سندھ اسمبلی میں نئی حلقہ بندیوں کی رپورٹ پر اپوزیشن کا احتجاج
ضلع وسطی کراچی کی نشستیں کم کردی گئیں، شہر کے مینڈیٹ پرڈاکہ ڈالنے کی منصوبہ بندی ہے،اظہار الحسن۔
وزرا کی عدم موجودگی پرقائم مقام اسپیکرکا سخت برہمی کا اظہار۔ فوٹو:فائل
سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے نئی حلقہ بندیوں کی رپورٹ پر سخت اعتراضات کیے ہیں اور اس کے خلاف قرار داد مذمت لانے کا اعلان کیا ہے۔
خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ یہ رپورٹ انتہائی متنازع ہے۔ رپورٹ میں کراچی کے بیشتر حلقوں کو دیہی حلقے قرار دیا گیا ہے۔ صوبے کے سب سے گنجان آباد ضلع وسطی کراچی کی نشستیں کم کر دی گئیں۔ یہ شہر کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے کی منصوبہ بندی ہے۔ اس پر سینئر وزیر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ مردم شماری پر پورے سندھ کو تحفظات ہیں اگر کے ایم سی کے علاقوں کو دیہی قرار دیا گیا ہے تومعاملے کو دیکھنا چاہیے۔
ایوان میں گزشتہ روز دوسرے روز بھی متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) پاکستان کے رکن محفوظ یار خان اور ایم کیو ایم سے منحرف ہو کر پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہونے والے رکن ندیم رضی آپس میں الجھ پڑے۔دونوں کے مائیک بند تھے لیکن دونوں طرف سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے جا رہے تھے۔ ایوان مچھلی بازار بن گیا۔
قائم مقام اسپیکر سیدہ شہلا رضا نے ان سے کہا کہ وہ ایوان سے باہر چلے جائیں۔گھر کی لانڈری یہاں نہیں دھلے گی۔ دعا کے وقفے کے بعد محفوظ یار خان کھڑے ہوکر بولنے لگے اور کہا کہ ایم کیو ایم کے منحرف ارکان کو ایوان سے باہر نکالا جائے۔اس پر ندیم رضی بھی کھڑے ہو گئے اور انھوں نے بھی جواب دینا شروع کر دیا۔ایوان میں شور ہوا تو سینئر وزیر نثار احمد کھوڑو نے قائم مقام اسپیکر سے کہا کہ وہ ایوان کا ماحول خراب ہونے سے بچائیں۔
متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) پاکستان سے منحرف ہو کر پاک سرزمین پارٹی ( پی ایس پی ) میں شامل ہونے والے ارکان سندھ اسمبلی نے حلقہ بندیوں کے خلاف سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ میں قرار داد جمع کرا دی۔ قرار داد پر سید ندیم رضی اور دیگر کے دستخط ہیں۔
قرار داد میں کہا گیا ہے کہ یہ حلقہ بندیاں سندھ کے لوگوں کو کسی بھی طرح قبول نہیں ہیں۔علاوہ ازیں سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ یونیورسٹیز اور دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قوانین میں ترامیم کا بل منظور ہوا تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعد اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن ، ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد ، مسلم لیگ (فنکشنل) کے پارلیمانی لیڈر نندکمار اور پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر خرم شیر زمان نے میڈیا سے بات چیت سندھ یونیورسٹیز اینڈ انسٹی ٹیوٹس لاز ( ترمیمی ) بل کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اگر یہ بل منظور ہوا تو ہم اسے عدالت میں چیلنج کریں گے۔ پیپلز پارٹی اسمبلی کو اوطاق کی طرح چلا رہی ہے۔
علاوہ ازیں وزرا کی عدم موجودگی پر قائم مقام اسپیکر سیدہ شہلا رضا نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس محکمہ داخلہ ، محکمہ نوادرات اور محکمہ بلدیات سے متعلق تھے۔ وزیرداخلہ سہیل انور سیال ، وزیر ثقافت اور نوادرات سید سردار علی شاہ اور وزیر بلدیات جام خان شورو اسمبلی میں موجود نہیں تھے۔
قائم مقام اسپیکر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ وزرا اور ارکان اسمبلی میں نہیں آتے۔سندھ سیکریٹریٹ میں شراب کے استعمال سے متعلق تحریک التوا بدھ کو سندھ اسمبلی میں خلاف ضابطہ قر ار دے دی گئی۔
دریں اثنا سندھ حکومت نے سندھ اسمبلی میں '' سندھ یونیورسٹیز اینڈ انسٹی ٹیوٹس لاز ( ترمیمی ) بل 2018 '' کی منظوری کے لیے پیش کیا۔ بل کے تحت صوبے کی سرکاری جامعات اور دیگر ڈگری دینے والے اداروں کا چانسلر یا کنٹرولنگ اتھارٹی گورنر نہیں بلکہ وزیر اعلی سندھ ہوگا۔ اپوزیشن نے اس پر سخت احتجاج کیا اور ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا۔
خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ یہ رپورٹ انتہائی متنازع ہے۔ رپورٹ میں کراچی کے بیشتر حلقوں کو دیہی حلقے قرار دیا گیا ہے۔ صوبے کے سب سے گنجان آباد ضلع وسطی کراچی کی نشستیں کم کر دی گئیں۔ یہ شہر کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے کی منصوبہ بندی ہے۔ اس پر سینئر وزیر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ مردم شماری پر پورے سندھ کو تحفظات ہیں اگر کے ایم سی کے علاقوں کو دیہی قرار دیا گیا ہے تومعاملے کو دیکھنا چاہیے۔
ایوان میں گزشتہ روز دوسرے روز بھی متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) پاکستان کے رکن محفوظ یار خان اور ایم کیو ایم سے منحرف ہو کر پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہونے والے رکن ندیم رضی آپس میں الجھ پڑے۔دونوں کے مائیک بند تھے لیکن دونوں طرف سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے جا رہے تھے۔ ایوان مچھلی بازار بن گیا۔
قائم مقام اسپیکر سیدہ شہلا رضا نے ان سے کہا کہ وہ ایوان سے باہر چلے جائیں۔گھر کی لانڈری یہاں نہیں دھلے گی۔ دعا کے وقفے کے بعد محفوظ یار خان کھڑے ہوکر بولنے لگے اور کہا کہ ایم کیو ایم کے منحرف ارکان کو ایوان سے باہر نکالا جائے۔اس پر ندیم رضی بھی کھڑے ہو گئے اور انھوں نے بھی جواب دینا شروع کر دیا۔ایوان میں شور ہوا تو سینئر وزیر نثار احمد کھوڑو نے قائم مقام اسپیکر سے کہا کہ وہ ایوان کا ماحول خراب ہونے سے بچائیں۔
متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) پاکستان سے منحرف ہو کر پاک سرزمین پارٹی ( پی ایس پی ) میں شامل ہونے والے ارکان سندھ اسمبلی نے حلقہ بندیوں کے خلاف سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ میں قرار داد جمع کرا دی۔ قرار داد پر سید ندیم رضی اور دیگر کے دستخط ہیں۔
قرار داد میں کہا گیا ہے کہ یہ حلقہ بندیاں سندھ کے لوگوں کو کسی بھی طرح قبول نہیں ہیں۔علاوہ ازیں سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ یونیورسٹیز اور دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قوانین میں ترامیم کا بل منظور ہوا تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعد اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن ، ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد ، مسلم لیگ (فنکشنل) کے پارلیمانی لیڈر نندکمار اور پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر خرم شیر زمان نے میڈیا سے بات چیت سندھ یونیورسٹیز اینڈ انسٹی ٹیوٹس لاز ( ترمیمی ) بل کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اگر یہ بل منظور ہوا تو ہم اسے عدالت میں چیلنج کریں گے۔ پیپلز پارٹی اسمبلی کو اوطاق کی طرح چلا رہی ہے۔
علاوہ ازیں وزرا کی عدم موجودگی پر قائم مقام اسپیکر سیدہ شہلا رضا نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس محکمہ داخلہ ، محکمہ نوادرات اور محکمہ بلدیات سے متعلق تھے۔ وزیرداخلہ سہیل انور سیال ، وزیر ثقافت اور نوادرات سید سردار علی شاہ اور وزیر بلدیات جام خان شورو اسمبلی میں موجود نہیں تھے۔
قائم مقام اسپیکر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ وزرا اور ارکان اسمبلی میں نہیں آتے۔سندھ سیکریٹریٹ میں شراب کے استعمال سے متعلق تحریک التوا بدھ کو سندھ اسمبلی میں خلاف ضابطہ قر ار دے دی گئی۔
دریں اثنا سندھ حکومت نے سندھ اسمبلی میں '' سندھ یونیورسٹیز اینڈ انسٹی ٹیوٹس لاز ( ترمیمی ) بل 2018 '' کی منظوری کے لیے پیش کیا۔ بل کے تحت صوبے کی سرکاری جامعات اور دیگر ڈگری دینے والے اداروں کا چانسلر یا کنٹرولنگ اتھارٹی گورنر نہیں بلکہ وزیر اعلی سندھ ہوگا۔ اپوزیشن نے اس پر سخت احتجاج کیا اور ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا۔