دہشتگردی کا بڑھتا دائرہ کار تشویشناک
اگر دشمن پسپا ہوا ہے تو اس کی مکمل بیخ کنی تک سکون سے نہیں بیٹھنا چاہیے۔
اگر دشمن پسپا ہوا ہے تو اس کی مکمل بیخ کنی تک سکون سے نہیں بیٹھنا چاہیے۔ فوٹو: فائل
دہشتگردی کے منصوبے ناکام بناتے ہوئے حیدرآباد اور پشین سے 11 دہشتگرد گرفتار کیے گئے ہیں، جن میں سے 5 کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' سے نکلا۔ ایف سی اور حساس ادارے نے پشین میں کارروائی کرکے 6دہشتگردوں کو گرفتار کرکے 500 کلوگرام بارودی مواد، خودکش جیکٹس، اسلحہ، مائنز اور مواصلاتی آلات برآمد کرلیے، جب کہ حیدرآباد پولیس نے ہٹڑی بائی پاس کے مقام پر علی آباد میں کارروائی کرکے 5 دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا۔
ڈی آئی جی حیدرآباد کا کہنا ہی کہ گرفتار دہشتگردوں کا ''را'' سے تعلق تھا، جن میں سے ایک دہشتگرد تین ساتھیوں کے ساتھ بھارت سے دہشتگردی کی تربیت بھی لے کر آیا ہے۔ گرفتار دہشتگردوں نے سی پیک پر کام کرنے والے چائنیز اور رینجرز پر حملوں کا بھی اعتراف کرلیا ہے۔
یہ دہشتگرد کالعدم قوم پرست جماعت سے تعلق رکھتے ہیں جو سندھو دیش لبریشن آرمی کے نام سے بھی دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں اور امن و امان کی خراب ہوتی صورتحال کے پیچھے اس سے پیشتر بھی بھارت کا ہاتھ ثابت ہوچکا ہے، بھارت صوبہ بلوچستان میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے وہاں علیحدگی پرست عناصر اور دہشتگردوں کو اسلحہ اور مالی امداد فراہم کررہا ہے، بھارت کے ان جرائم کا زندہ ثبوت کلبھوشن یادیو کی صورت میں پاکستان کے پاس موجود ہے۔
تشویشناک امر یہ ہے کہ دہشتگردی کے خلاف ملک میں جاری تمام تر آپریشنز اور شرپسندوں کی کمر توڑنے کے دعوے کے باوجود دہشتگردی کا یہ دائرہ کار بڑھتا جا رہا ہے، صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے دہشت گردی کا سلسلہ سندھ کے اندرونی علاقوں تک پھیل چکا ہے، حیدرآباد میں اس سے پیشتر کبھی دہشتگردوں کے خلاف ایسی کارروائی نہیں ہوئی، انٹیلی جنس ادارے کی معاونت سے یہ حیدرآباد پولیس کی تاریخ میں سب سے بڑی کارروائی ہے۔
کلبھوشن یادیو کے بعد سندھ میں یہ 'را' کا دوسرا بڑا نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہے۔ بلاشبہ دہشت گردانہ منصوبوںِ کو ناکام بنانے کی یہ کارروائیاں قابل تحسین ہیں لیکن پشین اور حیدرآباد کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، دہشتگردوں کی وقتی پسپائی کا سوچ کر آرام سے بیٹھ جانا مناسب طرز عمل نہیں ہوگا۔
اگر دشمن پسپا ہوا ہے تو اس کی مکمل بیخ کنی تک سکون سے نہیں بیٹھنا چاہیے۔ ملک میں رونما ہونے والے دہشتگردی کے چھوٹے بڑے واقعات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ شرپسند موقع کی تاک میں ہیں، ایسے میں پاک افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں، رینجرز و انٹیلی جنس کے ساتھ پوری قوم کو مل کر دہشتگردوں کے خلاف محاذ بنانا ہوگا۔
ڈی آئی جی حیدرآباد کا کہنا ہی کہ گرفتار دہشتگردوں کا ''را'' سے تعلق تھا، جن میں سے ایک دہشتگرد تین ساتھیوں کے ساتھ بھارت سے دہشتگردی کی تربیت بھی لے کر آیا ہے۔ گرفتار دہشتگردوں نے سی پیک پر کام کرنے والے چائنیز اور رینجرز پر حملوں کا بھی اعتراف کرلیا ہے۔
یہ دہشتگرد کالعدم قوم پرست جماعت سے تعلق رکھتے ہیں جو سندھو دیش لبریشن آرمی کے نام سے بھی دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں اور امن و امان کی خراب ہوتی صورتحال کے پیچھے اس سے پیشتر بھی بھارت کا ہاتھ ثابت ہوچکا ہے، بھارت صوبہ بلوچستان میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے وہاں علیحدگی پرست عناصر اور دہشتگردوں کو اسلحہ اور مالی امداد فراہم کررہا ہے، بھارت کے ان جرائم کا زندہ ثبوت کلبھوشن یادیو کی صورت میں پاکستان کے پاس موجود ہے۔
تشویشناک امر یہ ہے کہ دہشتگردی کے خلاف ملک میں جاری تمام تر آپریشنز اور شرپسندوں کی کمر توڑنے کے دعوے کے باوجود دہشتگردی کا یہ دائرہ کار بڑھتا جا رہا ہے، صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے دہشت گردی کا سلسلہ سندھ کے اندرونی علاقوں تک پھیل چکا ہے، حیدرآباد میں اس سے پیشتر کبھی دہشتگردوں کے خلاف ایسی کارروائی نہیں ہوئی، انٹیلی جنس ادارے کی معاونت سے یہ حیدرآباد پولیس کی تاریخ میں سب سے بڑی کارروائی ہے۔
کلبھوشن یادیو کے بعد سندھ میں یہ 'را' کا دوسرا بڑا نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہے۔ بلاشبہ دہشت گردانہ منصوبوںِ کو ناکام بنانے کی یہ کارروائیاں قابل تحسین ہیں لیکن پشین اور حیدرآباد کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، دہشتگردوں کی وقتی پسپائی کا سوچ کر آرام سے بیٹھ جانا مناسب طرز عمل نہیں ہوگا۔
اگر دشمن پسپا ہوا ہے تو اس کی مکمل بیخ کنی تک سکون سے نہیں بیٹھنا چاہیے۔ ملک میں رونما ہونے والے دہشتگردی کے چھوٹے بڑے واقعات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ شرپسند موقع کی تاک میں ہیں، ایسے میں پاک افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں، رینجرز و انٹیلی جنس کے ساتھ پوری قوم کو مل کر دہشتگردوں کے خلاف محاذ بنانا ہوگا۔