چاہیے اس کوشش کو ناکام بنانے کا ایک حربہ یہ ہے کہ ظالم اپنے آپ کو عوام میں مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ کوشش اس قدر مہارت سے کرتا ہے کہ سادہ لوح عوام دھوکا کھا جاتے ہیں، پاکستان میں یہی ہو رہا ہے۔
قومی دولت کی لوٹ مار کے مسئلے پر میڈیا اگر عوامی مفادات کو پیش نظر رکھے تو وہ اپنی پالیسی عوام کے اجتماعی مفادات میں ترتیب دیتا ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں میڈیا کے سرپرستوں کے مفادات کا مسئلہ بھی آڑے آجاتا ہے لہٰذا وہ عوام کے مفادات کے حوالے سے عوام کے حقوق کے تحفظ کی راہ پر چلنے کے بجائے غیر جانبدارانہ یعنی فریقین کے موقف کو پیش کرنے کی سکہ بند پالیسی پر عمل پیرا ہوتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اشرافیہ پروپیگنڈے کے ماہرین کی خدمات حاصل کرکے یکطرفہ پروپیگنڈے کا ایسا طوفان اٹھا دیتی ہے کہ عوام کا کنفیوژ ہونا ایک فطری بات ہوجاتی ہے۔ چونکہ سرمایہ دارانہ نظام کے دیوتاؤں نے آزاد پریس کا ایک ایسا فلسفہ ایجاد کیا ہے کہ اس میں ظالم و مظلوم کو یکساں درجہ دیا جاتا ہے۔
اس پالیسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اشرافیہ عوام سے لوٹی ہوئی دولت کو عوام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے میں اس بے دردی سے استعمال کرتی ہے کہ غریب طبقات کی نمایندگی کرنے والوں کا موقف لٹیری کلاس کے کروڑوں کے سرمائے کے استعمال کے موقف کی دھول میں بے اثر ہوکر رہ جاتا ہے۔
موجودہ دور میڈیا کا دور ہے اور موجودہ دور اشرافیہ کی بے محابہ لوٹ مارکا دور بھی ہے اس لوٹ مار میں اگر میڈیا غیر جانبدار رہتا ہے تو وہ بالواسطہ عوام پر ہونے والے مظالم کو چھپانے کا کردار ادا کرتا ہے۔ عوام کو حقائق اور طبقاتی مظالم سے آگاہ کرنا سیاسی جماعتوں کی ذمے داری ہوتی ہے لیکن بدبختی یہ ہے کہ بااثر اور بااختیار سیاسی جماعتیں اشرافیہ کی ملکیت ہیں اور وہ عوام کو طبقاتی مظالم سے آگاہ کرنے کے بجائے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عوام حقائق سے عموماً بے خبر ہوتے ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام میں میڈیا کی غیر جانبداری کا مطلب استحصالی طبقات کی بالواسطہ اور بلاواسطہ حمایت کے علاوہ کچھ نہیں کیونکہ ظالم اور مظلوم کے درمیان غیر جانبداری کا مطلب ظالم کی حمایت کے علاوہ کچھ نہیں۔ سرمایہ دارانہ اخلاقیات میں شیر اور بکری یکساں حیثیت کے حامل ہوتے ہیں۔ حالانکہ ''شیر ایک درندہ ہے۔'' اور درندہ کمزوروں کو کھا جاتا ہے۔
شیر اور بکری کے مسئلے پر غیر جانبداری سرمایہ دارانہ اخلاقیات کی مظہر تو ہوسکتی ہے انسانی اخلاقیات کی تعریف پر پوری نہیں اتر سکتی۔ شیر فطرتاً ایک درندہ ہوتا ہے اور بکری فطرتاً کمزور اور مظلوم ہوتی ہے۔ میں ٹی وی پر جنگل کی زندگی پر مبنی پروگرام بڑی دلچسپی سے دیکھتا ہوں جانوروں کے ریوڑ کے ریوڑ ایک درندے سے خوفزدہ ہوکر جان بچانے کے لیے جدھر منہ اٹھا بھاگتے ہیں ۔ حالانکہ بعض جانور شیر سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں لیکن درندوں کا خوف ان پر حاوی آجاتا ہے۔
میں نے کئی بار دیکھا ایک ہرن کا بچہ جس کی عمر گھنٹہ آدھ گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوتی وہ شیر کی گرفت میں آجاتا ہے۔ شیر اس لڑکھڑاتے ہرن کے بچے سے کھیلتا ہے اور ناظرین یہ سمجھتے ہیں کہ شیر کو آدھے گھنٹے عمر کے ہرن کے بچے پر رحم آرہا ہے لیکن جب وہ ہرن کے بچے کے حلق میں اپنے دانت گاڑھ دیتا ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ درندے کی فطرت نہیں بدل سکتی۔ لٹیری اشرافیہ شہر میں رہنے والی وہ درندہ ہے جس کی فطرت میں کمزوروں کو شکار کرنا ہوتا ہے۔
آج اس اشرافیہ کے خلاف اگر کوئی ادارہ قدم اٹھا رہا ہے تو وہ کمزوروں کی حمایت کر رہا ہے اور کمزور طبقات کا یہ طبقاتی فرض ہے کہ وہ اس کی حمایت کریں میڈیا کی غیر جانبداری کا فلسفہ شیر اور بکری کے درمیان غیر جانبداری کا فلسفہ ہے جس کا نتیجہ شیر کی بالادستی کی شکل ہی میں برآمد ہوسکتا ہے۔