MMA کا پنر جنم
ان کو اپنے تحفظات کے لیے ماما کی اشد ضرورت ہے لیکن وہ تو بچاری ’’ کوما ‘‘ میں ہے
barq@email.com
نہ جانے کیوں ؟ آج ہمیں '' ماما '' کی بہت یاد آرہی ہے حالانکہ وہ ہماری '' ماما '' نہیں تھی۔ لیکن پھر بھی بڑی شفیق اور مہربان قسم کی خاتون تھیں ہر بچے کو کچھ نہ کچھ دے دیا کرتی تھیں اور اپنی سگی اولاد کے لیے تو اس نے بے پناہ قربانیاں دی تھیں بلکہ ساری زندگی ان پر واردی تھی یہاں تک کہ اس نے اولاد کی خاطر وہ مصّلے '' مصّلا'' بھی تیاگ دیا تھا جس پر وہ پیدا ہوتے ہی بیٹھ گئی تھی حالانکہ مصّلا بہت سخت رسی کا بنا ہوا اور کھر دار تھا لیکن اسے پسند تھا ۔ لیکن اولاد ہی نے اسے مصّلے کی کھردری نشت سے اٹھا کر نرم و ملائم کرسی بٹھا دیا تھا ۔
ان کا بڑا بیٹا ایک نہایت ہی صابر و شاکر اور مرنجان مرنج بیٹا تھا اس لیے وہ منجھلے کی ساری زیادتیاں سکون سے برداشت کرلیتا تھا حالانکہ برا منجھلا بھی نہیں تھا ماں سے محبت اور اطاعت اس کی گھٹی میں پڑی تھی لیکن طبیعت تو طبیعت ہوتی ہے جو کچھ زیادہ ہی توسیع پسند تھی اس لیے کوشش کرتا تھا کہ جتنا ملے اتنا سمیٹے۔ لیکن افسوس کہ موت سے کس کو رستگاری ہے آج تم کل ہماری باری ہے، کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں بلکہ آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں لیکن یہ مت سمجھئے کہ ماما فوت ہو گئی بلکہ '' کوما'' میں چلی گئی ہے، تھی اور ابھی تک '' کوما ''میں ہے ۔
انتخاب کی آمد پر لواحقین کو ایک مرتبہ پھر ماما کی ضرورت گئی اور جتن شروع کر دیے کہ کسی طرح '' ماما'' کو کوما سے باہر لایا جائے لیکن ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے، خدا ان کی کوششوںاور سعادت مندی میں برکت ڈالے ۔ایک بیٹا جس پر '' ماں '' کی دعا جنت کی ہوا کچھ زیادہ ہی راس آئی تھی اور رحمان کے '' فضل '' سے بہت زیادہ بہرہ ور خاص طور پر تحفظات کی دولت سے تو وہ اتنے مالا مال ہیں کہ پانی پیتے ہوئے بھی آٹھ دس تحفظات ہی میں اٹھتے بیٹھتے اور کھاتے پیتے ہیں، یہاں تک کہ لینے کے لیے دو چار تحفظات اوپر نیچے ضرور لیتے ہیں بلکہ اکثر دانشوروں کا خیال ہے کہ اگر ان کی زندگی سے تحفظات کو خارج کردیا جائے تو کچھ بھی باقی نہ رہے مطلب یہ کہ وہ خود بھی سراسر تحفظات ہیں اور تحفظات بھی صرف وہ ہی ہیں دونوں کو الگ کیا ہی نہیں جا سکتا ۔ ورنہ پھر سوال اٹھے گا کہ اگر یہ '' تحفظات '' ہیں تو وہ کہاں ہیں اور اگر یہ '' وہ '' ہیں تو تحفظات کہاں ہیں ۔
چنانچہ ان کو اپنے تحفظات کے لیے ماما کی اشد ضرورت ہے لیکن وہ تو بچاری '' کوما '' میں ہے۔ ایک اور صاحب جو حق کے چراغ ہیں یعنی '' چراغ حق''وہ بھی بڑی کوشش کر رہے ہیں ان کی کوشش اور محنت دیکھ کر ہمیں اکثر اپنے بچپن کی یاد آجاتی ہے ۔
اس زمانے میں بڑے آندھی طوفان آتے تھے آج کل وہ طوفان آتے ہیں لیکن چائے کی پیالی یا منرل واٹر تک محدود ہوتے ہیں۔ ان طوفانوں میں اکثر پرندے زخمی یا بے جان ہو جاتے تھے تو ہم کسی پرندے کو لے کر اس کے اوپر ٹوپی رکھ دیتے تھے اور اس کے چاروں طرف بیٹھ جاتے تھے کچھ آتا جاتا تو تھا نہیں چنانچہ اپنی مٹھیوں کو منہ کے پاس لے جاکر '' چف '' کرتے اورہاتھ ٹوپی پر رکھتے، سارے لڑکے مسلسل چف چف کرتے تو بعض اوقات وہ پرندہ گرمی پاکر '' زندہ '' بھی ہوجاتا تھا جسے ہم اپنا اور اپنے چف چف کا کمال سمجھتے تھے لیکن زیادہ تر پرندوں پر چف چف کا اثر نہیں ہوتا تھا اور وہ بدستور '' ماما'' کی طرح کوما ہی کوما میں سدھار جاتے تھے۔
چنانچہ اب کے بھی ہم دیکھ رہے کہ یہ دونوں حضرات یعنی حق کے چراغ اور رحمن کے فضل بڑی تندہی سے اس ٹوپی پر چف چف کر رہے ہیں کچھ اور لوگوں کو بھی ملایا ہوا ہے لیکن ''ماما'' ہے کہ کوما سے باہر آکر ہی نہیں دے رہی ہے ۔کچھ لوگ اس کی وجہ بیٹوں کے درمیان اتفاق کو بھی قرار دے رہے ہیں کیونکہ کئی بیٹے اور پھر خاص طور پر وہ بیٹا جو '' حق کا سننے والا '' ہے پکڑائی نہیں دے رہے ہیں ،ایک وجہ شاید یہ بھی ہو لیکن ہمارے خیال میں جو کچھ زیادہ قابل اعتبار نہیں ہے اس کی وجہ کچھ اور ہے ۔ماما '' بجائے خود تو اتنی مبارک نہیں ہے بلکہ جو کچھ اس کے '' اندر '' یا اور اولادوں کے ''باہر '' ہے وہ تو سب کچھ اس خاندان کے اصل سربراہ اسلام کا ہے جو باقاعدہ زندہ تابندہ ہے اور یہ سارے ہی اس کا دیا کھاتے ہیں لیکن وہ ان کی نافرمانی خود سری اورشورہ پشتی سے ناراض ہے، اسے شکایت ہے کہ آخر یہ میرا کیا خاندان ہے اور نام لیوا ہیں کہ ہمیشہ تو آپس میں سرپٹھول کرتے رہتے ہیں جوتیوں میں دال بانٹتے ہیں اور ڈیڑھ اینٹ کی مسجد یں الگ الگ بنائے ہوئے ہیں لیکن جب بھی کچھ '' بٹنے '' کا وقت آتا تو میرا نام لے کر اکٹھے ہو جاتے ہیں حالانکہ تب بھی ان کو مجھ سے اور میری بھلائی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا بلکہ میرے نام لیواؤں سے کچھ بٹورنا ہوتا ہے۔
اگر یہ واقعی میرے سچے نام لیوا ہیں میرے ہی خاندان کے رکن ہیں اور میری ہی سربلندی کے لیے سرگرم ہیں بلکہ دن رات میری مالا جپتے ہیں اور اپنے ہر کام پر میرے ہی نام کا ٹھپہ لگاتے ہیں تو پھر الگ الگ کیوں ہیں، جب میں بھی ایک ہوں، میری کتاب بھی ایک ہے، رسول بھی ایک ہے، خدا بھی ایک ہے، قبلہ بھی ایک ہی ہے، مقصد بھی ایک ہے تو پھر یہ الگ الگ دکانیں کیبن اور پڑھے کیوں ؟ سب اکٹھے ہوکر میرے خاندان کا میرے نام کا اور میری سربلندی کا ایک ہی پرچم کیوں نہیں اٹھاتے ۔ آخر کیوں ؟ کوئی ذرا مجھے سمجھا تو دے کہ ایک بھی ہیں اور نیک بھی۔ ایک ہونے کا تو ایک باقاعدہ جواز ہے ؟ لیکن یہ الگ الگ ایک دوسرے کے مقابل دکانوں کا کیا جواز ہے کیا دلیل ہے اور کیا تک ہے ؟آخر ایسے نام لیواؤں کو میں کیا سمجھوں کیسے اپنا خاندان کیوں رہی '' ماما '' تووہ تو بیچاری سادہ لوح تھی ایک مرتبہ محبت اور خلوص کے جھانسے میں آگئی لیکن پھر جب اس نے ان کو '' شکار '' تقسیم کرتے وقت آپس میں گتھم گتھا دیکھا تو بیچاری کا معصوم دل ایسا ٹوٹا ایسا ٹوٹا کہ جڑنے کا امکان ہی نہیں رہا، دل کوئی لکڑی تو ہے نہیں کہ کسی کیل سے دوبارہ ٹھوک دی جائے دل تو شیشہ ہے موتی ہے نگینہ ہے ٹوٹ جائے تو پھر کبھی نہیں جڑتا کوئی کتنے ہی چف چف کیوں نہ کرے ؟ شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں کوئی نہیں اور جب جوڑنے والا مصالحہ ملاوٹی بھی یا نقلی بھی ہوں ۔
ان کا بڑا بیٹا ایک نہایت ہی صابر و شاکر اور مرنجان مرنج بیٹا تھا اس لیے وہ منجھلے کی ساری زیادتیاں سکون سے برداشت کرلیتا تھا حالانکہ برا منجھلا بھی نہیں تھا ماں سے محبت اور اطاعت اس کی گھٹی میں پڑی تھی لیکن طبیعت تو طبیعت ہوتی ہے جو کچھ زیادہ ہی توسیع پسند تھی اس لیے کوشش کرتا تھا کہ جتنا ملے اتنا سمیٹے۔ لیکن افسوس کہ موت سے کس کو رستگاری ہے آج تم کل ہماری باری ہے، کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں بلکہ آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں لیکن یہ مت سمجھئے کہ ماما فوت ہو گئی بلکہ '' کوما'' میں چلی گئی ہے، تھی اور ابھی تک '' کوما ''میں ہے ۔
انتخاب کی آمد پر لواحقین کو ایک مرتبہ پھر ماما کی ضرورت گئی اور جتن شروع کر دیے کہ کسی طرح '' ماما'' کو کوما سے باہر لایا جائے لیکن ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے، خدا ان کی کوششوںاور سعادت مندی میں برکت ڈالے ۔ایک بیٹا جس پر '' ماں '' کی دعا جنت کی ہوا کچھ زیادہ ہی راس آئی تھی اور رحمان کے '' فضل '' سے بہت زیادہ بہرہ ور خاص طور پر تحفظات کی دولت سے تو وہ اتنے مالا مال ہیں کہ پانی پیتے ہوئے بھی آٹھ دس تحفظات ہی میں اٹھتے بیٹھتے اور کھاتے پیتے ہیں، یہاں تک کہ لینے کے لیے دو چار تحفظات اوپر نیچے ضرور لیتے ہیں بلکہ اکثر دانشوروں کا خیال ہے کہ اگر ان کی زندگی سے تحفظات کو خارج کردیا جائے تو کچھ بھی باقی نہ رہے مطلب یہ کہ وہ خود بھی سراسر تحفظات ہیں اور تحفظات بھی صرف وہ ہی ہیں دونوں کو الگ کیا ہی نہیں جا سکتا ۔ ورنہ پھر سوال اٹھے گا کہ اگر یہ '' تحفظات '' ہیں تو وہ کہاں ہیں اور اگر یہ '' وہ '' ہیں تو تحفظات کہاں ہیں ۔
چنانچہ ان کو اپنے تحفظات کے لیے ماما کی اشد ضرورت ہے لیکن وہ تو بچاری '' کوما '' میں ہے۔ ایک اور صاحب جو حق کے چراغ ہیں یعنی '' چراغ حق''وہ بھی بڑی کوشش کر رہے ہیں ان کی کوشش اور محنت دیکھ کر ہمیں اکثر اپنے بچپن کی یاد آجاتی ہے ۔
اس زمانے میں بڑے آندھی طوفان آتے تھے آج کل وہ طوفان آتے ہیں لیکن چائے کی پیالی یا منرل واٹر تک محدود ہوتے ہیں۔ ان طوفانوں میں اکثر پرندے زخمی یا بے جان ہو جاتے تھے تو ہم کسی پرندے کو لے کر اس کے اوپر ٹوپی رکھ دیتے تھے اور اس کے چاروں طرف بیٹھ جاتے تھے کچھ آتا جاتا تو تھا نہیں چنانچہ اپنی مٹھیوں کو منہ کے پاس لے جاکر '' چف '' کرتے اورہاتھ ٹوپی پر رکھتے، سارے لڑکے مسلسل چف چف کرتے تو بعض اوقات وہ پرندہ گرمی پاکر '' زندہ '' بھی ہوجاتا تھا جسے ہم اپنا اور اپنے چف چف کا کمال سمجھتے تھے لیکن زیادہ تر پرندوں پر چف چف کا اثر نہیں ہوتا تھا اور وہ بدستور '' ماما'' کی طرح کوما ہی کوما میں سدھار جاتے تھے۔
چنانچہ اب کے بھی ہم دیکھ رہے کہ یہ دونوں حضرات یعنی حق کے چراغ اور رحمن کے فضل بڑی تندہی سے اس ٹوپی پر چف چف کر رہے ہیں کچھ اور لوگوں کو بھی ملایا ہوا ہے لیکن ''ماما'' ہے کہ کوما سے باہر آکر ہی نہیں دے رہی ہے ۔کچھ لوگ اس کی وجہ بیٹوں کے درمیان اتفاق کو بھی قرار دے رہے ہیں کیونکہ کئی بیٹے اور پھر خاص طور پر وہ بیٹا جو '' حق کا سننے والا '' ہے پکڑائی نہیں دے رہے ہیں ،ایک وجہ شاید یہ بھی ہو لیکن ہمارے خیال میں جو کچھ زیادہ قابل اعتبار نہیں ہے اس کی وجہ کچھ اور ہے ۔ماما '' بجائے خود تو اتنی مبارک نہیں ہے بلکہ جو کچھ اس کے '' اندر '' یا اور اولادوں کے ''باہر '' ہے وہ تو سب کچھ اس خاندان کے اصل سربراہ اسلام کا ہے جو باقاعدہ زندہ تابندہ ہے اور یہ سارے ہی اس کا دیا کھاتے ہیں لیکن وہ ان کی نافرمانی خود سری اورشورہ پشتی سے ناراض ہے، اسے شکایت ہے کہ آخر یہ میرا کیا خاندان ہے اور نام لیوا ہیں کہ ہمیشہ تو آپس میں سرپٹھول کرتے رہتے ہیں جوتیوں میں دال بانٹتے ہیں اور ڈیڑھ اینٹ کی مسجد یں الگ الگ بنائے ہوئے ہیں لیکن جب بھی کچھ '' بٹنے '' کا وقت آتا تو میرا نام لے کر اکٹھے ہو جاتے ہیں حالانکہ تب بھی ان کو مجھ سے اور میری بھلائی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا بلکہ میرے نام لیواؤں سے کچھ بٹورنا ہوتا ہے۔
اگر یہ واقعی میرے سچے نام لیوا ہیں میرے ہی خاندان کے رکن ہیں اور میری ہی سربلندی کے لیے سرگرم ہیں بلکہ دن رات میری مالا جپتے ہیں اور اپنے ہر کام پر میرے ہی نام کا ٹھپہ لگاتے ہیں تو پھر الگ الگ کیوں ہیں، جب میں بھی ایک ہوں، میری کتاب بھی ایک ہے، رسول بھی ایک ہے، خدا بھی ایک ہے، قبلہ بھی ایک ہی ہے، مقصد بھی ایک ہے تو پھر یہ الگ الگ دکانیں کیبن اور پڑھے کیوں ؟ سب اکٹھے ہوکر میرے خاندان کا میرے نام کا اور میری سربلندی کا ایک ہی پرچم کیوں نہیں اٹھاتے ۔ آخر کیوں ؟ کوئی ذرا مجھے سمجھا تو دے کہ ایک بھی ہیں اور نیک بھی۔ ایک ہونے کا تو ایک باقاعدہ جواز ہے ؟ لیکن یہ الگ الگ ایک دوسرے کے مقابل دکانوں کا کیا جواز ہے کیا دلیل ہے اور کیا تک ہے ؟آخر ایسے نام لیواؤں کو میں کیا سمجھوں کیسے اپنا خاندان کیوں رہی '' ماما '' تووہ تو بیچاری سادہ لوح تھی ایک مرتبہ محبت اور خلوص کے جھانسے میں آگئی لیکن پھر جب اس نے ان کو '' شکار '' تقسیم کرتے وقت آپس میں گتھم گتھا دیکھا تو بیچاری کا معصوم دل ایسا ٹوٹا ایسا ٹوٹا کہ جڑنے کا امکان ہی نہیں رہا، دل کوئی لکڑی تو ہے نہیں کہ کسی کیل سے دوبارہ ٹھوک دی جائے دل تو شیشہ ہے موتی ہے نگینہ ہے ٹوٹ جائے تو پھر کبھی نہیں جڑتا کوئی کتنے ہی چف چف کیوں نہ کرے ؟ شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں کوئی نہیں اور جب جوڑنے والا مصالحہ ملاوٹی بھی یا نقلی بھی ہوں ۔