کراچی پیکیج کے ترقیاتی منصوبے مکمل ہونے چاہئیں

تعمیراتی کاموں کا آغاز اپریل کے وسط میں متوقع ہے، مذکورہ منصوبے 15ماہ میں مکمل کیے جائیں گے۔

تعمیراتی کاموں کا آغاز اپریل کے وسط میں متوقع ہے، مذکورہ منصوبے 15ماہ میں مکمل کیے جائیں گے۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے کراچی پیکیج کے تحت6.7 ارب روپے کے بڑے ترقیاتی منصوبے منظور کرلیے ہیں،کراچی کے حوالے سے یہ ایک انتہائی خوش آیند خبر ہے، جسے ہم تازہ ہوا کے جھونکے سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں۔گزشتہ برس وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وفاق کی جانب سے 25 ارب روپے کے کراچی پیکیج کا اعلان کیا تھا، یہ رقم اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

ماضی میں کراچی عالم میں انتخاب ایک شہر جیسا تھا اور اب اسے ہم شہر 'مسائلستان ' سے تعبیرکرتے ہیں ۔ بڑھتے ہوئے آبادی کے دباؤ اور اس کے مطابق سہولتوں کے فقدان نے شہریوں کا جینا ہی دو بھر کردیا ہے۔

انفرا اسٹرکچر کی عدم موجودگی ، سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ ، پانی وسیوریج کی لائنوں کی خستہ حالی اور پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی نے روزمرہ مسائل میں اضافے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو ذہنی اذیت میں بھی مبتلا کر دیا ہے ۔ معروف شاہراہوں کی ازسر نو تعمیر اور فلائی اوورز بنانے سے یقینا ٹریفک کی روانی بہتر بنانے میں مدد ملے گی اورگرین لائن منصوبے کی تکمیل سے بھی شہریوں کو انتہائی سستی اور بہترین سفری سہولتیں میسر آئیں گی۔


تعمیراتی کاموں کا آغاز اپریل کے وسط میں متوقع ہے، مذکورہ منصوبے 15ماہ میں مکمل کیے جائیں گے۔ اس حوالے سے یہ نقطہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ جب بھی سڑکوں کی تعمیر نو کی جاتی ہے یا فلائی اوورز بنائے جاتے ہیں تو ٹریفک مسائل کئی سو گنا بڑھ جاتے ہیں کیونکہ متبادل راستوں کا ٹریفک پلان نہیں بنایا جاتا ہے نہ ہی سڑکوں کے ساتھ سروس روڈکی تعمیر کی جاتی ہے تاکہ ٹریفک رواں دواں رہے ۔

اس بات پر بھی توجہ دی جانی چاہیے کہ تمام منصوبے مقررہ وقت پر مکمل ہوں تاکہ شہریوں کو کم سے کم مسائل کا سامنا کرنا پڑے ۔ متعلقہ افسران کے مطابق اس لاگت میں پانی وسیوریج کی لائنوں کی منتقلی اور نئی لائنوں کی تنصیب بھی شامل ہے، جوکہ ایک مستحسن عمل ہے ۔یقینا انتہائی معروف سڑکوں کی تعمیر اور اہم ترین چوراہوں پر فلائی اوورز بنانے کے منصوبے مکمل ہونے سے شہریوں کو ریلیف ملے گا۔

حقیقی ریلیف تو اس وقت ہی مل سکتا ہے، جب کراچی پیکیج کی مکمل رقم جوکہ پچیس ارب روپے مخصوص کی گئی تھی، اسے مرحلہ وارکے بجائے مکمل طور پر جاری کیا جائے،ان منصوبوں کی نگرانی براہ راست وفاقی حکومت خود کرے اور تمام عمل میں شفافیت کے عمل کو یقینی بنایا جائے کیونکہ سرکاری سطح پر ہونے والی خورد برد کے باعث عوامی فلاحی منصوبوں کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ پاتے ہیں ۔
Load Next Story