عدالت عظمیٰ نے شاہ رخ جتوئی کی نظرثانی درخواست مسترد کر دی
مکمل انصاف کرنا سپریم کورٹ کی آئینی ذمے داری ہے، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار
مکمل انصاف کرنا سپریم کورٹ کی آئینی ذمے داری ہے، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار۔ فوٹو : فائل
عدالت عظمیٰ نے شارخ جتوئی کی نظر ثانی درخواست مسترد کر دی۔
عدالت عظمیٰ نے شارخ جتوئی کی نظر ثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ براہ راست اختیار سماعت کے تحت ہائی کورٹس کے غلط فیصلوں کو کالعدم کیا جاسکتا ہے۔
عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ آرٹیکل 184/3 کے تحت حاصل اختیار کے ذریعے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کرایا جاسکتا ہے۔ گزشتہ روز دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ مکمل انصاف کرنا سپریم کورٹ کی آئینی ذمے داری ہے۔
عدالت عظمیٰ نے شارخ جتوئی کی نظر ثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ براہ راست اختیار سماعت کے تحت ہائی کورٹس کے غلط فیصلوں کو کالعدم کیا جاسکتا ہے۔
عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ آرٹیکل 184/3 کے تحت حاصل اختیار کے ذریعے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کرایا جاسکتا ہے۔ گزشتہ روز دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ مکمل انصاف کرنا سپریم کورٹ کی آئینی ذمے داری ہے۔