پنجابی عوام اگر چاہیں
ملک کی سیاسی طاقت پنجاب کے ہاتھوں میں ہے۔ اس حقیقت سے کوئی واقف ہو یا نہ ہو
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
PESHAWAR:
پنجاب چھوٹے صوبوں کا استحصال کر رہا ہے جب یہ بات کسی طرف سے کہی جاتی ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پنجاب کے عوام چھوٹے صوبوں کا استحصال کر رہے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پنجاب کا جاگیردار، سرمایہ دار، صنعتکار طبقہ یعنی اشرافیہ چھوٹے صوبوں کا استحصال کر رہی ہے ۔
اس حقیقت کے پیش نظر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ چاروں صوبوں کے عوام اشرافیہ کے استحصال کا شکار ہیں۔ اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے ملک کی آبادی اس قدر غیر متوازن ہے کہ جس کے نتیجے میں ملک کی سیاسی طاقت کا توازن پنجاب کے ہاتھوں میں آگیا ہے۔ وہ بے چارے تو نہ کسی سیاسی عدم توازن کا مطلب سمجھتے ہیں نہ توازن کا کیونکہ انھیں شعورکی منزل سے دور رکھنے کے لیے تعلیم اور سیاسی شعور سے محروم رکھا گیا ہے۔
پچھلے دنوں ایلیٹ نے ''پڑھے لکھے پنجاب'' کا ایک پرفریب نعرہ ایجاد کیا تھا، لیکن اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اگر پنجاب کے عوام علم اور سیاسی شعور سے آراستہ ہوتے تو عشروں سے وہ پنجاب کی اشرافیہ کی گرفت میں نہ ہوتے۔ میں جب کراچی میں مزدوری کے اڈوں پر نظر ڈالتا ہوں یا ملوں اور کارخانوں کو دیکھتا ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ پنجاب کے عوام بھی اسی معاشی استحصال کا شکار ہیں جس کا شکار ملک کے دوسرے صوبوں کے غریب عوام ہیں۔
اگر پاکستان میں عوام کی حالت کا اندازہ کرنا ہو تو کراچی کے کسی مزدور اڈے پر چلے جائیے اور دیکھیے کہ ملک کتنی ترقی کر رہا ہے جب کوئی شخص مزدوروں کی تلاش میں کسی مزدور اڈے پر آتا ہے تو روزگار کے متلاشی پنجابی، پٹھان، سندھی، بلوچ مزدور اس طرح جھپٹتے ہیں کہ پاکستان میں روزگار کی کیا صورت حال ہے اس کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔ میں حیران رہ جاتا ہوں کہ روزگار کے لیے ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملائے بیٹھے یہ مزدور روزگار کے دشمنوں، روزگار کو غریب مزدوروں میں لنگر کی طرح بانٹنے والی اشرافیہ کے خلاف کندھے سے کندھا ملانے کیوں نہیں دیتے؟ جس دن چاروں صوبوں کے عوام اپنے طبقاتی دشمنوں کے خلاف متحد ہوجائیں گے وہ دن پاکستان میں اشرافیہ کا آخری دن ہوگا۔ اس دن سے بچنے کے لیے ہی اشرافیہ نے ستر سال سے غریب طبقات کو پنجابی، پٹھان، سندھی، مہاجر اور بلوچ بنا کر رکھا ہے۔
اس حوالے سے بدقسمتی یہ ہے کہ سیاسی شعور سے آراستہ مڈل کلاس دانستہ یا نادانستہ ایلیٹ کی دلالی میں یا اپنی نظریاتی حماقت کی وجہ سے ان سادہ لوح عوام میں قوم پرستی کا زہر گھول دیا ہے اور مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ قوم پرستی کا زہر معصوم عوام کے ذہنوں میں گھولنے والے دانستہ یا نادانستہ اشرافیہ کی حمایت کررہے ہیں۔ یہی زہر اس ملک کے 20 کروڑ عوام کو عوام نہیں رہنے دیتا انھیں پنجابی، پٹھان، سندھی، مہاجر، بلوچ میں تقسیم کرکے ان کی اجتماعی طاقت کو توڑ دیتا ہے۔ آج عوام ستر برس سے جن مظالم کا شکار ہیں اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ عوام نہیں رہے پنجابی، پٹھان، سندھی، مہاجر، بلوچ اور مختلف مذہبی فرقے بن کر رہ گئے ہیں۔
جیساکہ ہم نے واضح کیا ہے کہ آبادی کے حوالے سے پنجاب تینوں صوبوں کی مجموعی آبادی سے بڑا ہے یعنی ملک کی آبادی کا لگ بھگ 63 فیصد حصہ پنجاب میں رہتا ہے۔ یوں ملک کی سیاسی طاقت پنجاب کے ہاتھوں میں ہے۔ اس حقیقت سے کوئی واقف ہو یا نہ ہو اشرافیہ پوری طرح واقف ہے اسی لیے وہ پنجاب کو ہر صورت میں اپنے قبضے میں رکھنا چاہتی ہے اس سازش کو کامیاب بنانے کے لیے اس نے پنجاب کے دوسرے حصوں کا حق بھی لاہور کی ترقی میں دیا ہے کیونکہ لاہور پنجاب کی سیاست کا رخ طے کرتا ہے جس سیاسی جماعت کے ہاتھ میں لاہور ہے پورا پنجاب اس کے ہاتھ میں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لاہور کو ایک ترقی یافتہ شہر بنادیا گیا ہے لیکن یہ کام لاہور کے عوام کی ہمدردی میں نہیں بلکہ اپنی سیاسی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے اور اس کے حوالے سے لاہور کے عوام پر اپنی گرفت اس قدر مضبوط رکھی ہے کہ پنجاب اس عوام دشمن اشرافیہ کی گرفت سے نکل ہی نہیں سکتا۔
پنجاب میں کمزور ہی سہی بائیں بازو کی سیاسی جماعتیں موجود ہیں وہ اپنی نظریاتی بوالعجبی کی وجہ سے ملک کے سیاسی دھارے میں تو نہ آسکیں لیکن بایاں بازو اس قدر اہلیت تو رکھتا ہے کہ اس ملک کی اجتماعی عوامی ترقی کے لیے پنجاب کے سادہ لوح عوام کو اشرافیہ کے کرتوتوں سے واقف کروا کر ان میں پھیلائی ہوئی قوم پرستی کوکمزورکرکے پنجاب کے عوام کو تینوں صوبوں کے عوام کی خستہ حال زندگی سے جوڑے۔
عوام میں پیدا کی گئی قوم پرستی اور جاگیردارانہ نظام کی عطا کردہ شخصیت پرستی جسے بڑھاوا دے کر اب خاندان پرستی تک پہنچادیا گیا ہے دراصل پنجابی ایلیٹ کا ''انوکی داؤ'' بن گئی ہے۔ پنجاب فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، احسان دانش، حبیب جالب جیسے انسان پرست ادیبوں اور شاعروں کا صوبہ ہے ان دوستوں نے ملکی سطح پر اکیس کروڑ عوام اور عالمی سطح پر 7 ارب سے زیادہ غریب انسانوں کی زندگی بدلنے ان کی زندگی سے بھوک افلاس کو نکال کر معاشی مساوات اور معاشی خوشحالی لانے کے لیے اپنے اپنے محاذوں سے ساری زندگی جدوجہد کی معاشی صعوبتوں کا مقابلہ کیا قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن اپنے نظریات سے بے وفائی نہیں کی۔
آج جب میں پنجاب کی برسر اقتدار اشرافیہ کو عوام کے جلسوں میں حبیب جالب کے اشعار پڑھتے دیکھتا ہوں تو ہنسی آجاتی ہے پاکستان خصوصاً پنجاب کی حکمران اشرافیہ ہر دشمن سے دوستی کرسکتی ہے لیکن جو سیاستدان ملک کے ستر سالہ اسٹیٹس کو کو توڑنے کی بات کرتا ہے یا عوام کو اس 70 سالہ اشرافیائی راج پاٹ کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ اشرافیہ اس کے خلاف الزامات اور ذاتی زندگی کے حوالے سے ایسا طوفان کھڑا کردیتی ہے کہ عوام کنفیوژن کا شکار ہوکر رہ جاتے ہیں۔ آج ہمارے ملک میں خاندانی حکومت خاندانی سیاست اور خاندانی جمہوریت کا خطرناک کھیل شروع کردیا گیا ہے اس کھیل کو ختم کرنے میں پنجابی عوام ایک مثبت اور انقلابی کردار ادا کرسکتے ہیں۔
پنجاب چھوٹے صوبوں کا استحصال کر رہا ہے جب یہ بات کسی طرف سے کہی جاتی ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پنجاب کے عوام چھوٹے صوبوں کا استحصال کر رہے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پنجاب کا جاگیردار، سرمایہ دار، صنعتکار طبقہ یعنی اشرافیہ چھوٹے صوبوں کا استحصال کر رہی ہے ۔
اس حقیقت کے پیش نظر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ چاروں صوبوں کے عوام اشرافیہ کے استحصال کا شکار ہیں۔ اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے ملک کی آبادی اس قدر غیر متوازن ہے کہ جس کے نتیجے میں ملک کی سیاسی طاقت کا توازن پنجاب کے ہاتھوں میں آگیا ہے۔ وہ بے چارے تو نہ کسی سیاسی عدم توازن کا مطلب سمجھتے ہیں نہ توازن کا کیونکہ انھیں شعورکی منزل سے دور رکھنے کے لیے تعلیم اور سیاسی شعور سے محروم رکھا گیا ہے۔
پچھلے دنوں ایلیٹ نے ''پڑھے لکھے پنجاب'' کا ایک پرفریب نعرہ ایجاد کیا تھا، لیکن اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اگر پنجاب کے عوام علم اور سیاسی شعور سے آراستہ ہوتے تو عشروں سے وہ پنجاب کی اشرافیہ کی گرفت میں نہ ہوتے۔ میں جب کراچی میں مزدوری کے اڈوں پر نظر ڈالتا ہوں یا ملوں اور کارخانوں کو دیکھتا ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ پنجاب کے عوام بھی اسی معاشی استحصال کا شکار ہیں جس کا شکار ملک کے دوسرے صوبوں کے غریب عوام ہیں۔
اگر پاکستان میں عوام کی حالت کا اندازہ کرنا ہو تو کراچی کے کسی مزدور اڈے پر چلے جائیے اور دیکھیے کہ ملک کتنی ترقی کر رہا ہے جب کوئی شخص مزدوروں کی تلاش میں کسی مزدور اڈے پر آتا ہے تو روزگار کے متلاشی پنجابی، پٹھان، سندھی، بلوچ مزدور اس طرح جھپٹتے ہیں کہ پاکستان میں روزگار کی کیا صورت حال ہے اس کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔ میں حیران رہ جاتا ہوں کہ روزگار کے لیے ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملائے بیٹھے یہ مزدور روزگار کے دشمنوں، روزگار کو غریب مزدوروں میں لنگر کی طرح بانٹنے والی اشرافیہ کے خلاف کندھے سے کندھا ملانے کیوں نہیں دیتے؟ جس دن چاروں صوبوں کے عوام اپنے طبقاتی دشمنوں کے خلاف متحد ہوجائیں گے وہ دن پاکستان میں اشرافیہ کا آخری دن ہوگا۔ اس دن سے بچنے کے لیے ہی اشرافیہ نے ستر سال سے غریب طبقات کو پنجابی، پٹھان، سندھی، مہاجر اور بلوچ بنا کر رکھا ہے۔
اس حوالے سے بدقسمتی یہ ہے کہ سیاسی شعور سے آراستہ مڈل کلاس دانستہ یا نادانستہ ایلیٹ کی دلالی میں یا اپنی نظریاتی حماقت کی وجہ سے ان سادہ لوح عوام میں قوم پرستی کا زہر گھول دیا ہے اور مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ قوم پرستی کا زہر معصوم عوام کے ذہنوں میں گھولنے والے دانستہ یا نادانستہ اشرافیہ کی حمایت کررہے ہیں۔ یہی زہر اس ملک کے 20 کروڑ عوام کو عوام نہیں رہنے دیتا انھیں پنجابی، پٹھان، سندھی، مہاجر، بلوچ میں تقسیم کرکے ان کی اجتماعی طاقت کو توڑ دیتا ہے۔ آج عوام ستر برس سے جن مظالم کا شکار ہیں اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ عوام نہیں رہے پنجابی، پٹھان، سندھی، مہاجر، بلوچ اور مختلف مذہبی فرقے بن کر رہ گئے ہیں۔
جیساکہ ہم نے واضح کیا ہے کہ آبادی کے حوالے سے پنجاب تینوں صوبوں کی مجموعی آبادی سے بڑا ہے یعنی ملک کی آبادی کا لگ بھگ 63 فیصد حصہ پنجاب میں رہتا ہے۔ یوں ملک کی سیاسی طاقت پنجاب کے ہاتھوں میں ہے۔ اس حقیقت سے کوئی واقف ہو یا نہ ہو اشرافیہ پوری طرح واقف ہے اسی لیے وہ پنجاب کو ہر صورت میں اپنے قبضے میں رکھنا چاہتی ہے اس سازش کو کامیاب بنانے کے لیے اس نے پنجاب کے دوسرے حصوں کا حق بھی لاہور کی ترقی میں دیا ہے کیونکہ لاہور پنجاب کی سیاست کا رخ طے کرتا ہے جس سیاسی جماعت کے ہاتھ میں لاہور ہے پورا پنجاب اس کے ہاتھ میں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لاہور کو ایک ترقی یافتہ شہر بنادیا گیا ہے لیکن یہ کام لاہور کے عوام کی ہمدردی میں نہیں بلکہ اپنی سیاسی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے اور اس کے حوالے سے لاہور کے عوام پر اپنی گرفت اس قدر مضبوط رکھی ہے کہ پنجاب اس عوام دشمن اشرافیہ کی گرفت سے نکل ہی نہیں سکتا۔
پنجاب میں کمزور ہی سہی بائیں بازو کی سیاسی جماعتیں موجود ہیں وہ اپنی نظریاتی بوالعجبی کی وجہ سے ملک کے سیاسی دھارے میں تو نہ آسکیں لیکن بایاں بازو اس قدر اہلیت تو رکھتا ہے کہ اس ملک کی اجتماعی عوامی ترقی کے لیے پنجاب کے سادہ لوح عوام کو اشرافیہ کے کرتوتوں سے واقف کروا کر ان میں پھیلائی ہوئی قوم پرستی کوکمزورکرکے پنجاب کے عوام کو تینوں صوبوں کے عوام کی خستہ حال زندگی سے جوڑے۔
عوام میں پیدا کی گئی قوم پرستی اور جاگیردارانہ نظام کی عطا کردہ شخصیت پرستی جسے بڑھاوا دے کر اب خاندان پرستی تک پہنچادیا گیا ہے دراصل پنجابی ایلیٹ کا ''انوکی داؤ'' بن گئی ہے۔ پنجاب فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، احسان دانش، حبیب جالب جیسے انسان پرست ادیبوں اور شاعروں کا صوبہ ہے ان دوستوں نے ملکی سطح پر اکیس کروڑ عوام اور عالمی سطح پر 7 ارب سے زیادہ غریب انسانوں کی زندگی بدلنے ان کی زندگی سے بھوک افلاس کو نکال کر معاشی مساوات اور معاشی خوشحالی لانے کے لیے اپنے اپنے محاذوں سے ساری زندگی جدوجہد کی معاشی صعوبتوں کا مقابلہ کیا قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن اپنے نظریات سے بے وفائی نہیں کی۔
آج جب میں پنجاب کی برسر اقتدار اشرافیہ کو عوام کے جلسوں میں حبیب جالب کے اشعار پڑھتے دیکھتا ہوں تو ہنسی آجاتی ہے پاکستان خصوصاً پنجاب کی حکمران اشرافیہ ہر دشمن سے دوستی کرسکتی ہے لیکن جو سیاستدان ملک کے ستر سالہ اسٹیٹس کو کو توڑنے کی بات کرتا ہے یا عوام کو اس 70 سالہ اشرافیائی راج پاٹ کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ اشرافیہ اس کے خلاف الزامات اور ذاتی زندگی کے حوالے سے ایسا طوفان کھڑا کردیتی ہے کہ عوام کنفیوژن کا شکار ہوکر رہ جاتے ہیں۔ آج ہمارے ملک میں خاندانی حکومت خاندانی سیاست اور خاندانی جمہوریت کا خطرناک کھیل شروع کردیا گیا ہے اس کھیل کو ختم کرنے میں پنجابی عوام ایک مثبت اور انقلابی کردار ادا کرسکتے ہیں۔