تاجروں نے لائسنس یافتہ اسلحہ رکھنے پر پابندی کے فیصلے کو مسترد کردیا
پولیس میں کالی بھیڑوں کے ہوتے ہوئے شہرمیں امن و مان کے قیام کا خواب پورا نہیں ہوسکتا،عتیق میر،اکرم رانا،شرجیل گوپلانی
پولیس میں کالی بھیڑوں کے ہوتے ہوئے شہر میں امن و مان کے قیام کا خواب پورا نہیں ہوسکتا،عتیق میر، اکرم رانا، شرجیل گوپلانی فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
چھوٹے تاجروں نے دفعہ 144 کے تحت تاجر و شہریوں پر لائسنس یافتہ اسلحہ ساتھ لیکرچلنے کی ممانعت کے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرزحکمرانی کے ذریعے تاجربرادری کو غیرقانونی اسلحہ رکھنے پر مجبور نہ کیا جائے۔
یہ بات آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے تاجروں کے اجلاس میں کہی، چھوٹے تاجروں کا کہنا تھا کہ ہر شہری کو اپنی جان و مال کی حفاظت کا پورا حق حاصل ہے، غیرمنصفانہ قوانین کا نفاذ عمل میں لاکر تاجروں اور نہتے شہریوں کو ان کے ہاتھ باندھ کر مجرموں کے سامنے ڈالا جارہا ہے، عتیق میر نے کہا کہ متنازعہ فیصلے سے ڈاکوؤں، لٹیروں، رہزنوں اور بھتہ خوروں کی لاٹری نکل آئی ہے۔
تاجر اور شہری نہتے اور جرائم پیشہ عناصر کھلے عام اسلحہ لیکر دندناتے پھررہے ہیں، رینجرز اہلکار چیکنگ کے دوران شہریوں اور تاجروں سے قانونی اسلحہ لائسنس سمیت ضبط کررہے ہیں جنہیں تفتیش کے بہانے کئی کئی ماہ تک واپس نہیں کیا جاتا ہے۔
اجلاس میں موجود تاجر اتحاد کے وائس چیئرمین اکرم رانا، شرجیل گوپلانی، عبدالغنی اخوند، عارف جیوا، احمد شمسی، زبیر علی خان، طارق ممتاز، شیخ محمد عالم، بلال شیخ، شاکر فینسی، شاہد علیم، سید محمد سعید،سمیع اللہ ، سید شرافت علی،عبدالقادر، عارف قادری، محمد آصف، آفرین صدیقی اور دیگر نے کہا کہ جرائم کے خلاف پولیس اور رینجرز کی کارروائیوں میں تیزی کے باوجود نتائج حوصلہ افزاء نہیں ہیں، سیاسی پشت پناہی نے پولیس کی کارکردگی کو دھندلا کر رکھ دیا ہے، محکمہ پولیس میں کالی بھیڑوں کے ہوتے ہوئے شہر میں امن و مان کے قیام کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔
چھوٹے تاجروں نے دفعہ 144 کے تحت تاجر و شہریوں پر لائسنس یافتہ اسلحہ ساتھ لیکرچلنے کی ممانعت کے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرزحکمرانی کے ذریعے تاجربرادری کو غیرقانونی اسلحہ رکھنے پر مجبور نہ کیا جائے۔
یہ بات آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے تاجروں کے اجلاس میں کہی، چھوٹے تاجروں کا کہنا تھا کہ ہر شہری کو اپنی جان و مال کی حفاظت کا پورا حق حاصل ہے، غیرمنصفانہ قوانین کا نفاذ عمل میں لاکر تاجروں اور نہتے شہریوں کو ان کے ہاتھ باندھ کر مجرموں کے سامنے ڈالا جارہا ہے، عتیق میر نے کہا کہ متنازعہ فیصلے سے ڈاکوؤں، لٹیروں، رہزنوں اور بھتہ خوروں کی لاٹری نکل آئی ہے۔
تاجر اور شہری نہتے اور جرائم پیشہ عناصر کھلے عام اسلحہ لیکر دندناتے پھررہے ہیں، رینجرز اہلکار چیکنگ کے دوران شہریوں اور تاجروں سے قانونی اسلحہ لائسنس سمیت ضبط کررہے ہیں جنہیں تفتیش کے بہانے کئی کئی ماہ تک واپس نہیں کیا جاتا ہے۔
اجلاس میں موجود تاجر اتحاد کے وائس چیئرمین اکرم رانا، شرجیل گوپلانی، عبدالغنی اخوند، عارف جیوا، احمد شمسی، زبیر علی خان، طارق ممتاز، شیخ محمد عالم، بلال شیخ، شاکر فینسی، شاہد علیم، سید محمد سعید،سمیع اللہ ، سید شرافت علی،عبدالقادر، عارف قادری، محمد آصف، آفرین صدیقی اور دیگر نے کہا کہ جرائم کے خلاف پولیس اور رینجرز کی کارروائیوں میں تیزی کے باوجود نتائج حوصلہ افزاء نہیں ہیں، سیاسی پشت پناہی نے پولیس کی کارکردگی کو دھندلا کر رکھ دیا ہے، محکمہ پولیس میں کالی بھیڑوں کے ہوتے ہوئے شہر میں امن و مان کے قیام کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔