انارکی کا حوالہ

پاکستان میں عدلیہ کے خلاف زہرگھولنے والے غالباً اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ وہ دانستہ ملک کوانارکی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

پاکستانی تاریخ میں پہلی بار کرپشن کے خلاف عدالت عالیہ نے اقدامات شروع کردیے ہیں اور ملک کے بڑے بڑے بلکہ سب سے بڑے مگرمچھوں کے خلاف احتساب کا آغازکردیا گیا ہے۔

عدلیہ کے اس اقدام کے خلاف سخت مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے جو توہین عدالت کی تمام حدود کو پار کر رہا ہے نہ صرف وہ لوگ جو شاہ سے بڑھ کر شاہ کے وفادار ہوتے ہیں منظم ٹولیوں کی شکل میں توہین عدالت کا ارتکاب کر رہے ہیں بلکہ ان گروہوں کی جرأت کا حال یہ ہے کہ توہین عدالت کے جرم میں مختصر سزا کاٹنے کے بعد دوبارہ توہین عدالت کا ارتکاب کر رہے ہیں کہ دیکھنے والے حیران ہیں اورکانوں کو ہاتھ لگا رہے ہیں۔

دنیا بھر میں بلکہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی کسی بڑے سے بڑے لیڈرکو توہین عدالت کی جرأت نہیں ہوتی کیونکہ ترقی یافتہ ملکوں کے عوام اس حقیقت سے پوری طرح واقف ہیں کہ ریاست کا سب سے بڑا اور قابل احترام ادارہ عدلیہ ہوتی ہے۔ عدلیہ کے خلاف زبان کھولنے کا مطلب ملک کو انارکی کے حوالے کرنا ہوتا ہے۔

پاکستان میں عدلیہ کے خلاف زہرگھولنے والے غالباً اس حقیقت سے ناواقف ہیں یا ان کا غرور انھیں اس حقیقت کو سمجھنے نہیں دے رہا ہے کہ وہ دانستہ ملک کو ایک ایسی انارکی کی طرف دھکیل رہے ہیں جسے اگر سختی سے نہ روکا گیا تو یہ ملک نہ صرف ایک خطرناک انارکی کی زد میں آجائے گا بلکہ خدشہ ہے کہ ملک کہیں خانہ جنگی کی طرف نہ چلا جائے۔ حیرت ہے کہ اس قدر سنگین مسئلے پر جو پاکستان کے مستقبل کے لیے سوالیہ نشان بن گیا ہے ہمارے وہ سیاستدان جو جمہوریت کے لیے پیدا ہونے والے فرضی خطرے کے خلاف پارلیمنٹ میں دھرنے دیتے رہے ہیں وہ آج ملک کو لاحق سنگین خطرے کے خلاف چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں۔

ذہن میں فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس ملک میں جمہوریت ہے یا بادشاہت؟ جمہوریت میں تو عدلیہ سب سے زیادہ محترم ہوتی ہے اور فوج سمیت ملک کا ہر ادارہ عدلیہ کا احترام کرتا ہے کیونکہ ہر ادارہ ہر جمہوری سیاستدان یہ سمجھتا ہے کہ اگر کسی ملک میں عدلیہ کو بے وقعت کردیا جائے تو لازمی طور پر ملک انارکی اور خون خرابے کا شکار ہوسکتا ہے عدالت عالیہ نے چونکہ پہلی بار ملک کے حکمران طبقے کے خلاف احتساب کا آغاز کیا ہے اور اشرافیہ برملا کہہ رہی ہے کہ وہ عدلیہ کے فیصلے کو ماننے کے لیے تیار نہیں ۔اس صورت کی وجہ سارے ملک میں ایک خطرناک ہنگامی صورت پیدا ہوگئی ہے جس پر اگر فوری قابو نہ پایا گیا تو ملک کا شیرازہ بکھرسکتا ہے۔


پاکستان اس وقت نہ صرف بلوچستان میں ایک سنگین صورتحال سے گزر رہا ہے بلکہ پڑوسی ملک بھی بوجوہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ان طاقتوں کا کہنا ہے کہ پاکستان چونکہ غیر فطری ملک ہے لہٰذا اس کو ختم ہونا چاہیے افغانستان نہ صرف ایک پڑوسی ملک ہے بلکہ ایک اسلامی ملک بھی ہے بدقسمتی سے بھارت روز اول سے کشمیر کے حوالے سے پاکستان دشمنی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور دلچسپ اور معنی خیز صورتحال یہ ہے کہ بھارت افغانستان کا سب سے بڑا دوست ہے اور اس کے ترقیاتی پروگراموں مثلاً چاہ بہارکی ترقی کے لیے بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ایسے ملک کے ساتھ جو سیاسی جماعتیں جو سیاسی رہنما ''قریبی تعلقات'' رکھتے ہیں کیا وہ پاکستان کے دوست ہوسکتے ہیں؟

جن رہنماؤں جن سیاسی جماعتوں کے خلاف احتسابی کارروائیاں جاری ہیں ان کا مشتعل ہونا فطری ہے لیکن اس حوالے سے ایک فطری اور منصفانہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا احتساب کا یہ عمل بلاامتیاز کرپشن کے تمام مرتکبین کے خلاف ہو رہا ہے؟ جن لوگوں کے خلاف کرپشن کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں وہ کھلے عام یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ یہ احتساب امتیازی ہے بلکہ یہ تک کہہ رہے ہیں کہ یہ احتساب نہیں دشمنی ہے۔ اس جرأت کی وجہ یہ ہے کہ احتساب بلاتفریق نہیں ہو رہا ہے۔

مثال کے طور پر پانامہ لیکس میں 435 افراد کی کرپشن کے حوالے سے نشان دہی کی گئی ہے لیکن ان 435 افراد کے خلاف کارروائی کی خبریں میڈیا میں نہیں آرہی ہیں جس کی وجہ احتساب کا شکار ہونے والے برملا کہہ رہے ہیں کہ احتساب امتیازی ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ کہا جا رہا ہے کہ ہم سے دشمنی کی جا رہی ہے۔

اس اعتراف کے حوالے سے سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ انھیں نااہل کردیا گیا ہے ہم نا اہلی کے اس معاملے پر کیے جانے والے تمام اعتراضات کے جواب میں یہ ثبوت دے سکتے ہیں کہ ماضی میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی نااہل کردیا گیا تھا۔ کیا یوسف رضا گیلانی نے عدلیہ کے خلاف اس قسم کے اعتراض کیے، کیا یوسف رضا گیلانی نے عدالتی فیصلے کو ماننے سے انکار کیا؟ یوسف رضا گیلانی بھی ایک بڑی پارٹی کے وزیر اعظم تھے کیا اس پارٹی نے عدلیہ کے خلاف ایسی ہی مہم چلائی تھی جیسے موجودہ حکومت چلا رہی ہے؟

اہل عقل کے ذہن میں یہ سوال آنا فطری ہے کہ کیا اس احتساب کا مقصد ملک سے بلاامتیاز کرپشن کو ختم کرنا ہے تاکہ سر سے لے کر پیر تک کرپشن میں ڈوبا ہوا یہ ملک اس لعنت سے چھٹکارا پاسکے، اگر مقصد یہی ہے تو پھر ماضی سے حال تک جن لوگوں پر کرپشن کے الزامات ہیں کیا ان سب کے خلاف احتساب کیا جا رہا ہے؟ بدقسمتی سے اس کا جواب نفی میں آتا ہے۔ ہم نے تازہ مثال پانامہ کے 435 مرتکبین کی دی ہے کہ ان سب کے خلاف کارروائیاں کیوں نہیں کی جا رہی ہیں؟ ہوسکتا ہے 435افراد اتنی بڑی کرپشن کے مرتکب نہیں ہوئے ہوں جتنی بڑی کرپشن کے الزامات کا حکمران اشرافیہ کو سامنا ہے، لیکن جب ملک کو ان بلاؤں سے آزاد کرانا ہے تو یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کس نے کتنی کرپشن کی؟

اس حوالے سے عدلیہ کا یہ موقف مبنی بر حق ہے کہ کرپشن کے اتنے بڑے خاندان کا احتساب کرنے کے لیے ججز اور عملہ قطعی ناکافی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انھیں پینڈنگ میں رکھا جائے۔ کرپشن کا یہ مسئلہ ملک کی تاریخ کا بہت بڑا مسئلہ ہے جس سے نمٹنا ضروری ہے اس کے لیے نہ صرف افرادی طاقت میں اضافے کی ضرورت ہے بلکہ عدلیہ کو اتنے وسائل مہیا کرنا ضروری ہے جو سیکڑوں کرپشن کے ملزموں کے مقدمات سن سکے۔ اس حوالے سے ان ڈھائی ارب کا بینک لون ہڑپ کر جانے والوں کا ذکر ضروری ہے جو برسوں پہلے اس جرم کا ارتکاب کرچکے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اپنے اثر و رسوخ کی وجہ اب تک وہ اس کیس کو التواء میں ڈالنے میں کامیاب رہے ہیں۔
Load Next Story