جام ساقی جدوجہد کا ایک استعارہ

احمد سلیم نے جام ساقی کی زندگی پرکتاب ’چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی‘ تحریرکی ہے

احمد سلیم نے جام ساقی کی زندگی پرکتاب ’چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی‘ تحریرکی ہے۔ فوٹو: فائل

سندھ ایک ایسے مرد آہن سے محروم ہوگیا ہے، جو انسانی حقوق کا علمبردار اور آمریت کے خلاف طویل ترین جدوجہد کا استعارہ تھا، یوں سمجھیں مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کے سر سے سایہ عافیت اٹھ گیا ہے۔ ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والا جام ساقی، جس نے اپنی زندگی کے ماہ وسال اپنے عظیم آدرش کے لیے قربان کیے۔ طاقتور ترین آمر سے ٹکرایا، جب جابر آمر نے 'غدار' ثابت کرنے کے لیے کیس بنایا، تو مشہور زمانہ ''جام ساقی کیس'' میں بینظیر بھٹو، ولی خان، غوث بخش بزنجو سمیت اس وقت کے سرگرم سیاسی رہنما ان کے لیے گواہی دینے پہنچے، اسیری میں تشدد برداشت کرکے ثابت کیا کہ وہ دھرتی کا عظیم سپوت ہے،کیونکہ ان کا جنم صحرائی علاقے تھرپارکر میں ہوا تھا اور وہ حقیقت میں مرد صحرائی تھے۔ طلبہ تنظیموں میں سرگرم رہے اور بائیں بازو کی سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بعد میں انھوں نے کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔


جام ساقی کا شمار سندھ کے طلبہ تحریک میں 4 مارچ کے ہیروز میں ہوتا ہے۔ ان کی زندگی زیادہ تر زیرِ زمین اور جیلوں میں گزری۔ اسیری کے دوران انھیں شاہی قلعے اورمچھ جیل میں صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔انھوں نے 1988ء میں تھرپارکر سے قومی اسمبلی کی نشست پر انتخابات میں حصہ لیا لیکن کامیابی حاصل نہیں ہوئی، جس کے بعد انھوں نے سندھ میں امن اور سیاسی شعورکے لیے کموں شہید سے کراچی تک پیدل لانگ مارچ کیا تھا۔ وہ سندھی زبان وادب کے ساتھ ساتھ عالمی ادب پر بھی گہری نظر رکھتے تھے، وہ مارکسی تھے، ترقی پسند اور روشن خیال تھے، انھوں نے سندھی میں ناول کھاڑوی کھجن تحریر کیا جب کہ جام ساقی کیس کے تفصیلات اور بیانات 'آخر فتح عوام کی ہوگی' اور 'ضمیرکے قیدی' میں شامل ہیں۔

احمد سلیم نے جام ساقی کی زندگی پرکتاب 'چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی' تحریرکی ہے۔ جام ساقی ایک غریب گھرانے کے فرد سادگی، نیکی اور شرافت کا پیکر تھے، ان کی ذاتی زندگی دکھ اور المیوں سے بھرپور تھی، لیکن انھوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور سر دھڑ کی بازی لگائی، اپنی زندگی بنیادی انسانی حقوق کے لیے جدوجہد اور عوامی شعور بیدار کرنے میں صرف کی۔ جام ساقی انسانی حقوق کمیشن کے سرگرم رکن بھی رہے۔ سندھ بھر میں ان کا نام عزت واحترام سے لیا جاتا ہے۔ جمہوریت کے لیے ان کی قربانیاں بے مثال ہیں، وہ سیاسی کارکنوں کے لیے سیاست اور خدمت کا ایک روشن ترین باب ہیں۔
Load Next Story