نئی حلقہ بندیاں اسلام آباد 3 پنجاب 141 پختونخوا 391 اور بلوچستان کی 16 نشستیں
اعتراضات3 اپریل تک جمع کرائے جاسکتے ہیں، بلوچستان اسمبلی 51، پختونخوا 99، پنجاب297، سندھ اسمبلی کی سیٹیں130ہوگئیں۔
راولپنڈی میں قومی7،پنجاب اسمبلی کی15نشستیں،کراچی میں قومی اسمبلی کی21 اور سندھ اسمبلی کی44سیٹیں ہوں گی۔ فوٹو: فائل
الیکشن کمیشن نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نئی حلقہ بندیوں کے ابتدائی نتائج جاری کردیے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اسلام آبادسے قومی اسمبلی کی نشستیں 2سے بڑھ کر 3، پنجاب کی نشستیں148سے کم ہو کر141، پختونخوا میں35سے بڑھ کر39، بلوچستان میں 14سے بڑھ کر16 نشستیں، فاٹا کی بدستور12جنرل نشستیں ہوں گی، بلوچستان سے صوبائی اسمبلی کی51 جنرل نشستیں، خیبرپختونخوا اسمبلی کی99، پنجاب اسمبلی میں297، سندھ اسمبلی کی 130جنرل نشستیں ہوں گی۔
الیکشن کمیشن کی250صفحات پر مشتمل فہرست کے مطابق قومی اسمبلی کا پہلا حلقہ پشاور کے بجائے چترال ہوگا، پنجاب میں قومی اسمبلی کی اٹک کی 2،صوبائی کی5 نشستیں،چکوال کی قومی اسمبلی کی 2،صوبائی 4،جہلم میں قومی کی 2، صوبائی کی 3 نشستیں،راولپنڈی میں قومی7اورصوبائی اسمبلی کی15نشستیں، بھکر میں قومی2، صوبائی کی4 نشستیں، سرگودھا میں قومی 5،صوبائی کی10نشستیں، میانوالی میں قومی کی2، صوبائی اسمبلی کی 4 نشستیں، خوشاب میں قومی کی2، صوبائی کی3نشستیں،گوجرانولہ میں قومی کی6، صوبائی کی14نشستیں،گجرات میں قومی کی4،صوبائی کی7 نشستیں، لاہور میں قومی 14،صوبائی کی 30سیٹیں، سیالکوٹ میں قومی کی5،صوبائی کی 11 نشستیں،ساہیوال میں قومی کی3اورصوبائی اسمبلی میں7نشستیں ہوں گی۔
اوکاڑہ میں قومی کی 4،صوبائی کی 8 نشستیں ہوں گی،پاک پتن میں قومی کی2اور پنجاب اسمبلی کی 5نشستیں، رحیم یار خان میں قومی 6،صوبائی اسمبلی کی13نشستیں، بہاولپور میں قومی5،صوبائی اسمبلی کی 10نشستیں، ڈی جی خان میں قومی 4، صوبائی کی8 سیٹیں، راجن پور میں قومی3، صوبائی کی5، لیہ میں قومی 2، صوبائی کی5، مظفرگڑھ میں قومی کی6،صوبائی کی12،ملتان میں قومی کی6،صوبائی اسمبلی کی 13نشستیں، خانیوال اور وہاڑی میں قومی کی4، صوبائی اسمبلی کی8سیٹیں، لودھراں میں قومی کی2،صوبائی کی 5سیٹیں ہوں گی۔
سندھ میں کراچی کے6 اضلاع میں قومی اسمبلی کی 21 اور سندھ اسمبلی کی44سیٹیں ہوں گی، سکھر، گھوٹکی، بے نظیرآباد، نوشہروفیروز، لاڑکانہ اور قمبر شہدادکوٹ میں قومی اسمبلی کی2،2 اور صوبائی کی 4، 4 سیٹیں،خیرپور میں قومی کی3اور سندھ اسمبلی کی7سیٹیں، شکارپور میں قومی کی2اور سندھ اسمبلی کی3سیٹیں، جیکب آباد، کشمور، عمرکوٹ، جام شورو، ٹھٹھہ میں قومی اسمبلی کی1، 1اور سندھ اسمبلی کی3،3 سیٹیں، میرپورخاص، تھرپارکر اور دادومیں قومی اسمبلی کی2،2 اور سندھ اسمبلی کی4، 4 سیٹیں، سانگھڑ اور حیدرآباد میں قومی اسمبلی کی3،3 جبکہ صوبائی اسمبلی کی4،4 سیٹیں، مٹیاری، ٹنڈواللہ یار، ٹنڈو محمد خان، سجاول میں قومی اسمبلی کی1، 1اور صوبائی اسمبلی کی2،2 سیٹیں، بدین میں قومی کی2اورصوبائی کی5سیٹیں ہوں گی۔
پختونخوامیں پشاور سے قومی اسمبلی کی5اور صوبائی اسمبلی کی 14سیٹیں، سوات میں قومی3اورصوبائی اسمبلی کی8سیٹیں، مردان میں قومی 3اور صوبائی اسمبلی کی8سیٹیں، صوابی، چارسدہ، نوشہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان اور لوئردیر میں قومی اسمبلی کی 2، 2اور صوبائی اسمبلی کی5،5 سیٹیں، ایبٹ آباد میں قومی کی2اور صوبائی اسمبلی کی 4سیٹیں ہوں گی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق حلقہ بندیوں پر اعتراضات 3 اپریل تک جمع کرائے جاسکتے ہیں، حلقہ بندیوں کی ابتدائی اشاعت 30دنوں کیلیے ہو گی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اسلام آبادسے قومی اسمبلی کی نشستیں 2سے بڑھ کر 3، پنجاب کی نشستیں148سے کم ہو کر141، پختونخوا میں35سے بڑھ کر39، بلوچستان میں 14سے بڑھ کر16 نشستیں، فاٹا کی بدستور12جنرل نشستیں ہوں گی، بلوچستان سے صوبائی اسمبلی کی51 جنرل نشستیں، خیبرپختونخوا اسمبلی کی99، پنجاب اسمبلی میں297، سندھ اسمبلی کی 130جنرل نشستیں ہوں گی۔
الیکشن کمیشن کی250صفحات پر مشتمل فہرست کے مطابق قومی اسمبلی کا پہلا حلقہ پشاور کے بجائے چترال ہوگا، پنجاب میں قومی اسمبلی کی اٹک کی 2،صوبائی کی5 نشستیں،چکوال کی قومی اسمبلی کی 2،صوبائی 4،جہلم میں قومی کی 2، صوبائی کی 3 نشستیں،راولپنڈی میں قومی7اورصوبائی اسمبلی کی15نشستیں، بھکر میں قومی2، صوبائی کی4 نشستیں، سرگودھا میں قومی 5،صوبائی کی10نشستیں، میانوالی میں قومی کی2، صوبائی اسمبلی کی 4 نشستیں، خوشاب میں قومی کی2، صوبائی کی3نشستیں،گوجرانولہ میں قومی کی6، صوبائی کی14نشستیں،گجرات میں قومی کی4،صوبائی کی7 نشستیں، لاہور میں قومی 14،صوبائی کی 30سیٹیں، سیالکوٹ میں قومی کی5،صوبائی کی 11 نشستیں،ساہیوال میں قومی کی3اورصوبائی اسمبلی میں7نشستیں ہوں گی۔
اوکاڑہ میں قومی کی 4،صوبائی کی 8 نشستیں ہوں گی،پاک پتن میں قومی کی2اور پنجاب اسمبلی کی 5نشستیں، رحیم یار خان میں قومی 6،صوبائی اسمبلی کی13نشستیں، بہاولپور میں قومی5،صوبائی اسمبلی کی 10نشستیں، ڈی جی خان میں قومی 4، صوبائی کی8 سیٹیں، راجن پور میں قومی3، صوبائی کی5، لیہ میں قومی 2، صوبائی کی5، مظفرگڑھ میں قومی کی6،صوبائی کی12،ملتان میں قومی کی6،صوبائی اسمبلی کی 13نشستیں، خانیوال اور وہاڑی میں قومی کی4، صوبائی اسمبلی کی8سیٹیں، لودھراں میں قومی کی2،صوبائی کی 5سیٹیں ہوں گی۔
سندھ میں کراچی کے6 اضلاع میں قومی اسمبلی کی 21 اور سندھ اسمبلی کی44سیٹیں ہوں گی، سکھر، گھوٹکی، بے نظیرآباد، نوشہروفیروز، لاڑکانہ اور قمبر شہدادکوٹ میں قومی اسمبلی کی2،2 اور صوبائی کی 4، 4 سیٹیں،خیرپور میں قومی کی3اور سندھ اسمبلی کی7سیٹیں، شکارپور میں قومی کی2اور سندھ اسمبلی کی3سیٹیں، جیکب آباد، کشمور، عمرکوٹ، جام شورو، ٹھٹھہ میں قومی اسمبلی کی1، 1اور سندھ اسمبلی کی3،3 سیٹیں، میرپورخاص، تھرپارکر اور دادومیں قومی اسمبلی کی2،2 اور سندھ اسمبلی کی4، 4 سیٹیں، سانگھڑ اور حیدرآباد میں قومی اسمبلی کی3،3 جبکہ صوبائی اسمبلی کی4،4 سیٹیں، مٹیاری، ٹنڈواللہ یار، ٹنڈو محمد خان، سجاول میں قومی اسمبلی کی1، 1اور صوبائی اسمبلی کی2،2 سیٹیں، بدین میں قومی کی2اورصوبائی کی5سیٹیں ہوں گی۔
پختونخوامیں پشاور سے قومی اسمبلی کی5اور صوبائی اسمبلی کی 14سیٹیں، سوات میں قومی3اورصوبائی اسمبلی کی8سیٹیں، مردان میں قومی 3اور صوبائی اسمبلی کی8سیٹیں، صوابی، چارسدہ، نوشہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان اور لوئردیر میں قومی اسمبلی کی 2، 2اور صوبائی اسمبلی کی5،5 سیٹیں، ایبٹ آباد میں قومی کی2اور صوبائی اسمبلی کی 4سیٹیں ہوں گی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق حلقہ بندیوں پر اعتراضات 3 اپریل تک جمع کرائے جاسکتے ہیں، حلقہ بندیوں کی ابتدائی اشاعت 30دنوں کیلیے ہو گی۔