سینیٹ کے انتخابات ‘جمہوریت کی فتح
سیاست میں امیدواروں کی خریدوفروخت کا عمل ہونا ‘جمہوری عمل کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
سیاست میں امیدواروں کی خریدوفروخت کا عمل ہونا ‘جمہوری عمل کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ فوٹو:فائل
ملک کے پیچیدہ اور گمبھیر سیاسی حالات کے دوران میں ہفتے کو سینیٹ کے انتخابات بخیر و خوبی انجام کو پہنچ گئے ۔یوں یہ قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں کہ شاید سینیٹ کے الیکشن نہ ہو سکیں۔یوں پاکستان کی جمہوریت نے ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا ۔اب اگلا مرحلہ عام انتخابات کا باقی رہ گیا ہے اور امید واسق یہی ہے کہ اگلے جنرل الیکشن بھی بخیرو خوبی انجام پا جائیں گے۔
ہفتے کو ہونے والے سینیٹ الیکشن میں مسلم لیگ ن بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی 'میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اس نے 52میں سے 15سیٹیں حاصل کیں جب کہ پیپلز پارٹی نے 12اور پی ٹی آئی نے 6سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔سینیٹ انتخابات میں سب سے زیادہ نقصان ایم کیو ایم پاکستان کو ہوا جس کا صرف ایک امیدوار ہی کامیابی حاصل کر سکا۔ تحریک انصاف کے لیے کسی حد تک اطمینان کی بات یہ رہی کہ یہاں سے ان کے امیدوار چوہدری سرور کامیاب ہو گئے حالانکہ ان کے پاس نمبرز پورے نہیں تھے۔ اب سینیٹ میں تحریک انصاف کی پنجاب سے بھی نمایندگی ہو گئی ہے۔
سینیٹ میں کس جماعت نے اکثریت حاصل کی یا کس نے اپ سیٹ کیا یا کون سی جماعت بری طرح ناکام ہو گئی لیکن اصل کامیابی جمہوریت نے حاصل کی ہے۔ ان انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے الزامات بھی سامنے آئے' یہ الزامات لگانے والے بھی سیاستدان ہی ہیں 'عجیب بات یہ بھی ہے کہ جو لوگ ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگا رہے ہیں ' وہ خود بھی سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
پاکستان میں بغیر کسی ثبوت کے الزام تراشی کرنا بہت آسان ہو گیا ہے' کسی بھی الیکشن کے نتیجے کو دھاندلی زدہ قرار دیا جا سکتا ہے اور کسی بھی الیکشن میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ ہو رہی ہے'اس تمہید کا مقصد یہ نہیں کہ حالیہ سینیٹ الیکشن میں روپے پیسے کا استعمال قطعاً نہیں ہوا لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کہیں سینیٹ کا ووٹ خریدنے کے لیے لین دین ہوا ہے تو اس پر حتمی ثبوت کے بغیر بات نہیں ہونی چاہیے ' اگر کسی کے پاس ہارس ٹریڈنگ کے ثبوت موجود ہیں تو انھیں مجاز فورم پر اس کا اظہار کرنا چاہیے۔
بہرحال پاکستان میں ہر الیکشن کے دوران دھاندلی اور بے ضابطگی کی باتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن اس کے باوجود اگر الیکشن کا عمل جاری ہے تو اسے جمہوریت کی کامیابی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ سینیٹ کے حالیہ الیکشن کے نتائج کے بعد مسلم لیگ ن سینیٹ میں سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے' اس کے پاس سب سے زیادہ نشستیں ہیں ' ن لیگ کے بعد پیپلز پارٹی بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ اب اگلا مرحلہ سینیٹ کے چیئرمین کا ہے ' مسلم لیگ ن کی خواہش اور کوشش ہے کہ وہ اپنا چیئرمین سینیٹ منتخب کروائے لیکن دوسری طرف پیپلز پارٹی بھی اس تگ و دو میں ہے کہ وہ اپنا چیئرمین سینیٹ منتخب کرانے میں کامیاب ہو جائے۔
چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور وہ اب بھی سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو سینیٹ کے انتخابات کے بعد اب سینیٹ کے چیئرمین کے لیے سیاسی جوڑ توڑ شروع ہو جائے گا۔ اصولی طور پر تو جس پارٹی کے پاس اکثریت ہے اسی کا چیئرمین بھی منتخب ہونا چاہیے لیکن چونکہ مسلم لیگ ن کے پاس قطعی اکثریت نہیں ہے اس لیے اسے اتحادیوں کے ساتھ مل کر چیئرمین سینیٹ منتخب کرانا پڑے گا۔
پیپلز پارٹی کے پاس بھی موقع موجود ہے کہ وہ آزاد امیدواروں اور دیگر چھوٹے چھوٹے سیاسی گروپوں کو ملا کر ایک بار پھر اپنا چیئرمین سینیٹ منتخب کرا لے۔ اگر پیپلز پارٹی کے ساتھ آزاد امیدوار مل جاتے ہیں اور پی ٹی آئی بھی اس کا ساتھ دے دیتی ہے تو پھر پیپلز پارٹی کے لیے اپنا چیئرمین سینیٹ لانا آسان ہو جائے گا تاہم مسلم لیگ ن کے لیے بھی میدان کھلا ہے اور وہ بھی کوشش کر رہی ہے' مسلم لیگ ن کے اتحادیوں کے پاس بھی نشستیں موجود ہیں اور وہ بھی آزاد امیدواروں کو اپنے ساتھ ملا کر اپنا امیدوار لانے کی کوشش کرے گی۔
یہ تو سیاسی صورت حال ہے' سیاست میں جوڑ توڑ بھی ہوتا ہے اور اتحاد بھی بنتے بگڑتے رہتے ہیں لیکن سیاست میں امیدواروں کی خریدوفروخت کا عمل ہونا 'جمہوری عمل کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے 'اگر کوئی ایم پی اے یا ایم این اے پیسے وصول کر کے کسی کو ووٹ دیتا ہے تو یہ عوام کے مینڈیٹ کی بھی توہین ہے اور پارلیمانی اداروں کے تقدس کو بھی پامال کرنے والی بات ہے۔
جو پیسے لے رہا ہے وہ بھی قبیح حرکت کا مرتکب ہو رہا ہے اور جو پیسے دے کر سینیٹ کا رکن منتخب ہوتا ہے وہ بھی قبیح حرکت کا مرتکب ہو رہاہے' اگر اس قسم کی حرکت کا کسی کے پاس ثبوت موجود ہے تو اسے اس معاملے کو ضرور عدالت تک لانا چاہیے تاکہ جمہوریت کے لبادے میں چھپی کالی بھیڑوں کو بھی بے نقاب کیا جا سکے۔
ہفتے کو ہونے والے سینیٹ الیکشن میں مسلم لیگ ن بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی 'میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اس نے 52میں سے 15سیٹیں حاصل کیں جب کہ پیپلز پارٹی نے 12اور پی ٹی آئی نے 6سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔سینیٹ انتخابات میں سب سے زیادہ نقصان ایم کیو ایم پاکستان کو ہوا جس کا صرف ایک امیدوار ہی کامیابی حاصل کر سکا۔ تحریک انصاف کے لیے کسی حد تک اطمینان کی بات یہ رہی کہ یہاں سے ان کے امیدوار چوہدری سرور کامیاب ہو گئے حالانکہ ان کے پاس نمبرز پورے نہیں تھے۔ اب سینیٹ میں تحریک انصاف کی پنجاب سے بھی نمایندگی ہو گئی ہے۔
سینیٹ میں کس جماعت نے اکثریت حاصل کی یا کس نے اپ سیٹ کیا یا کون سی جماعت بری طرح ناکام ہو گئی لیکن اصل کامیابی جمہوریت نے حاصل کی ہے۔ ان انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے الزامات بھی سامنے آئے' یہ الزامات لگانے والے بھی سیاستدان ہی ہیں 'عجیب بات یہ بھی ہے کہ جو لوگ ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگا رہے ہیں ' وہ خود بھی سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
پاکستان میں بغیر کسی ثبوت کے الزام تراشی کرنا بہت آسان ہو گیا ہے' کسی بھی الیکشن کے نتیجے کو دھاندلی زدہ قرار دیا جا سکتا ہے اور کسی بھی الیکشن میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ ہو رہی ہے'اس تمہید کا مقصد یہ نہیں کہ حالیہ سینیٹ الیکشن میں روپے پیسے کا استعمال قطعاً نہیں ہوا لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کہیں سینیٹ کا ووٹ خریدنے کے لیے لین دین ہوا ہے تو اس پر حتمی ثبوت کے بغیر بات نہیں ہونی چاہیے ' اگر کسی کے پاس ہارس ٹریڈنگ کے ثبوت موجود ہیں تو انھیں مجاز فورم پر اس کا اظہار کرنا چاہیے۔
بہرحال پاکستان میں ہر الیکشن کے دوران دھاندلی اور بے ضابطگی کی باتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن اس کے باوجود اگر الیکشن کا عمل جاری ہے تو اسے جمہوریت کی کامیابی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ سینیٹ کے حالیہ الیکشن کے نتائج کے بعد مسلم لیگ ن سینیٹ میں سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے' اس کے پاس سب سے زیادہ نشستیں ہیں ' ن لیگ کے بعد پیپلز پارٹی بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ اب اگلا مرحلہ سینیٹ کے چیئرمین کا ہے ' مسلم لیگ ن کی خواہش اور کوشش ہے کہ وہ اپنا چیئرمین سینیٹ منتخب کروائے لیکن دوسری طرف پیپلز پارٹی بھی اس تگ و دو میں ہے کہ وہ اپنا چیئرمین سینیٹ منتخب کرانے میں کامیاب ہو جائے۔
چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور وہ اب بھی سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو سینیٹ کے انتخابات کے بعد اب سینیٹ کے چیئرمین کے لیے سیاسی جوڑ توڑ شروع ہو جائے گا۔ اصولی طور پر تو جس پارٹی کے پاس اکثریت ہے اسی کا چیئرمین بھی منتخب ہونا چاہیے لیکن چونکہ مسلم لیگ ن کے پاس قطعی اکثریت نہیں ہے اس لیے اسے اتحادیوں کے ساتھ مل کر چیئرمین سینیٹ منتخب کرانا پڑے گا۔
پیپلز پارٹی کے پاس بھی موقع موجود ہے کہ وہ آزاد امیدواروں اور دیگر چھوٹے چھوٹے سیاسی گروپوں کو ملا کر ایک بار پھر اپنا چیئرمین سینیٹ منتخب کرا لے۔ اگر پیپلز پارٹی کے ساتھ آزاد امیدوار مل جاتے ہیں اور پی ٹی آئی بھی اس کا ساتھ دے دیتی ہے تو پھر پیپلز پارٹی کے لیے اپنا چیئرمین سینیٹ لانا آسان ہو جائے گا تاہم مسلم لیگ ن کے لیے بھی میدان کھلا ہے اور وہ بھی کوشش کر رہی ہے' مسلم لیگ ن کے اتحادیوں کے پاس بھی نشستیں موجود ہیں اور وہ بھی آزاد امیدواروں کو اپنے ساتھ ملا کر اپنا امیدوار لانے کی کوشش کرے گی۔
یہ تو سیاسی صورت حال ہے' سیاست میں جوڑ توڑ بھی ہوتا ہے اور اتحاد بھی بنتے بگڑتے رہتے ہیں لیکن سیاست میں امیدواروں کی خریدوفروخت کا عمل ہونا 'جمہوری عمل کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے 'اگر کوئی ایم پی اے یا ایم این اے پیسے وصول کر کے کسی کو ووٹ دیتا ہے تو یہ عوام کے مینڈیٹ کی بھی توہین ہے اور پارلیمانی اداروں کے تقدس کو بھی پامال کرنے والی بات ہے۔
جو پیسے لے رہا ہے وہ بھی قبیح حرکت کا مرتکب ہو رہا ہے اور جو پیسے دے کر سینیٹ کا رکن منتخب ہوتا ہے وہ بھی قبیح حرکت کا مرتکب ہو رہاہے' اگر اس قسم کی حرکت کا کسی کے پاس ثبوت موجود ہے تو اسے اس معاملے کو ضرور عدالت تک لانا چاہیے تاکہ جمہوریت کے لبادے میں چھپی کالی بھیڑوں کو بھی بے نقاب کیا جا سکے۔