شہر کے نوگو ایریاز سے گیس بلوں کی ریکوری نہیں ہورہی

سوئی سدرن گیس کے واجبات کی مالیت 92ارب روپے تک پہنچ چکی، زوہیر صدیقی.

ورلڈ بینک کی معاونت سے گیس کے ضیاع کو کم کرنے کے منصوبے پر کام شروع کردیا۔ فوٹو: فائل

سوئی سدرن گیس کمپنی کے ایم ڈی زوہیر صدیقی نے کہا ہے کہ کراچی کے نوگو ایریاز سے گیس کے بلوں کی ریکوری نہیں ہورہی جس سے کمپنی کو مالی خسارے کا سامنا ہے۔

کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی پر واجبات 46ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں جو 16ارب روپے کے سود سمیت وصول کیے جائیں گے، ایکسپریس سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے ایم ڈی ایس ایس جی سی کا کہنا تھا کہ سوئی سدرن گیس کے واجبات کی مالیت 92ارب روپے تک پہنچ چکی ہے جس میں کے ای ایس سی پر 46ارب روپے، پاکستان اسٹیل پر 13ارب روپے اور ایس این جی پی ایل پر 13ارب روپے کے واجبات سرفہرست ہیں، انھوں نے کہا کہ کمپنی گیس کی چوری اور لیکج روکنے کے لیے بھرپور اقدامات کررہی ہے تاہم گیس چوری کے ساتھ نو گو ایریاز سے بلوں کی عدم ریکوری بھی ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

ورلڈ بینک کی معاونت سے گیس کے ضیاع کو کم کرنے کے منصوبے پر کام شروع کردیا ہے جس کے تحت تین سے چار سال میں گیس چوری اور ضیاع 6فیصد کی سطح پر لے آئیں گے، انھوں نے بعض حلقوں کی جانب سے گیس کی مصنوعی قلت کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ سسٹم میں آنے اورتقسیم ہونے والی گیس کے اعدادوشمار سے ظاہر ہے کہ طلب کے مقابلے میں 200سے 250ایم ایم سی ایف گیس کی کمی کا سامنا ہے جو موسم گرما میں بڑھ کر 300ایم ایم سی ایف تک پہنچ سکتی ہے، انھوں نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ پابندی کے بعد بھی سی این جی اسٹیشن کے قیام کے لائسنس جاری کیے گئے۔


 



انھوں نے بتایا کہ کے ای ایس سی سے اربوں روپے کی ریکوری کے لیے پے منٹ ٹرم پلان تیار کرلیا گیا ہے جو بورڈ کی منظوری کے لیے 10اپریل کو ہونے والے خصوصی اجلاس میں پیش کیا جائے گا، کے ای ایس سی بھاری مالیت کے واجبات پر مارک اپ کی ادائیگی سے انکار کررہی ہے تاہم سوئی سدرن گیس کمپنی اصل واجبات سود کے ساتھ وصول کریگی۔

آنے اورتقسیم ہونے والی گیس کے اعدادوشمار سے ظاہر ہے کہ طلب کے مقابلے میں 200سے 250ایم ایم سی ایف گیس کی کمی کا سامنا ہے جو موسم گرما میں بڑھ کر 300ایم ایم سی ایف تک پہنچ سکتی ہے، انھوں نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ پابندی کے بعد بھی سی این جی اسٹیشن کے قیام کے لائسنس جاری کیے گئے، انھوں نے بتایا کہ کے ای ایس سی سے اربوں روپے کی ریکوری کے لیے پے منٹ ٹرم پلان تیار کرلیا گیا ہے جو بورڈ کی منظوری کے لیے 10اپریل کو ہونے والے خصوصی اجلاس میں پیش کیا جائے گا، کے ای ایس سی بھاری مالیت کے واجبات پر مارک اپ کی ادائیگی سے انکار کررہی ہے تاہم سوئی سدرن گیس کمپنی اصل واجبات سود کے ساتھ وصول کریگی۔
Load Next Story