کلورین کے بغیر پانی کی فراہمی شہر میں وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ
ادائیگی نہ کرنے کے باعث ٹھیکیداروں نے کلورین کی سپلائی روک دی،سی اوڈی فلٹر پلانٹ پر کلورین ختم ہوگئی،2 دن سے۔۔۔، ذرائع
دیگر اسٹیشنوں پر کلورین کم رہ گئی، ایم ڈی واٹربورڈ نے امریکا جانے سے قبل ٹھیکیداروں کو 10کروڑ کی ادائیگی کی مگر کلورین فراہم کرنیوالے ٹھکیداروں کو ادائیگی نہیں کی گئی۔ فوٹو : فائل
PESHAWAR:
کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ میں کلورین کی سپلائی بند ہوجانے کے باعث ادارے نے مختلف علاقوں میں کلورین کے بغیر پانی کی سپلائی شروع کردی جس سے شہر میں وبائی امراض پھوٹنے کاخدشہ پیدا ہوگیا ہے تاہم واٹربورڈ کی انتظامیہ معاملے کو دبانے میں مصروف ہے۔
باخبر ذرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے ایکسپریس کو بتایا ہے کہ واٹربورڈ میں کلورین سپلائی کرنے والے ٹھکیدار نے کلورین کی سپلائی بند کردی ہے جس کے باعث سی اوڈی فلٹر پلانٹ پر مکمل طور پر کلورین ختم ہوجانے کے باعث اس پمپنگ اسٹیشن سے 16 کروڑ گیلن پانی شہر کے مختلف علاقوں گلشن اقبال ، صدر ، برنس روڈ ، رنچھوڑ لائن ، لیاری ، پی ای سی ایچ ایس ، کے ڈی اے اسکیم ون ، محمود آباد ، کراچی ایڈمنسٹریشن سوسائٹی ، منظور کالونی ، پی آئی بی کالونی ، گارڈن ایسٹ ، گارڈن ویسٹ ، لائنز ایریا ، خداداد کالونی ، جہانگیر روڈ ، جمشید روڈ ، سولجربازار ، پٹیل پاڑہ ، گرومندر ، نمائش چورنگی ، فاطمہ جناح کالونی ، حیدرآباد کالونی ، مسلم آباد ، شکارپور کالونی ، کلفٹن ، گذری ، لیاقت آباد ، ناظم آباد ، بلدیہ ٹاؤن ، ماری پور ، ریکسر ولیج ، گریس ولیج ، ہاکس بے سمیت اس سے ملحقہ علاقے شامل ہیں کو پانی فراہم کیا جاتا ہے، ذرائع نے بتایا کہ2 دن سے اس فلٹرپلانٹ سے کلورین کے بغیر پانی کی سپلائی جاری ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ دیگر پمپنگ اسٹیشنوں پر کلورین کی مقدار بہت کم رہ گئی ہے جو کہ آئندہ چند روز میں ختم ہوجائے گی جس کے بعد پورے شہر میں کلورین کے بغیر پانی کی سپلائی شروع ہوجائے گی، باخبر ذرائع نے بتایا کہ کلورین کا شمار مونوپولی آئٹم میں ہوتا ہے اور پورے پاکستان میں صرف دو ادارے ملک کے تمام اداروں میں یہ آئٹم سپلائی کرتے ہیں، مونوپولی آئٹم ہونے کے باعث یہ کلورین فراہم کرنے والے دونوں ادارے سرکاری اداروں کے افسران واٹر بورڈ افسران کی خواہشیں پوری نہیں کرتے۔
یہی وجہ ہے کہ واٹربورڈ کے افسران ان سپلائرز کو ادائیگیوں میں ہمیشہ تسائل پسندی اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، ان کے بجائے ان ٹھکیداروں کو ادائیگیاں کرنے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں جو ان کی طلب کے مطابق ''ادائیگیاں'' کرتے ہوں، ذرائع نے بتایا کہ واٹربورڈ کے ایم ڈی جو کہ آج کل امریکا کے دورے پر ہیں انھوں نے امریکا جانے سے قبل ٹھیکیداروں کو 10 کروڑ روپے کی ادائیگی کی ہے مگر کلورین فراہم کرنے والے ٹھیکیداروں کو ادائیگی نہیں کی گئی جس کے باعث ٹھیکیداروں نے کلورین کی سپلائی روک لی۔
ذرائع نے بتایا کہ شہر میں کلورین کے بغیر پانی کی سپلائی کے شہر میں بڑے پیمانے پر وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر شہر میں وبائی امراض پھوٹے تو اس کی تمام تر ذمے داری صرف اورصرف واٹربورڈ کے افسران پر ہوگی۔
کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ میں کلورین کی سپلائی بند ہوجانے کے باعث ادارے نے مختلف علاقوں میں کلورین کے بغیر پانی کی سپلائی شروع کردی جس سے شہر میں وبائی امراض پھوٹنے کاخدشہ پیدا ہوگیا ہے تاہم واٹربورڈ کی انتظامیہ معاملے کو دبانے میں مصروف ہے۔
باخبر ذرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے ایکسپریس کو بتایا ہے کہ واٹربورڈ میں کلورین سپلائی کرنے والے ٹھکیدار نے کلورین کی سپلائی بند کردی ہے جس کے باعث سی اوڈی فلٹر پلانٹ پر مکمل طور پر کلورین ختم ہوجانے کے باعث اس پمپنگ اسٹیشن سے 16 کروڑ گیلن پانی شہر کے مختلف علاقوں گلشن اقبال ، صدر ، برنس روڈ ، رنچھوڑ لائن ، لیاری ، پی ای سی ایچ ایس ، کے ڈی اے اسکیم ون ، محمود آباد ، کراچی ایڈمنسٹریشن سوسائٹی ، منظور کالونی ، پی آئی بی کالونی ، گارڈن ایسٹ ، گارڈن ویسٹ ، لائنز ایریا ، خداداد کالونی ، جہانگیر روڈ ، جمشید روڈ ، سولجربازار ، پٹیل پاڑہ ، گرومندر ، نمائش چورنگی ، فاطمہ جناح کالونی ، حیدرآباد کالونی ، مسلم آباد ، شکارپور کالونی ، کلفٹن ، گذری ، لیاقت آباد ، ناظم آباد ، بلدیہ ٹاؤن ، ماری پور ، ریکسر ولیج ، گریس ولیج ، ہاکس بے سمیت اس سے ملحقہ علاقے شامل ہیں کو پانی فراہم کیا جاتا ہے، ذرائع نے بتایا کہ2 دن سے اس فلٹرپلانٹ سے کلورین کے بغیر پانی کی سپلائی جاری ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ دیگر پمپنگ اسٹیشنوں پر کلورین کی مقدار بہت کم رہ گئی ہے جو کہ آئندہ چند روز میں ختم ہوجائے گی جس کے بعد پورے شہر میں کلورین کے بغیر پانی کی سپلائی شروع ہوجائے گی، باخبر ذرائع نے بتایا کہ کلورین کا شمار مونوپولی آئٹم میں ہوتا ہے اور پورے پاکستان میں صرف دو ادارے ملک کے تمام اداروں میں یہ آئٹم سپلائی کرتے ہیں، مونوپولی آئٹم ہونے کے باعث یہ کلورین فراہم کرنے والے دونوں ادارے سرکاری اداروں کے افسران واٹر بورڈ افسران کی خواہشیں پوری نہیں کرتے۔
یہی وجہ ہے کہ واٹربورڈ کے افسران ان سپلائرز کو ادائیگیوں میں ہمیشہ تسائل پسندی اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، ان کے بجائے ان ٹھکیداروں کو ادائیگیاں کرنے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں جو ان کی طلب کے مطابق ''ادائیگیاں'' کرتے ہوں، ذرائع نے بتایا کہ واٹربورڈ کے ایم ڈی جو کہ آج کل امریکا کے دورے پر ہیں انھوں نے امریکا جانے سے قبل ٹھیکیداروں کو 10 کروڑ روپے کی ادائیگی کی ہے مگر کلورین فراہم کرنے والے ٹھیکیداروں کو ادائیگی نہیں کی گئی جس کے باعث ٹھیکیداروں نے کلورین کی سپلائی روک لی۔
ذرائع نے بتایا کہ شہر میں کلورین کے بغیر پانی کی سپلائی کے شہر میں بڑے پیمانے پر وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر شہر میں وبائی امراض پھوٹے تو اس کی تمام تر ذمے داری صرف اورصرف واٹربورڈ کے افسران پر ہوگی۔