اداروں کی منظوری کے بغیر سندھ میں زیر تعمیر ہاؤسنگ اسکیموں پر فوری کام روکنے کی ہدایت
پانی کے منصوبوں کی تکمیل سے متعلق وفاق وصوبائی حکومتوں کورپورٹ جمع کرانے کی ہدایت۔
کراچی کے بعداندورن سندھ بھی تباہی شروع کردی،سب ایک دوسرے پر ذمے داریاں ڈال رہے ہیں، سربراہ واٹر کمیشن۔ فوٹو: فائل
لاہور:
واٹر کمیشن نے شہری (سوک) اداروں کی منظوری کے بغیر زیرتعمیر ہاؤسنگ اسکیموں پر فوری کام روکنے کا حکم دیتے ہوئے سندھ بھر کی ہاؤسنگ اسکیمزکی تمام تر تفصیلات طلب کر لیں۔
کمیشن نے قرار دیا ہے کہ پانی، بجلی، گیس اور سیوریج نظام کے بغیر شروع ہونے والی ہاؤسنگ اسکیمیں غیر قانونی ہیں اور ان پر فوری کام روک دیا جائے جبکہ ایسی ہاؤسنگ اسکیمیں جن کی منظوری ہوچکی اور کام شروع نہیں ہوسکا اوران میں مطلوبہ سہولتیں دستیاب نہیں، ان کی این او سی بھی خارج کردی جائے۔کمیشن نے صوبائی حکومت کو کراچی کے ماسٹر پلان کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم بھی دے دیا۔
کمیشن نے پانی کے منصوبوں کی تکمیل سے متعلق وفاق وصوبائی حکومتوں کو پیپر ورک کرکے رپورٹ جمع کرانے کی بھی ہدایت کردی۔
سربراہ واٹر کمیشن نے ڈی سی ملیر کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کیا،ریمارکس میں کہا کہ ہاؤسنگ اسکیمیں بناکربیڑاغرق کردیا،کراچی کے بعداندورن سندھ بھی تباہی شروع کردی،سب ایک دوسرے پرذمے داریاں ڈال رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پیر کو سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں واٹرکمیشن کی کارروائی ہوئی۔
وفاقی سیکریٹری خزانہ عارف خان اور وفاقی سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ شعیب صدیقی سمیت دیگر حکام پیش ہوئے۔کمیشن نے ریمارکس دیے کہ کے فور منصوبہ کیوں سست روی کا شکار ہے؟۔
وفاقی سیکریٹری خزانہ عارف خان نے کہا کہ میں پیسے دینے کے لیے تیارہوں۔چیئرمین پلاننگ مجھے بتائیں کتنے پیسے درکارہیں۔ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیے کہ چیئرمین ورکس اینڈ سروس وسیم احمد ناراض تھے کہ آپ ان کے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔ اس پر وفاقی سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ میں اپنی ہرغلطی کا ازالہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ کمیشن نے وفاقی سیکریٹری خزانہ کو ہدایت کی آپ کمیشن کی سماعت پر حاضر ہوا کریں تاکہ آپ کی موجودگی میں معاملات جلد نمٹائے جاسکیں۔
کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ کے فور کے منصوبے کا میں نے دورہ کیا، وہ انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ آبزرویشن دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت چاہے بھی تو اس پروجیکٹ کو جلدی نہیں نمٹا سکتی۔ ابھی تو کے فور پروجیکٹ میں صرف پائپ ہی ڈالے جا رہے ہیں۔ 10 سال تک منصوبے کا ڈیزائن تک نہ بنایا گیا۔
کے فور کنسلٹنٹ میسر عثمانی کا موقف تھاکہ روٹ نہ دینے کی وجہ سے منصوبہ اتنے سال سست روی کا شکار ہوا ہے۔ شعیب صدیقی نے کہا کہ سندھ حکومت وعدے کے مطابق جون 2018 تک کے فور کی تکمیل کی یقین دہانی کرائے تو فنڈز ابھی دے دیں گے۔ ڈپٹی کمشنر ملیر کی عدم حاضری پرکمیشن کے سربراہ برہم ہوگئے اور ریمارکس دیے کہ غیر ذمے داری کی انتہا ہوگئی ہے۔
نمائندہ کنسلٹنٹ کمپنی نے بتایا کہ کراچی کا پانی کا کوٹا مقرر نہ ہونے کی وجہ سے کے فور منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا۔ منصوبے سے کراچی کو 260 ملین گیلن پانی ملے گا۔کمیشن نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ کے فور منصوبے سے کراچی کے علاوہ کسے فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ حکام نے بتایا کہ منصوبے کی پائپ لائن سے کسی اور کو کوئی کنکشن نہیں دیا جا رہا۔
کمیشن نے کہا کہ آپ لکھ کر دیں کہ کسی اور کو کوئی کنکشن نہیں دیا گیا۔کمیشن نے ریمارکس دیے کہ اگر وفاق منصوبوں کی تکمیل پرگارنٹی مانگتا ہے تو صوبائی حکومت گارنٹی دے۔ وفاق کو یقین دلایا جائے کہ منصوبوں میں مزید تاخیر نہیں ہو گی۔ ہمیں یقین دہانی کرائیں منصوبے سے کسی اور کو کنکشن نہیں دیا جائے گا۔ سندھ حکومت معاملات درست کرے وفاق تعاون کرے گا۔
اگر سندھ حکومت نے سنجیدگی نہ دکھائی تو سپریم کورٹ کو رپورٹ کریں گے۔ وفاق کے تحفظات درست ہیں۔ حکومت کیلیے نقصان دہ ثابت ہونے والا ڈی سی اب تک عہدے پر کیوں ہے ؟، ایف ڈبلیو او کے نمائندے کرنل حسن نے کہا ہمیں ایک سال تاخیرسے الائنمنٹ ملی۔
چئیرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کمیشن وسیم احمد نے اعتراف کیا کمیشن کی آبزرویشن سے سو فیصد متفق ہوں۔ منصوبوں کی اراضی پر قبضے ہو چکے۔ سابق سٹی ناظم کے خلاف محمودآباد ٹریٹمنٹ پلان کی اراضی پر قبضے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ واٹر ٹریٹمنٹ پلان جون 2019 میں مکمل کر لیں گے۔
چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ کمیشن نے استفسار کیا چیف سیکریٹری صاحب یہاں بہت سے مسائل ہیں۔ ٹھیکے دار اور کنسلٹنٹ سندھ حکومت پر ذمے داری ڈال رہے ییں۔ آپ کا ڈپٹی کمشنر ملیر ذمے داری پوری کرنے میں ناکام ہے۔ وفاق پیسے دینے کو تیار مگر ضمانت مانگ رہا ہے۔ آپ بتائیں، ایسا کب تک چلے گا؟۔ سربراہ کمیشن نے چیف سیکریٹری سے مکالمے میں کہا کہ آپ ایسے ڈپٹی کمشنر ملیر کو فارغ کریں۔کمیشن نے استفسار کیا ایس تھری منصوبہ کب مکمل ہوگا۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ سب کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہیں مگر اب صورتحال تبدیل ہوچکی۔ وفاق پیسے دے ہم ذمے داری سے خرچ کریں گے۔ دوران سماعت وسیم احمد اور شعیب صدیقی میں تکرار ہوگئی۔
کمیشن نے کہا کہ شعیب صدیقی کو ایک گلاس پانی پلایا جائے۔ کمیشن نے صوبائی و وفاقی حکومت کے نمائندوں کو ہدایت کی آپ پیپر ورک کرلیں اور پھر رپورٹ دیں۔کراچی کے ماسٹر پلان سے متعلق وسیم احمد نے کہا کہ کراچی کا ماسڑ پلان موجود ہے۔ کمیشن نے استفسار کیا کہ کیا یہ ماسڑ پلان نوٹیفائی ہوا کہ نہیں؟۔ وسیم احمد نے کہا کہ ماسٹر پلان مصطفیٰ کمال کے دور میں بنا مگر نوٹیفائی نہیں ہو سکا۔
کمیشن نے کہا کہ نوٹیفائی کے بغیر ماسٹر پلان کی کیا قانونی حیثیت ہے۔ میئر کراچی وسیم اختر بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ وسیم اختر نے کہا کہ میں اپنی تجاویز پیش کرچکا۔ کمیشن کے روبرو وسیم احمد کہا کہ 2007 میں ماسڑ پلان ترتیب دیا گیا۔ کمیشن نے کہا کہ ہم آج ہی حکم جاری کر رہے ہیں۔
ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی آغا مقصود کمیشن میں پیش ہوئے۔ کمیشن نے کہا کہ گلیوں میں 6,6منزلہ عمارتیں بنائی جا رہی ہیں۔ بغیر این او سی کے تعمیرات کی اجازت کیسے دے رہے ہیں؟۔ کبھی سوچا سیوریج کا پانی کہاں جائے گا۔ کچے بند پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنا دی گئیں۔ کمیشن نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہم آج ہی تمام ہاؤسنگ اسکیموں پر کام رکوا دیتے ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ دنیا بھر میں دیکھیں تعمیرات ایک لائن میں ہوتی ہیں۔ کیا آپ کے ادارے میں فرشتے بیٹھے ہیں۔ کراچی سمیت سندھ کا بیڑا غرق کر رہے ہیں۔
کمیشن نے استفسار کیا کہ کراچی کی ہاؤسنگ اسکیمز کا ڈرین کہاں جا رہا ہے۔ سیوریج کا نظام نہیں دھڑا دھڑ ہاؤسنگ اسکیمیں بنا رہے ہیں۔ غریب آدمی قسطوں میں ادائیگی کرتا ہے جب گھر آباد کرتا ہے تو پانی تک نہیں ملتا۔ یہ سب آپ کی مہربانی سے ہو رہا ہے۔
جسٹس ر امیر ہانی مسلم نے آغا مقصود کے وکیل کو بھی جھاڑ پلا دی۔ کمیشن نے کہا کہ گڑھے میں بھی ہاؤسنگ اسکیمیں بنائی جا رہی ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ واٹر کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ ہاؤسنگ اسکیموں سے انکار نہیں مگر قانون کے تحت بنائیں۔ کراچی میں جتنے نالے ہیں سب پر تعمیرات ہوچکیں۔ نالوں پر سب تعمیرات سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی مرضی سے ہوئیں۔
آغا مقصود نے کہا کہ نالوں پر تعمیرات ہماری منظوری سے نہیں ہوئیں۔ کمیشن نے کہا کہ ایک اینٹ بھی آپ کی مرضی کے بغیر نہیں رکھی جاتی۔ آغا مقصود صاحب قانون پڑھیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا سیکشن 6 پڑھیں۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سرور خان نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قوانین میں بعض خامیاں ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ ایس بی سی اے بنیادی سہولتوں کے بغیر تعمیرات کیلیے این او سی جاری کر رہا ہے۔ ڈی جی ایس بی سی اے کمیشن کو مطمئن نہیں کر پائے۔
کمیشن نے سندھ بھر کی ہاؤسنگ اسکیموں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کتنی اسکیموں میں پانی، بجلی، گیس اور سیوریج کا نظام موجود ہے۔
کمیشن نے حکم دیا کہ جن ہاؤسنگ اسکیمز میں سوک اداروں کا این او سی نہیں ان پر کام روک دیا جائے۔ جن ہاؤسنگ اسکیمز پر ابھی کام جاری نہیں ہوا ان پر بھی یہ فیصلہ لاگو ہوگا۔ بعدازاں ڈی سی ملیر محمد علی پیش ہوگئے۔
کمیشن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ آپ کو ایس ایچ او کے ذریعے طلب کریں گے۔ کمیشن نے ڈی سی ملیر سے استفسار کیا، کیا آپ کے فور منصوبے میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ ڈی سی ملیر کمیشن کو مطمئن نہ کرسکے۔ کمیشن نے کہا کہ چیف سیکریٹری صاحب آپ وضاحت دیں، یہ تمام تر صورتحال نوٹ کر رہے ہیں۔
احکام کے باوجود کوئی پیشرفت نہیں، ذمے داریاں ایک دوسرے پر ڈالی جا رہی ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ چیف سیکریٹری کل تک وضاحت دیں ورنہ معاملہ سپریم کورٹ بھیج دیں گے۔ اضلاع میں تعلقہ اور ٹی ایم اوز کا چارج اکاؤنٹ افسر کو دے رکھے ہیں۔ کمیشن نے سیکریٹری بلدیات کو حکم دیا تمام تعلقوں میں ایک ہفتے کے اندر ٹی ایم اوز اور دیگر عہدیداران تعینات کیے جائیں۔ جسٹس ر امیر ہانی مسلم نے حکام کو رپورٹس پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت بدھ 7 مارچ تک ملتوی کردی۔
واٹر کمیشن نے شہری (سوک) اداروں کی منظوری کے بغیر زیرتعمیر ہاؤسنگ اسکیموں پر فوری کام روکنے کا حکم دیتے ہوئے سندھ بھر کی ہاؤسنگ اسکیمزکی تمام تر تفصیلات طلب کر لیں۔
کمیشن نے قرار دیا ہے کہ پانی، بجلی، گیس اور سیوریج نظام کے بغیر شروع ہونے والی ہاؤسنگ اسکیمیں غیر قانونی ہیں اور ان پر فوری کام روک دیا جائے جبکہ ایسی ہاؤسنگ اسکیمیں جن کی منظوری ہوچکی اور کام شروع نہیں ہوسکا اوران میں مطلوبہ سہولتیں دستیاب نہیں، ان کی این او سی بھی خارج کردی جائے۔کمیشن نے صوبائی حکومت کو کراچی کے ماسٹر پلان کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم بھی دے دیا۔
کمیشن نے پانی کے منصوبوں کی تکمیل سے متعلق وفاق وصوبائی حکومتوں کو پیپر ورک کرکے رپورٹ جمع کرانے کی بھی ہدایت کردی۔
سربراہ واٹر کمیشن نے ڈی سی ملیر کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کیا،ریمارکس میں کہا کہ ہاؤسنگ اسکیمیں بناکربیڑاغرق کردیا،کراچی کے بعداندورن سندھ بھی تباہی شروع کردی،سب ایک دوسرے پرذمے داریاں ڈال رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پیر کو سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں واٹرکمیشن کی کارروائی ہوئی۔
وفاقی سیکریٹری خزانہ عارف خان اور وفاقی سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ شعیب صدیقی سمیت دیگر حکام پیش ہوئے۔کمیشن نے ریمارکس دیے کہ کے فور منصوبہ کیوں سست روی کا شکار ہے؟۔
وفاقی سیکریٹری خزانہ عارف خان نے کہا کہ میں پیسے دینے کے لیے تیارہوں۔چیئرمین پلاننگ مجھے بتائیں کتنے پیسے درکارہیں۔ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیے کہ چیئرمین ورکس اینڈ سروس وسیم احمد ناراض تھے کہ آپ ان کے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔ اس پر وفاقی سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ میں اپنی ہرغلطی کا ازالہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ کمیشن نے وفاقی سیکریٹری خزانہ کو ہدایت کی آپ کمیشن کی سماعت پر حاضر ہوا کریں تاکہ آپ کی موجودگی میں معاملات جلد نمٹائے جاسکیں۔
کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ کے فور کے منصوبے کا میں نے دورہ کیا، وہ انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ آبزرویشن دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت چاہے بھی تو اس پروجیکٹ کو جلدی نہیں نمٹا سکتی۔ ابھی تو کے فور پروجیکٹ میں صرف پائپ ہی ڈالے جا رہے ہیں۔ 10 سال تک منصوبے کا ڈیزائن تک نہ بنایا گیا۔
کے فور کنسلٹنٹ میسر عثمانی کا موقف تھاکہ روٹ نہ دینے کی وجہ سے منصوبہ اتنے سال سست روی کا شکار ہوا ہے۔ شعیب صدیقی نے کہا کہ سندھ حکومت وعدے کے مطابق جون 2018 تک کے فور کی تکمیل کی یقین دہانی کرائے تو فنڈز ابھی دے دیں گے۔ ڈپٹی کمشنر ملیر کی عدم حاضری پرکمیشن کے سربراہ برہم ہوگئے اور ریمارکس دیے کہ غیر ذمے داری کی انتہا ہوگئی ہے۔
نمائندہ کنسلٹنٹ کمپنی نے بتایا کہ کراچی کا پانی کا کوٹا مقرر نہ ہونے کی وجہ سے کے فور منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا۔ منصوبے سے کراچی کو 260 ملین گیلن پانی ملے گا۔کمیشن نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ کے فور منصوبے سے کراچی کے علاوہ کسے فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ حکام نے بتایا کہ منصوبے کی پائپ لائن سے کسی اور کو کوئی کنکشن نہیں دیا جا رہا۔
کمیشن نے کہا کہ آپ لکھ کر دیں کہ کسی اور کو کوئی کنکشن نہیں دیا گیا۔کمیشن نے ریمارکس دیے کہ اگر وفاق منصوبوں کی تکمیل پرگارنٹی مانگتا ہے تو صوبائی حکومت گارنٹی دے۔ وفاق کو یقین دلایا جائے کہ منصوبوں میں مزید تاخیر نہیں ہو گی۔ ہمیں یقین دہانی کرائیں منصوبے سے کسی اور کو کنکشن نہیں دیا جائے گا۔ سندھ حکومت معاملات درست کرے وفاق تعاون کرے گا۔
اگر سندھ حکومت نے سنجیدگی نہ دکھائی تو سپریم کورٹ کو رپورٹ کریں گے۔ وفاق کے تحفظات درست ہیں۔ حکومت کیلیے نقصان دہ ثابت ہونے والا ڈی سی اب تک عہدے پر کیوں ہے ؟، ایف ڈبلیو او کے نمائندے کرنل حسن نے کہا ہمیں ایک سال تاخیرسے الائنمنٹ ملی۔
چئیرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کمیشن وسیم احمد نے اعتراف کیا کمیشن کی آبزرویشن سے سو فیصد متفق ہوں۔ منصوبوں کی اراضی پر قبضے ہو چکے۔ سابق سٹی ناظم کے خلاف محمودآباد ٹریٹمنٹ پلان کی اراضی پر قبضے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ واٹر ٹریٹمنٹ پلان جون 2019 میں مکمل کر لیں گے۔
چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ کمیشن نے استفسار کیا چیف سیکریٹری صاحب یہاں بہت سے مسائل ہیں۔ ٹھیکے دار اور کنسلٹنٹ سندھ حکومت پر ذمے داری ڈال رہے ییں۔ آپ کا ڈپٹی کمشنر ملیر ذمے داری پوری کرنے میں ناکام ہے۔ وفاق پیسے دینے کو تیار مگر ضمانت مانگ رہا ہے۔ آپ بتائیں، ایسا کب تک چلے گا؟۔ سربراہ کمیشن نے چیف سیکریٹری سے مکالمے میں کہا کہ آپ ایسے ڈپٹی کمشنر ملیر کو فارغ کریں۔کمیشن نے استفسار کیا ایس تھری منصوبہ کب مکمل ہوگا۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ سب کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہیں مگر اب صورتحال تبدیل ہوچکی۔ وفاق پیسے دے ہم ذمے داری سے خرچ کریں گے۔ دوران سماعت وسیم احمد اور شعیب صدیقی میں تکرار ہوگئی۔
کمیشن نے کہا کہ شعیب صدیقی کو ایک گلاس پانی پلایا جائے۔ کمیشن نے صوبائی و وفاقی حکومت کے نمائندوں کو ہدایت کی آپ پیپر ورک کرلیں اور پھر رپورٹ دیں۔کراچی کے ماسٹر پلان سے متعلق وسیم احمد نے کہا کہ کراچی کا ماسڑ پلان موجود ہے۔ کمیشن نے استفسار کیا کہ کیا یہ ماسڑ پلان نوٹیفائی ہوا کہ نہیں؟۔ وسیم احمد نے کہا کہ ماسٹر پلان مصطفیٰ کمال کے دور میں بنا مگر نوٹیفائی نہیں ہو سکا۔
کمیشن نے کہا کہ نوٹیفائی کے بغیر ماسٹر پلان کی کیا قانونی حیثیت ہے۔ میئر کراچی وسیم اختر بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ وسیم اختر نے کہا کہ میں اپنی تجاویز پیش کرچکا۔ کمیشن کے روبرو وسیم احمد کہا کہ 2007 میں ماسڑ پلان ترتیب دیا گیا۔ کمیشن نے کہا کہ ہم آج ہی حکم جاری کر رہے ہیں۔
ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی آغا مقصود کمیشن میں پیش ہوئے۔ کمیشن نے کہا کہ گلیوں میں 6,6منزلہ عمارتیں بنائی جا رہی ہیں۔ بغیر این او سی کے تعمیرات کی اجازت کیسے دے رہے ہیں؟۔ کبھی سوچا سیوریج کا پانی کہاں جائے گا۔ کچے بند پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنا دی گئیں۔ کمیشن نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہم آج ہی تمام ہاؤسنگ اسکیموں پر کام رکوا دیتے ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ دنیا بھر میں دیکھیں تعمیرات ایک لائن میں ہوتی ہیں۔ کیا آپ کے ادارے میں فرشتے بیٹھے ہیں۔ کراچی سمیت سندھ کا بیڑا غرق کر رہے ہیں۔
کمیشن نے استفسار کیا کہ کراچی کی ہاؤسنگ اسکیمز کا ڈرین کہاں جا رہا ہے۔ سیوریج کا نظام نہیں دھڑا دھڑ ہاؤسنگ اسکیمیں بنا رہے ہیں۔ غریب آدمی قسطوں میں ادائیگی کرتا ہے جب گھر آباد کرتا ہے تو پانی تک نہیں ملتا۔ یہ سب آپ کی مہربانی سے ہو رہا ہے۔
جسٹس ر امیر ہانی مسلم نے آغا مقصود کے وکیل کو بھی جھاڑ پلا دی۔ کمیشن نے کہا کہ گڑھے میں بھی ہاؤسنگ اسکیمیں بنائی جا رہی ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ واٹر کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ ہاؤسنگ اسکیموں سے انکار نہیں مگر قانون کے تحت بنائیں۔ کراچی میں جتنے نالے ہیں سب پر تعمیرات ہوچکیں۔ نالوں پر سب تعمیرات سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی مرضی سے ہوئیں۔
آغا مقصود نے کہا کہ نالوں پر تعمیرات ہماری منظوری سے نہیں ہوئیں۔ کمیشن نے کہا کہ ایک اینٹ بھی آپ کی مرضی کے بغیر نہیں رکھی جاتی۔ آغا مقصود صاحب قانون پڑھیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا سیکشن 6 پڑھیں۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سرور خان نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قوانین میں بعض خامیاں ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ ایس بی سی اے بنیادی سہولتوں کے بغیر تعمیرات کیلیے این او سی جاری کر رہا ہے۔ ڈی جی ایس بی سی اے کمیشن کو مطمئن نہیں کر پائے۔
کمیشن نے سندھ بھر کی ہاؤسنگ اسکیموں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کتنی اسکیموں میں پانی، بجلی، گیس اور سیوریج کا نظام موجود ہے۔
کمیشن نے حکم دیا کہ جن ہاؤسنگ اسکیمز میں سوک اداروں کا این او سی نہیں ان پر کام روک دیا جائے۔ جن ہاؤسنگ اسکیمز پر ابھی کام جاری نہیں ہوا ان پر بھی یہ فیصلہ لاگو ہوگا۔ بعدازاں ڈی سی ملیر محمد علی پیش ہوگئے۔
کمیشن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ آپ کو ایس ایچ او کے ذریعے طلب کریں گے۔ کمیشن نے ڈی سی ملیر سے استفسار کیا، کیا آپ کے فور منصوبے میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ ڈی سی ملیر کمیشن کو مطمئن نہ کرسکے۔ کمیشن نے کہا کہ چیف سیکریٹری صاحب آپ وضاحت دیں، یہ تمام تر صورتحال نوٹ کر رہے ہیں۔
احکام کے باوجود کوئی پیشرفت نہیں، ذمے داریاں ایک دوسرے پر ڈالی جا رہی ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ چیف سیکریٹری کل تک وضاحت دیں ورنہ معاملہ سپریم کورٹ بھیج دیں گے۔ اضلاع میں تعلقہ اور ٹی ایم اوز کا چارج اکاؤنٹ افسر کو دے رکھے ہیں۔ کمیشن نے سیکریٹری بلدیات کو حکم دیا تمام تعلقوں میں ایک ہفتے کے اندر ٹی ایم اوز اور دیگر عہدیداران تعینات کیے جائیں۔ جسٹس ر امیر ہانی مسلم نے حکام کو رپورٹس پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت بدھ 7 مارچ تک ملتوی کردی۔