جنوبی اور شمالی کوریا میں بہتر تعلقات کی شروعات

شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان دشمنی اور نفرت کی برف پگھلنے سے خطے میں خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے

شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان بہتر تعلقات سے خطے میں خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔فوٹو: فائل

جنوبی کوریا کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ آن سے پیانگ یانگ میں ملاقات کی۔ ملاقات میں شریک جنوبی کوریا کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر نے بتایا کہ جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے رہنما اگلے ماہ ملاقات کریں گے اور شمالی کوریا سیکیورٹی کی ضمانت دینے پر اپنا جوہری اور میزائل پروگرام ترک کرنے پر رضامند ہو گیا ہے' علاوہ ازیں اس نے امریکا کے ساتھ بھی بات چیت کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

اس ملاقات پر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کے لیے ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جنوبی کوریا کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ آن سے ملاقات اور شمالی کوریا کی جانب سے اپنا جوہری اور میزائل پروگرام ترک کرنے کی آمادگی کا اظہار عالمی بالخصوص ایشیا کی سطح پر بہت بڑی پیش رفت ہے' اب دونوں ممالک کے رہنماؤں کی اگلے ماہ ملاقات متوقع ہے۔

شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان دشمنی اور نفرت کی برف پگھلنے سے خطے میں خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان 1953ء میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا جس کے بعد دونوں کے درمیان نظریاتی طور پر دشمنی اور نفرت کی لہر چل پڑی' جنوبی کوریا سرمایہ دار اور شمالی کوریا کمیونسٹ گروپ کا حامی بن گیا۔ گزشتہ دنوں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ آن نے مہلک ہتھیاروں اور دور مار میزائلوں کے تجربات کے بعد امریکا کو باقاعدہ دھمکیاں دینا شروع کر دیں جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تلخی میں شدت آنے سے ایسا تاثر ابھرنے لگا کہ معاملات یونہی چلتے رہے اور انھیں سنبھالا نہ گیا تو امریکا شمالی کوریا پر حملہ کر سکتا ہے۔


اس تاثر نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا کہ اگر ایٹمی ہتھیار چل پڑے تو اس سے ایشیا کے یہ ممالک شدید متاثر ہوں گے۔ اب شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان بہتر تعلقات کی جو کوششیں شروع ہوئی ہیں وہ خوش آیند ہیں اگر معاملات یونہی آگے بڑھتے گئے تو امید ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آ جائیں اور ان میں بہتر تعلقات قائم ہو جائیں' یہ بھی ممکن ہے کہ جس طرح مشرقی اور مغربی جرمنی کے درمیان دیوار برلن گرنے سے دوریاں مٹ گئیں اسی طرح دونوں کورین ممالک بھی ایک دوسرے کے قریب آ جائیں۔ آخر ایسا کیا ہوا کہ شمالی کوریا کے رہنما نے اچانک اپنا جوہری اور میزائل پروگرام ترک کر کے سیکیورٹی گارنٹی مانگنے اور دوستانہ تعلقات کا عندیہ دے دیا۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق شمالی کوریا میں اتنا دم خم ہی نہ تھا کہ وہ امریکا اور جنوبی کوریا سے جنگ لڑ سکتا' اس کی معیشت اتنی مضبوط نہیں کہ کسی بڑی جنگ کو سہار سکے۔ بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا' جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا۔بالآخر بڑی بڑی بڑھکیں مارنے کے بعد کم جانگ آن کو حقیقت کا ادراک ہو ہی گیا اور انھوں نے اپنا ملک بچانے کے لیے درست فیصلہ کیا۔

بھارت اور پاکستان کو بھی اس حقیقت کا ادراک کر لینا چاہیے کہ کروڑوں عوام کو غربت اور بھوک کی بھٹی میں جھونک کر ایٹمی ہتھیاروں اور میزائلوں سے بڑی قوت نہیں بنا جا سکتا' سب سے پہلے ناگزیر ہے کہ عوام کے مسائل حل کیے جائیں۔ اس وقت دونوں ممالک میں کروڑوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے جانوروں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں' کہیں صحت کی سہولتیں نہیں تو کہیں صاف پانی میسر نہ ہونے سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ بھارت کو اپنا جارحانہ رویہ ترک کر کے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع کر دینا چاہیے، ترقی اور خوشحالی کا یہی صائب راستہ ہے۔
Load Next Story