یوگو سلاویہ سے سبق سیکھا جائے

شیعہ سنی تصادم کی کوششیں اب تک عوامی سطح پر ناکام رہی ہیں لیکن کیا یہ ہمیشہ ناکام رہیں گی؟

zahedahina@gmail.com

اب سے بیس پچیس برس پہلے بھلا کس نے تصور کیا تھا کہ ہمارے ملک کے طول و عرض میں اس طرح بے گناہوں کا خون بہے گا اور کثیر المشرب ،کثیر النسل پاکستان کا خوبصورت گلدستہ بکھرنے لگے گا۔ کچھ عناصر ایسے ہیں جو آج بھی اس دہشت گردی اور تشدد کو کبھی کھلے بندوں اور کبھی در پردہ اسلام کی سربلندی کے لیے درست اور جائز تصور کرتے ہیں۔ یہ لوگ شاید اس بارے میں سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے کہ مسلکی، نسلی یا علاقائی بنیادوں پر کسی بھی سماج میں تقسیم در تقسیم کا عمل کیسے خوفناک نتائج سامنے لاتا ہے۔

اس مرحلے پر مشرقی یورپ کے اس خطے کی یاد آتی ہے جو کبھی سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا اور پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران کیسے کیسے مراحل سے گزرا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد وہ 1946 میں یوگو سلاویہ کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ 1946 سے 1990تک سابق سوویت یونین کے حلیف کے طور پر یوگو سلاویہ ایک مستحکم ریاست تھی، مختلف مذہبی اور نسلی گروہوں کا مجموعہ ۔ سوویت یونین تحلیل ہوا تو مشرقی یورپ کے دوسرے ملکوں کی طرح یوگو سلاویہ کا بھی شیرازہ بکھر گیا۔

1991 میں 44 فیصد بوسنیائی مسلمانوں، 31 فیصد قدامت پسند سربوں اور 17 فیصد کیتھولک کروٹ باشندوں پر مشتمل آبادی نے سوشلسٹ ری پبلک آف بوسنیا ہرزیگووینا کے نام سے اپنی جمہوریہ قائم کی۔ جس میں مسلمان اور عیسائی سب ہی شامل تھے۔ پھر علاقے اور اقتدار کی بندر بانٹ کے لیے بوسنیائی اور سرب باشندوں کے درمیان کشمکش شروع ہوئی جو بہت جلد مذہبی اور علاقائی بنیادوں پر ایک بڑی جنگ میں بدل گئی۔ یکم مارچ 1992 سے 14 دسمبر 1995 کے درمیان اس علاقے میں وہ خوفناک جنگ لڑی گئی جس کی سفاکی اور جس میں بے گناہ شہریوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی دہشت گردی نے دنیا بھر کو اپنی بنیادوں سے ہلا کر رکھ دیا۔

ہمارے لیے غور کرنے کی بات یہ ہے کہ بوسنیا میں مذہبی اور نسلی بنیادوں پر جو خونیں جنگ لڑی گئی اور اس میں جس نوعیت کے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا اور اس دوران نفرت کی جو مہیب لہر اٹھی وہ لوگوں کے لیے ناقابل یقین تھی۔ اس مسلح تصادم کے بارے میں یہ کہہ کر اسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے کہ اس میں مسلمانوں اور عیسائیوں نے ایک دوسرے کی گردنیں ادھیڑی تھیں لیکن ہم نے مشرقی بنگال میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا ذبح عظیم اور عورتوں کی بے حرمتی دیکھی ہے۔ اس وقت شام میں جو کچھ ہورہا ہے وہ مسلمان حکمران اپنے مسلمان شہریوں کے ساتھ کررہے ہیں۔

اسی طرح پاکستان اور افغانستان میں مسلمان ہی مسلمان کا مسلکی بنیاد پر گلا کاٹ رہا ہے۔ خود کش دھماکوں سے بے گناہ مسلمان شہریوں کو ہلاک کررہا ہے اور فخر سے اس ہلاکت کی ذمے داری بھی قبول کررہا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر پاکستان میں اس مسلکی اور نسلی نفرتوں کے پھیلائو کو فوری طور پر روکا نہیں گیا تو ہمیں عیسائی، ہندوئوں اور یہودیوں کے حملوں کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ وہ برا وقت نہ آئے جب ہمارے شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے کی درندگی کے ہاتھوں محفوظ نہ رہیں اور ملک کا وجود خطرات سے دوچار نہ ہو جائے۔

اس وقت سربیائی دہشت گردوں کی یاد اس لیے بھی آئی کہ ناٹو افواج کی سرب فوجیوں پر بمباری اور امریکی مصالحت کاری کے بعد وہاں جو امن قائم ہوا اس کے بعد اس خطے میں ہونے والے جنگی جرائم کے بارے میں سی آئی اے نے ایک رپورٹ مرتب کی تھی۔ اس رپورٹ میں یہ بتایا گیا تھاکہ 92 سے 95 کے درمیان ہونے والی نسلی صفائی اور عورتوں کی بے حرمتی کے واقعات کی 90 فیصد ذمے داری سرب عیسائیوں کی تھی اور یہ تمام واقعات جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس جنگ کے دوران تقریباً ایک لاکھ شہری ہلاک ہوئے۔ 20 ہزار سے 50 ہزار خواتین بے حرمت کی گئیں اور 22 لاکھ سے زیادہ لوگ خانماں برباد ہوئے۔ تمام مورخیں، دانشور اور صحافی اس بات پر متفق ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں یہ تصادم کا سنگین ترین واقعہ تھا۔

جنگ ختم ہوئی تو بوسنیا کی طرف سے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں سرب جنگی مجرموں کے خلاف مقدمہ قائم ہوا۔ نیدر لینڈ کے شہر دی ہیگ میں قائم اس عدالت نے 2008 تک 45 سرب، 12 کروشیائی اور 4 بوسنیائی باشندوں کو کڑی سزائیں سنائیں۔ اب ایک بار پھر بوسنیا میں جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو سزائیں سنائی گئی ہیں جن میں بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ توجہ ویزلین والوچ کو سنائی جانے والی سزا کو مل رہی ہے کیونکہ اب تک اس عدالت سے بوسنیا میں جنگی جرائم کے کسی بھی مرتکب کو 45 برس کی سزا نہیں سنائی گئی۔


جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والے ایک شخص کے خلاف سرائیوو میں مقدمہ چلا۔ سرائیوو کے شہریوں پر جہنم کے در کھول دینے والا یہ شخص جب ان جرائم کا ارتکاب کررہا تھا تو اس کی عمر صرف 23 برس تھی۔ اس کے خلاف سزا سناتے ہوئے جج زوران بوزچ نے لکھا کہ ''غیر سرب آبادی پر منصوبہ بندی کے تحت مظالم کرنے والے اس شخص نے شکار ہونے والے لوگوں کو گھروں سے کھدیڑ کر نکالا، لڑائی کا حصہ نہ ہونے کے باوجود انھیں بے دردی سے قتل کیا، اذیتیں دیں، عورتوں کو محبوس رکھا اور انھیں بار بار بے حرمت کیا۔جج زوران نے عدالت میں جب یہ جملے کہے تو مجرم کے چہرے پر کسی قسم کے تاثرات نہ تھے، لیکن کمرہ عدالت میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی، وہ تالیوں سے گونج اٹھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو قتل ہونے والوں کے رشتے دار یا دوست تھے اور وہ عورتیں تھیں جنہوں نے اس شخص کے ظلم و ستم سہے۔

اس پر یہ مقدمہ اپریل 2011 میں شروع ہوا۔ اس نے ابتداء سے ہی یہ موقف اختیار کیا کہ 'میں معصوم ہوں' اس پر جو الزامات لگائے گئے ان میں قتل، جسمانی اور ذہنی اذیت دہی، عورتوں کی بے حرمتی ، ان کی بہ طور غلام فروخت کے علاوہ مسلمان اور کروٹ شہریوں سے لوٹ مار جیسے جرائم شامل تھے۔ اس کے خلاف 112 شہادتیں پیش کی گئیں جنھیں عدالت نے سنا۔ شہادت دینے والوں میں بے حرمت کی جانے والی متعدد عورتیں شامل تھیں جن کی گواہی عدالت نے بند کمرے میں سنی۔ ان میں وہ عورت بھی تھی جو بے حرمتی کے وقت ایک بچے کی ماں بننے والی تھی۔

1995 کے بعد علاقے میں جب امن قائم ہوا اور یہ طے ہوگیا کہ جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والی سزائوں سے نہ بچ سکیں گے تو وہ فرار ہوا اور اسپین کے ایک شہر میں جعلی کاغذات پر بلغاروی شہری کے طور پر مقیم تھا۔ وہاں وہ چند ڈاکوئوں کے شبہے میں پکڑا گیا۔ اس کی اصل شناخت کھل جانے پر اسپین کی حکومت نے اسے سرب حکومت کے حوالے کردیا جہاں ڈاکہ زنی کی سزا میں اسے تین سال کی جیل ہوئی۔ 2001 میں وہ جیل سے فرار ہوا۔ اس کے چند مہینوں بعد اس نے سربیا کے ایک شراب خانے میں جھگڑے کے دوران ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کردیا اور فرار ہوگیا۔ عدالت نے اسے غیر حاضری میں 15 برس کی سزا سنائی۔ 2 مارچ 2010 کو وہ پکڑا گیا اور اس مرتبہ اسے بوسنیا ہرزیگووینا کے حوالے کردیا گیا۔ کیونکہ وہاں جنگی جرائم کے مقدمات میں نامزد ہوچکا تھا۔29 مارچ 2013 کو اسے سزا سنائی گئی۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یوگو سلاویہ کا یہی مقدر تھا؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ سابق یوگو سلاویہ میں اگر شروع سے جمہوریت ہوتی تو اس کا یہ حشر ہرگزنہ ہوتا۔ پاکستان میں جمہوریت کمزور ہے۔ ہم اس وقت جس خوفناک بحران سے گزر رہے ہیں اور حکومتی رٹ جس طرح کمزور سے کمزور تر ہورہی ہے اس نے دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے مختلف گروہوں کے حوصلے اس قدر بڑھا دیے ہیں کہ وہ اب ریاست کے معاملات میں براہ راست دخل اندازی کرتے ہیں۔

ان کا یہ کہنا کہ عوام انتخابات میں حصہ نہ لیں اور اگر کسی نے حصہ لینے کی کوشش کی تو ہم اس سے نمٹ لیں گے یا ملک کے اہم رہنمائوں کو ہلاک کرنے کے اعلانات ملک کو جس طرف لے جارہے ہیں انھیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے مقتدرین کو اب یہ سوچنا ہوگا کہ اس ملک کے لوگ خون کے جس دریا کو پار کررہے ہیں اس کے منطقی نتائج کیا ہوسکتے ہیں۔

شیعہ سنی تصادم کی کوششیں اب تک عوامی سطح پر ناکام رہی ہیں لیکن کیا یہ ہمیشہ ناکام رہیں گی؟ وہابی اور بریلوی مسلک میں جو آویزش ہے وہ کب تک خونی تصادم میں نہیں بدلے گی اور نسلی بنیادوں پر جو آتش فشاں دھواں دے رہے ہیں وہ کیا واقعی کبھی پھٹ نہیں پڑیں گے؟ بلوچستان میں سالہال سے جن مظالم کو روا رکھا گیا، ان کی حقیقی بنیادوں پر داد فریاد نہ کی گئی تو کیا کچھ نہیں ہوسکتا۔ 11 مئی کو انتخابات ہونے والے ہیں جنھیں بعض انتہا پسند عناصر کی طرف سے روکنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی کیونکہ جمہوری اور انتخابی عمل عوام کو متحد کرتا ہے ، تمام مسلکوں اور نسلوں سے متعلق لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور انتہا پسندوں کو الگ اور تنہا کرتاہے۔

جمہوریت انتہا پسندی کے خلاف ایک مضبوط دفاع ہے۔ یہ وقت ہے کہ عوام ان انتخابات کی اہمیت کو سمجھیں، ان میں بھرپور حصہ لیں اور یوگو سلاویہ سے سبق حاصل کریں۔
Load Next Story