وی بوک میں خرابی سیلز ٹیکس ریٹرن فائلنگ میں مشکلات

ایئرشپمنٹ جی ڈی نمبرنہ ملنے سے فروری کے گوشوارے داخل نہیں کرائے جا سکے، پی ایچ ایم اے

وی بوک سے مشکلات بڑھ گئیں، ایف بی آر نئے کلیئرنس نظام کو اپ ڈیٹ کرے، جاوید بلوانی فوٹو: فائل

محکمہ کسٹمزکے وی بوک کلیئرنس سسٹم میں تکنیکی خرابی کے باعث جنرل ڈیکلریشن فارم کی انٹری رکنے سے برآمد کنندگان کو سیلز ٹیکس گوشوارے داخل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے کسٹمزوی بوک کے پراجیکٹ ڈائریکٹر سید تنویر احمد کوبھیجے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ فروری 2013 کے دوران ایئرلائنز کے ذریعے کی گئی برآمدی شپمنٹس کے گڈز ڈیکلریشن نمبر کسٹم کے ڈیٹا میں ظاہر نہیں ہو رہے جس کی وجہ سے برآمدکنندگان ماہانہ بنیادوں پر سیلز ٹیکس گوشوارے داخل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

پی ایچ ایم اے کے سینٹرل چیئرمین جاوید بلوانی نے کسٹم حکام پر واضح کیا کہ جب تک محکمہ کسٹمز میں مینول سسٹم رائج تھا برآمدکنندگان کو اس قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں ہوا لیکن وی بوک سسٹم جو بظاہر تجارتی وصنعتی شعبوں کی سہولت کیلیے متعارف کرایا گیا ہے لیکن اس نظام کے ساتھ ہی تاجربرادری کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔




انھوں نے کہا کہ وی بوک سسٹم متعارف کرتے وقت ایئرلائنز کو بھی آن بورڈ لے کر مطلوبہ آئی ڈی فراہم کرنا چاہیے تھی۔ انہوں نے ممبر کسٹمز ایف بی آراور چیئرمین ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ زبانی دعوؤں کے بجائے حقیقی معنوں میں وی بوک کسٹمز کلیئرنس سسٹم میں موجود خامیوں کو ہنگامی بنیادوں پر دور کر کے اسے اپ گریڈ کرنے حکمت عملی وضح کریں تاکہ فروری2013 کے آغاز میں کی گئی برآمدی شپمنٹس کا ڈیٹا اپ ڈیٹ ہوسکے اور برآمد کنندگان فروری کے مہینے کا سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ریٹرن داخل کر کے خود کو نان فائلز ریٹرن کی فہرست سے خارج کراسکیں۔

انہوں نے تجویز دی کہ جب تک کسٹمز حکام رائج وی بوک سسٹم کو مکمل طور پر اپ ڈیٹ نہیں کرتے ہیں اس وقت تک کم از کم ایک مینول سسٹم کا ایم آر فیڈنگ کا عمل جاری رکھا جائے۔
Load Next Story